نشہ آور اشیاء معاشرہ کی موت.....از:سید محمد زبیر مارکیٹ بھٹکل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th December 2016, 3:05 PM | اسپیشل رپورٹس |

سگریٹ،گٹکھا،گانجہ،بھنگ،چرس،کوکین،،افیم ،ہیروئین،وہسکی،،حشیش  وغیرہ نشہ آور اشیاء جن کے نام سن کر گھن آتی تھی جس کو جاہل اجڑ گنوار  اجڑی گلیوں جھونپڑ پٹیوں اور پسماندہ طبقہ کے لوگ استعمال کرنے کا شعور پایا جاتا تھا اور خصوصاً مسلم برادری میں اس کے استعمال کا تصور ہی نہیں تھا لیکن اب وہسکی بوتلیں اچھے اچھے گھرانوں کی فریج میں سلیقہ کے ساتھ سجی رکھی ہوتی ہیں ہیں جنھیں وہ خود پیتے ہیں اور اپنی بیویوں کو بھی نشہ کا عادی بناتے ہیں.

اس کا عادی ہونا اور انسان موت طاری ہونا یکساں معنی رکھتا ہے اس کے پینے سے انسان پر شیطان سوار یوجاتا ہے نیند  اور مدہوشی کی فضا طاری ہو جاتی ہے بیوی کی خواہش کو وہ پوری نہیں کرسکتا بدفعلی اور بدچلنی کا شکار عام ہوجاتا ہے والدین سے اس کا تعلق نہیں رہتا وہ گھر میں ایک مردہ لاش بن کر رہتا ہے اپنی آور بیٹیوں کی عزت کا سودا کرنے سے بھی نہیں چوکتا اخلاقی بگاڑ اس میں آتا ہے وہ کسی اور دنیا میں رہتا ہے گھر والوں پر ایک بوجھ بن کر جیتا ہے مختلف امراض کا شکار ہو جاتا ہے جگر اور گردے کی خرابی معدہ اور پر زخم سوجن امراض قلب اعصاب کی کمزوری بے خوابی ذیابیطس وغیرہ امراض اس کے اطراف مکھیوں کی طرح گھومتی پھرتی ہیں ہمارے نوجوان اس کا عادی بنتے جارہے ہیں ظاہر بات ہے جب یہ کسی معاشرہ کا رخ کریں اس معاشرہ کی موت ہوجاتی ہے وہ معاشرہ بیمار ہو جاتا ہے کتنے لوگ ہیں جو ناریل کے پانی میں وہسکی ملاکر پیتے ہیں چاکلیٹ میں نشہ آور جیزیں ملا کر کھاتے ہیں سگریٹ میں بھی ملاکر کش پر کش لیتے ہیں اللہ تعالٰی فرماتا ہے   

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِـرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (90)

اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔

اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطَانُ اَنْ يُّوْقِــعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِى الْخَمْرِ وَالْمَيْسِـرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّـٰهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ اَنْتُـمْ مُّنْتَـهُوْنَ (91)

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تم میں دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روکے، سو اب بھی باز آجاؤ۔

اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی حدیث میں فرمایا ’’الْخَمْرُ أُمُّ الْخَبَائِثِ فَمَنْ شَرِبَهَا لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ مَاتَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً‘‘شراب تمام برے کاموں کی جڑ ہے؛ لہذا جو شخص اس کو پئے گا اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اگر وہ اسی حالت میں مرے گا تو وہ زمانۂ جاہلیت کی موت مرے گا ( المعجم الاوسط ، باب من اسمہ شباب، حدیث نمبر ۳۶۶۷)اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شراب پیے گا اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف کرے گا۔اور اگر وہ دوبارہ پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرے گااور اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا،پھر اگر وہ پیتا ہے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرے گااوراگر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرے گا،اور اگر وہ چوتھی بار پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا اور اگر وہ توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گااور اس کو نہر خبال سے پلائے گا ، نہر خبال کے بارے میں لوگوں نے دریافت کیا تو آپ ؓ نے فرمایا یہ جہنمیوں کے پیپ کی نہر ہے اس سے اللہ شرابی کو پلائے گا (ترمذی،باب ماجاء فی شارب الخمر ، حدیث نمبر۱۸۶۲ اصلاح معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ ایسی چیزوں کا سدباب کیا جائے اس سلسلے میں نوجوانوں میں بیداری پیدا کی جائے اسکولوں اور کالج کے طلباء میں اس کے مضر اور خطرناک نتائج سے آگاہ کیا جائے قانونی دائرہ میں رہ کر اس کو روکنے کے لئے مہم چلائی جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

مسلمانوں کے داخلی انتشار کا سد باب کون کرے؟ از:عبدالمعیدازہری

جہاں اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام، انسانیت کی بنیاد پر اتحاد واتفاق اور رواداری کا مذہب ہے، وہیں یہ بات بھی افسوس کے ساتھ قابل یقین اور سبق آموز ہے کہ پوری دنیا کو اتحاد کی دعوت دینے والے مسلمان خود کئی فرقوں اور جماعتوں میں بٹ گئے ہیں۔

ساکشی کی دیدہ دہنی:بی جے پی کی نا معقول و ضاحت اور الیکشن کمیشن کی بے بسی تحریر:حامد اکمل

بی جے پی کے تئیں کسی سنجیدگی اور شائستگی کا حسنِ ظن رکھنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ لیکن اس کی ایسی حرکات کو معاف کرنا یا نظر انداز کرنا تہذیب ، شائستگی اور قومی یکجہتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ بی جے پی قائدین مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں مسلسل دریدہ دہنی کرتے رہتے ہیں اسے ان کی ...

فوج کو گھٹیا کھانا، مجرم کون ہے؟ ....... تحریر: منصور عالم قاسمی(ریاض، سعودی عرب)

جموں کشمیرمیں تعین ۹۲ویں بٹالین کا جوان تیج بہادر یادو پچھلے دو دنوں سے سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا تک موضوع بحث؛بی ایس ایف افسران اور سرکار کے لئے باعث ندامت و خجالت بنا ہوا ہے اور کیوں نہ ہوکہ اس نے ایک ایسی خامی کو بر سر عام کردیا ہے جس سے ملک میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جا ...

بھٹکل میں ایسا بھی ہوتا ہے : ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے             از:قادر میراں پٹیل

 میں کسی کام سے باہر تھا گھر لوٹتےہوئے شمس الدین سرکل سے آٹو میں سوار ہوکر گھرپہنچا ۔ گھر پہنچنے کے بعد آٹو ڈرائیور سے کرایہ کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے 40روپئے بتایاتو میں نے اس سے پوچھا کہ ابھی آدھ گھنٹہ پہلے یہاں سے وہیں گیا جہاں سے تمہارا رکشا میں نے پکڑا ہے ، اس آٹووالے ...

یوپی انتخاب: منظرنامہ پر ابھرتے نقوش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راحت علی صدیقی قاسمی

ہندوستان کی عظیم ریاست اتر پردیش میں انتخابی عمل کا اعلان ہوچکا،تمام سیاسی جماعتیں اور دھڑے اس صوبہ کی سیاسی اہمیت سے بھرپور واقف ہیں،ان کے علم میں ہے،یہاں فتح کا پرچم لہرانا،نمایاں مقام اور کامیابی حاصل کرنا کیا معنی رکھتا ہے،یہاں کی کامیابی دہلی کی راہیں ہموار کرتی ہے، ...

اسمبلی انتخابات میں سماجوادی کا جھگڑا اورمسلمانوں کی ذمہ داری! تحریر:ڈاکٹراسلم جاوید

آزاد ہندوستان کے سبھی انتخابات کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں عین ووٹنگ کے زمانے میں خود کو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتیں اپنی برتری کا احسا س دلانے کیلئے ہمیشہ اقلیتوں کوکئی ٹکڑوں میں منقسم کرکے انہیں تتر بتر کرکے مفلوج کرتی رہی ہیں اور مسلمانوں کے ووٹ کو منتشر کرنے ...