طلاق ثلاثہ سے متعلق مودی حکومت کے آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرنے کی ضرورت : اسد الدین اویسی

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 27th September 2018, 8:40 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

حیدرآباد27ستمبر (ایس او نیوز)  بیرسٹر اسد الدین اویسی رکن عاملہ مسلم پرسنل لا بورڈ و رکن پارلیمنٹ حیدرآبادنے طلاق ثلاثہ پر مرکز کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ آرڈیننس پر کہا کہ’’ یہ آرڈیننس دراصل رفائل،نیرو مودی،میہول چوکسی،پٹرول کی بڑھتی قیمتوں، کرپشن ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی امکانی شکست سے عوام کی توجہ ہٹنانے ‘‘ کی بی جے پی حکومت کی کوشش ہے ۔انہوں نے  حیدرآباد میں مجلس کے ہیڈ کوارٹر دارالسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکز کے آرڈینس پر کہا کہ ان کے خیال میں طلاق ثلاثہ کے اس آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ ایک دھوکہ ہے۔

آرڈیننس کا پہلا صفحہ یہ کہتا ہے کہ سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیردستوری قراردیاہے تاہم سپریم کورٹ نے ایسی کوئی بات نہیں کی بلکہ اس نے طلاق ثلاثہ کوصرف کالعدم قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا قانون بنانے سے سماج کی برائیوں کا خاتمہ نہیں ہوسکتا ۔ مرکز کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو آرڈیننس جاری کیا گیا ہے اس کے سیکشن دو یا تین میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی طلاق ثلاثہ دیتا ہے تو شادی ختم نہیں ہوتی لیکن مودی حکومت سے یہ سوال ہے کہ جب طلاق ثلاثہ دینے سے شادی نہیں ٹوٹتی تو پھرکیس کس بنیاد پردرج کیاجائے گا۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ جب کیس درج ہوجائے گا تو یہ طلا ق ثلاثہ دینے والے کو جیل میں بیٹھ کر اپنی بیوی کو الاونس دینا پڑے گا لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ الاونس تو طلاق کے بعد دیا جاتا ہے ۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کوئی جیل میں بیٹھ کر الاونس کیوں دے گا ۔ اس آرڈیننس میں تعزیری سزا کے احکام مقررکئے گئے ہیں جس سے خواتین کو نقصان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس آرڈیننس میں کئی نقائص اور غلطیاں ہیں۔

اسدالدین اویسی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مسلمان کے خلاف اس قانون کے تحت معاملہ درج کیاجاتا ہے تو اس کو تین سال کی سزا ہوگی اور اگر کسی غیر مسلم کے خلاف اس قانون کے تحت معاملہ درج کیاجاتا ہے تو اس کو ایک سال کی سزا ہوگی ۔اس میں بھی حکومت مخالف مسلم ہے ۔مساوات کا حق دستورمیں ہمارا بنیادی حق ہے۔ ۔اس طرح یہ آرڈیننس بنیادی حق کے مغائر اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس فوجداری معاملہ میں ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری عورت پر رکھی گئی ہے ۔

ہماراسماج سرپرستانہ نظام کا حامل ہے ،اس میں عورت کی جانب سے ثبوت فراہم کرنے کا کام کس طرح ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہر اعتبار سے یہ آرڈیننس غلط ہے۔سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری قرار نہیں دیا۔یہ ایک حقیقت ہے۔اس کے باوجود آرڈیننس جاری کیاجارہا ہے۔حکومت کا مقصد انصاف دلانا نہیں ہے۔اگر انصاف دلانا مودی حکومت کا مقصد ہوتا تو2001کی مردم شماری کے مطابق24لاکھ ایسی شادی شدہ خواتین ہیں ملک میں جو شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی اپنے شوہروں کے ساتھ نہیں ہیں۔ان خواتین میں 22لاکھ غیر مسلم ہیں۔ ان خواتین کو انصاف ملنا چاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

اشوک گہلوت کی حلف برداری تقریب میں راہل، منموہن سمیت کئی قدآور لیڈرہوں گے شامل

جے پور کے البرٹ ہال میں پیر کو کانگریس پارٹی اراکین کے لیڈر اشوک گہلوت اور ریاستی صدرسچن پائلٹ کی تاجپوشی تقریب میں کانگریس صدر راہل گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، ایچ ڈی دیوگوڑا سمیت کئی قدآور لیڈر شامل ہوں گے۔

بھٹکل انجمن کا طالب العلم میسور میں منعقدہ اسٹیٹ لیول پرتیبھا کارنجی مقابلے میں دوم

میسور میں منعقدہ ریاستی سطح کے پرتیبھا کارنجی اُردو تقریری مقابلہ میں بھٹکل انجمن ہائی اسکول کا طالب العلم  خبیب احمد اکرمی ابن مولانا خواجہ معین اکرمی مدنی دوسرا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

مینگلور: چار سالہ بچی کے ساتھ جنسی عمل۔عدالت نے دی ملزم کو دس سال قید بامشقت کی سزا

چار سالہ بچی کے ساتھ جنسی عمل کرنے والے ملزم چندرا شیکھر عرف راجیش (۴۹سال)کو سیکنڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس اور پوکسو اسپیشل کورٹ نے دس سال قید بامشقت اور 10ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

بھٹکل کے ہیبلے میں ناراض عوام نے لیا رکن اسمبلی کو آڑے ہاتھ؛ احتجاج کے باوجود رکھا گیا دو اسکولوں اور دو کالجوں کا سنگ بنیاد

بھٹکل رکن اسمبلی سُنیل نائک کو آج اتوار کو ہیبلے کے لوگوں نے اُس وقت آڑے ہاتھ لیتے ہوئے احتجاج کیا جب وہ وہاں سرکاری ہاڈی زمین پر دو اسکولوں اور دو کالجوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے پہنچے تھے۔ 

بنگلورومیٹرو برڈج میں خرابی کا نائب وزیراعلیٰ پرمیشور نے معائنہ کیا

شہر کے ایم جی روڈ پر ٹرینٹی سرکل کے قریب ایم جی روڈ بیپنا ہلی میٹرو روٹ کے پلر نمبر 155کے قریب ایک بیم میں دراڑ کا آج نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے معائنہ کیا اور کہاکہ اس سلسلے میں مرمت کا کام جاری ہے۔