اُترکنڑا میں ڈینگو بخارسے متاثرہ36 بیمار زدوں میں 25افراد باہر سے آنے والے مریض ہیں : رواں سال ڈینگو کی شرح میں کمی

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 10th August 2017, 10:54 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:10/اگست (ایس اؤنیوز)بارش کی کمی و بیشی کی وجہ سے ڈینگو ، ملیریا جیسی بیماریوں میں اضافہ ہورہاہے ہر طرف دور دورہ ہے لیکن گذشتہ سال سے موازنہ کریں تو اترکنڑا ضلع میں اس کی شرح میں کمی آئی ہے۔ اب تک ضلع میں جو ڈینگو بخار  کے معاملات درج ہوئے ہیں ان میں سے اکثر باہر کے لوگ ہی متاثر پائے گئے ہیں۔ روزگار کو لے کر مختلف مقامات سے واپس  لوٹنےوالوں نے اپنے ساتھ اس بیماری کو ساتھ لایا ہے۔ اسی سے مسئلہ پیدا ہواہے۔ محکمہ صحت عامہ کی طرف سے ملی جانکاری کے مطابق 8اگست تک 36افراد ڈینگو سے متاثرہوئے ہیں تو ان میں سے 25لوگ باہر سے لوٹ کر آنے والے ہیں۔ دیگر ریاستوں اور اضلاع سے جو لوگ روزگار کے لئے واپس ضلع میں پہنچے ہیں تو انہوں نے اپنے ساتھ اس بخار کو بھی لایا ، جس کے نتیجے میں وہ  ضلع کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ساحلی پٹی پر ماہی گیر ی کے لئے بھٹکل کے عوام اکثر دکشن کنڑا اور اُڈپی  جاتے آتے رہتے ہیں، اور وہیں یہ لوگ  ڈینگو  بخار لے کر ضلع کو لوٹتے ہیں۔

محکمہ صحت عامہ سے ملی جانکاری کے مطابق امسال جولائی تک 118افراد ڈینگو بخار میں مبتلا پائے گئے، ان متاثرہ افراد میں سے 108مریضوں کے خون کی جانچ کی گئی  تو 33افراد ڈینگو میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ۔ 9اگست تک مزید 3تین لوگ ڈینگو سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی اس طرح یہ  تعداد بڑھ کر 36تک پہنچ گئی ہے۔

محکمہ صحت عامہ کی جانکاری کے مطابق۔ بنگلوروسے 12، میسور سے 3، ساگر ، منڈیا،  ڈاونگیرہ ، ہبلی ،بیجاپور ،ہاسن ، ممبئی ،  گجرات، آندھراپردیش ، کیرلا ، سے 1،1،فرد ڈینگو سے متاثر ہوکرواپس ضلع میں  لوٹ آئے ہیں اور یہاں آ کر اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ یہ تما م افراد روزگار کے سلسلے میں ان مقامات کو گئے  تھے۔ سال بہ سال ملیریا اور ڈینگو کی شرح کو دیکھیں تو تصویر کچھ اس طرح بنتی ہے۔

سال 2012میں کل 316۔ 2013میں 253۔ 2014 میں 47۔ 2015 میں 86۔ 2016 میں 64 اور سال 2017کے جولائی تک 27ملیریا کے معاملات درج ہوئے ہیں۔ اعداد و شمارات پر کہاجاسکتاہے کہ اترکنڑا ضلع میں گذشتہ پانچ سالوں کے ڈینگو معاملات کا موازنہ سال رواں کے جولائی تک کریں تو بیماری سے متاثروں کی شرح میں کمی آئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل:مٹھلی میں شراب دکان کے خلاف خواتین سمیت سیکڑوں دیہی عوام کا احتجاج: بند نہیں کیا گیا تو سخت احتجاج کی دھمکی

تعلقہ کے مٹھلی گرام پنچایت حدود کے ریلوے اسٹیشن کے قریب شروع کی گئی نئی شراب کی دکان بند کرنے کی مانگ لے کر دیہات کے سیکڑوں مرد وخواتین بدھ کی شام دکان کا گھیراؤ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

شرالی :فورلین کی تعمیر 30میٹر کے بجائے 45میٹر کی چوڑائی کے ساتھ تعمیر کرنےکا مطالبہ لے کر میمورنڈم

تعلقہ کے شرالی سے گزرنے والی قومی شاہراہ 66کو فورلین میں منتقل کئے جانے والے توسیعی تعمیری کام کو 45میٹر کی چوڑائی کے ساتھ ہی کئے جانے کا مطالبہ لے کر شرالی گرام پنچایت صدر وینکٹیش نائک کی قیادت میں گاؤں کے عوام نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم سونپا۔

بھٹکل: کے ایف ڈی سی کے ذریعے ماہی گیروں کے قرضے معاف :راجیندرنائک

ریاستی ماہی گیر ترقی بورڈ (کے ایف ڈی سی )گذشتہ 47سالوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نفع بخش راہ پر گامزن ہے ، بورڈ سے قرضہ لے کر گذشتہ 10-15سالوں سے ادا نہ کرتے ہوئے قرضہ نادہندوں کا 6057937روپئے قرضہ مکمل طورپر معاف کرنے کا بورڈ کے صدر راجیندر نائک نے اعلان کیا۔

کاروار :آئندہ ودھان سبھا انتخابات میں ضلع کے کسی بھی حلقہ سے امیدوار : اننت کمار ہیگڈے

آئندہ ودھان سبھا انتخابات سےپہلے ریاستی کانگریس کے دگج لیڈر اور وزیر برائے بڑی صنعت آر وی دیش پانڈے بی جے پی میں شامل ہونگے اور میں ودھان سبھا انتخابات کے میدان میں اترنے والا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار شمالی کینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے کیا۔

کمٹہ:پابندی کے باوجود بغیر کسی رکاوٹ کے غیر قانونی ریت سپلائی جاری:معاملے میں افسران بھی ملوث ہونے کا الزام

ریت سپلائی پر پابندی عائد ہونےکے باوجود افسران کی شمولیت کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ریت سپلائی جاری رہنے کا پتہ چلاہے۔تعلقہ کے ہیگڈے اور ماسور نامی مقامات پر بے دریغ ریت سپلائی جاری ہے، 407سواریوں ، آٹو رکشاکے ذریعے غیر قانونی طورپر ریت سپلائی ہورہی ہے، پابندی کے باوجود کسی خوف ...