اُڈپی میں بندروں کی اچانک ہلاکت کا سلسلہ جاری۔بندروں کا بخار پھیلنے کے خدشے سے ساحلی کرناٹکا کے عوام میں دہشت

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th January 2019, 1:41 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 12؍جنوری (ایس او نیوز)پڑوسی ضلع شموگہ کے ساگر تعلقہ میں  منکی فیور سے آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعداب  اڈپی ضلع کے کنداپور اور کارکلا تعلقہ جات میں مختلف مقامات پر بندروں کے اچانک ہلاک ہونے کے واقعات پیش آنے سے پورے ساحلی علاقہ کے  عوام میں دہشت پھیل گئی ہے کہ کہیں بندروں کے بخار(منکی فیور) کی وبااس علاقے میں نہ پھیل جائے۔

بتایاجاتا ہے کہ ضلع اُڈپی کے    کارکلاکے ہیرگانا،کے علاوہ کنداپور تعلقہ کے کنڈلور اور ہوسانگڈی کرناٹکا پاور سپلائی عمارت کے احاطے میں جمعرات کے دن بھی بیمار بندر اچانک آکر گرنے کی اطلاعات ملی ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ  بندروں  کے منھ سے بڑی مقدار میں جھاگ نکل رہاتھا۔ پھروہ تڑپ تڑپ کرمر ہوگئے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر روہنی نے بتایا کہ:’’ بندروں کی ہلاکت کا اصل سبب ابھی معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ ہلاک ہونے والے بندروں کا پوسٹ مارٹم کرکے ان کے اعضاء کے نمونے شیموگہ میں موجود وائرس تشخیص کرنے والی لیباریٹری میں بھیج دئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ مردہ بندروں کے جسم پر پائے گئے کھٹمل نما کیڑے (پِسُّو) بھی جانچ کے لئے لیباریٹری میں بھیج دئے گئے ہیں ۔ لیباریٹری کی رپورٹ دوچار دن میں مل جائے گی ۔ اس کے بعد ہی کچھ کہا جاسکے گا۔‘‘

خیال رہے کہ اس بیماری کو ’کیاسانور فاریسٹ ڈیسیز‘(کے ایف ڈی) بھی کہاجاتا ہے کیونکہ 1957میں شیموگہ کے کیاسانور جنگلاتی علاقے سے پہلی مرتبہ یہ بیماری دیکھنے میں آئی تھی جس میں سنکڑوں بندر ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد   یہ وبا انسانوں میں عام ہوگئی تھی۔  اب پچھلے کچھ ونوں سے شیموگہ ضلع کے ساگر میں بندر کے بخارکے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ساگر میں اب تک اس بخار سے آٹھ افراد کی موت ہوچکی ہے اور بہت سارے افراد اس کے وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔اس کے بعد اب شیموگہ سے متصلہ ضلع اڈپی  میں اس طرح بیمار بندروں کی موت واقع ہونے سے عوام کا خوفزدہ ہونا فطری بات ہے۔ جس کے بعد ضلع اُتر کنڑا کے  ہوناور، سداپور اور بھٹکل میں بھی  اس بیماری کو لے کر تشویش پائی جارہی ہے۔

اُڈپی کی ڈسٹرکٹ ملیریا ریگیولیٹری آفیسر ڈاکٹر پرشانت بھٹ نے بتایا کہ :’’ہم نے انسانوں میں اس بیماری کے اثرات پھیلنے کے تعلق سے معلومات اکٹھا کرنی شروع کردی ہے۔ابھی تک ایسا کوئی بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ہم نے احتیاطی طور پر ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے اور عوام کو چوکنا کیا جارہا ہے۔‘‘   معلوم ہوا ہے کہ محکمہ صحت کے علاوہ دیگرمختلف محکمہ جات کے اشتراک سے جنگلاتی علاقے سے قریب رہنے والوں کو محتاط رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: عوامی مطالبات پر شرالی میں30 میٹر کے بجائے 45 میٹرپر ہائی وے تعمیر ہوگی، مرکزی وزیر ہیگڈے کی یقین دہانی

شرالی میں عوامی مطالبات کے مطابق ہی 45میٹر کی توسیع کے ساتھ قومی شاہراہ ،فلائی اوور کی تعمیر کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جانے کی مرکزی وزیر اننت کمارہیگڈے نے جانکاری دی۔

بھٹکل میں 24جنوری کو اتی کرم داروں کی اہم میٹنگ

فاریسٹ اتی کرم داروں کے مسائل ابھی جوں کے توں باقی رکھتے ہوئے کوئی حل نکل نہیں آنے پر 24جنوری کی صبح 30-10 بجے بھٹکل تعلقہ اتی کرم داروں کی میٹنگ انعقاد کئے جانے کی بھٹکل تعلقہ فاریسٹ اتی کرم ہوراٹ سمیتی کے صدر راما موگیر نے پریس ریلیز کے ذریعے جانکاری دی ہے۔

بھٹکل تعلقہ کے استاد ریاستی سطح کے برجستہ تقریری مقابلے میں اول

کرناٹکا حکومت تعلیمات عامہ کے زیرا ہتمام بنگلورو میں اساتذہ کے لئے منعقدہ ریاستی سطح کے برجستہ تقریری مقابلے میں تعلقہ کے سرکاری ہائر پرائمری اسکول کوڈسولو کے استاد پرمیشور نائک مرڈیشور اسٹیٹ لیول پر اول انعام کے حق دار بنے ہیں۔

ہم بے قصور تھے، مگر وہ ہماری زبان سمجھنے سے قاصر تھے، ایرانی حراست سے رہا ہونے کے بعد ماہی گیروں کا بھٹکل میں والہانہ استقبال

دبئی سمندر میں ماہی گیر ی کے دوران ایرانی پولیس کی تحویل میں رہنے کے بعد واپس لوٹنے والے کمٹہ اور بھٹکل کے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ زبان کا تھا۔ ایرانی افسران ان کی زبان سمجھ نہیں رہے تھے ۔ اور ایرانی سمندری سرحد پار نہ کرنے کا یقین دلانے کے باوجود وہ لوگ ...

منڈگوڈ کی تبّتی کالونی میں فلمی انداز کا ڈاکہ۔ لاکھوں روپے نقد اورزیورات اڑا لے گئے لٹیرے

منڈگوڈ تعلقہ کی تبّتی کالونی میں سنیچر کے دن رات کے وقت فلمی انداز میں ڈاکہ ڈالا گیا جس میں گھر کے مالکان کو رسی سے باندھنے کے بعدلٹیروں نے گھر میں موجود 7لاکھ روپے نقد اور 4لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات پر ہاتھ صاف کردیا گیا۔