6 دہائیوں تک تمل سیاست پر راج کرنے والے تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی کروناندھی چل بسے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th August 2018, 11:39 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

چینائی  7/اگست (ایس او نیوز) ہندوستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے جنوبی ہند کے عظیم رہنمااور ڈی ایم کے سربراہ ڈاکٹر ایم کروناندھی کا طویل علالت کے بعد چنئی کے کاویری اسپتال میں انتقال ہوگیا، ان کی عمر 94برس تھی۔

کاویری اسپتال کی طرف سے جاری بیان کے مطابق  کروناندھی نے آج منگل شام 6بج کر 10 منٹ بر آخری سانس لی۔ وہ کافی دنوں سے علیل تھے اور حالت بگڑنے پر انہیں28 جولائی کو اسپتال میں داخل کرایا گیاتھا۔

ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پوری ریاست میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ کل رات ان کی حالت نازک ہونے کے بعد ہی بڑی تعداد میں لوگ اسپتال کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے اور آج شام یہاں لوگوں کا زبردست ہجوم تھا۔وزیر اعظم نریندر مودی ،  صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند ،مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سمیت کئی رہنمائوں نے ان کے اتنقال پر رنج و غم کا اظہار کیا۔

مشہور فلمی اداکار کمل ہاسن نے کروناندھی کی موت کو انتہائی تکلیف دہ بتایا۔انہوں نےکہا کہ کروناندھی  سیاسی رہنما کے ساتھ ساتھ بہترین قلمکار بھی تھے۔ان کی رہائش پرپارٹی کے حامیوں اور ان کے مداحوں کی زبردست بھیڑ جمع تھی جس کے پیش نظر رپیڈ ایکشن فورس تعینات کردی گئی۔

 تازہ اطلاعات کے مطابق کرناٹک کی ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے فی الحال تمل ناڈو  کیلئے اپنی خدمات  بند کر دی۔کانگریس نے اپنے ٹوئٹر پر کروناندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کےسیاسی کارناموں کو یاد کیا۔ کانگریس نے کروناندھی کو ڈائنامک لیڈر قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ جمہوریت کے حقیقی علمبردار تھے۔ کانگریس نے لکھا ہے کہ کروناندھی نے تمل ناڈو اور ملک کے لیے جو کچھ کیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری اشوک گہلوت، کانگریس سینئر لیڈر سی پی جوشی، مشہور و معروف اداکار رجنی کانت اور ہندوستان کے سابق کرکٹر ویریندر سہواگ نے ٹوئٹ کے ذریعہ اظہار افسوس کرتےہوئےڈاکٹرکروناندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔کروناندھی کے جسد خاکی کو ان کی رہائش گوپال پورم لے جایا جائے گاجہاں عوام کے دیدار کیلئے راجہ جی ہال میں رکھا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق کل شام ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ یہ رسومات چنئی کے مرینا بیچ پر ادا کی جائیں گی۔

تمل سیاست پر راج  کرنے والے کروناندھی:

کروناندھی نے محض 14 سال کی عمر میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ جنوبی ہند میں ہندی مخالفت جب زوروں پر تھی تو وہ بھی ’ہندی ہٹاؤ تحریک‘ میں بڑھ چڑھ کر شامل ہوئے تھے۔

تقریباً 6 دہائیوں تک تمل ناڈو کی سیاست پر راج  کرنے والے  کروناندھی نے آخر کار دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ 5 بار تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ رہے کروناندھی دراوڑ سیاست کی پیداوار تھے۔ جنوبی ہند میں فلموں سے سیاست میں قدم رکھنے کی روایت بہت قدیم ہے۔ پانچ بار تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور 12 مرتبہ رکن اسمبلی  رہے ڈی ایم کے سربراہ کروناندھی بھی اسی طرح سیاست میں آئے۔ ہندوستانی سیاست میں ایک الگ ہی شناخت رکھنے والے کروناندھی تمل فلم انڈسٹری کے ایک ڈرامہ آرٹسٹ اور اسکرپٹ رائٹر تھے۔ اس لیے ان کے چاہنے والے انھیں ’کلینر‘ کہہ کر بلاتے ہیں یعنی تمل آرٹ کا عالم۔

پہلی بار کروناندھی نے 1969 میں وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ اسی سال ڈی ایم کے پارٹی کے بانی سی این انادورائی کی موت کے بعد کروناندھی کے ہاتھ میں پارٹی کی کمان آئی۔ کروناندھی کو تیروچیراپلی ضلع کے کلیتھالائی اسمبلی سے 1957 میں تمل ناڈو اسمبلی کے لیے پہلی بار منتخب کیا گیا۔ 1961 میں وہ ڈی ایم کے خزانچی بنے اور 1962 میں ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر بنے۔ 1967 میں ڈی ایم کے جب اقتدار میں آئی تب کروناندھی پبلک ورکس کے وزیر بنے۔

کروناندھی نے محض 14 سال کی عمر میں سیاست میں قدم رکھا۔ جنوبی ہند میں ہندی مخالف تحریک پر انھوں نے سخت رخ اختیار کیا اور ’ہندی ہٹاؤ تحریک‘ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1937 میں اسکولوں میں ہندی کو لازمی کرنے پر بڑی تعداد میں نوجوانوں نے مخالفت کی، ان میں کروناندھی بھی ایک تھے۔ اس کے بعد انھوں نے تمل زبان کو ہتھیار بنایا اور تمل میں بھی ڈرامہ اور اسکرپٹ لکھنے لگے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی آفس کے پاس پھر سوامی اگنی ویش کی پٹائی

بی جے پی آفس کے پاس جمعہ کو سوامی اگنی ویش کی پھر سے پٹائی ہوئی ۔ ایک خاتون نے ان کے اوپر چپل پھینک کر مارا جبکہ کئی لوگ انہیں مارنے کی کوشش کر رہی رہے تھے کہ پولس نے بچاو کرتے ہوئے انہیں اپنی گاڑی میں بیٹھا کرلے کر چلی گئی۔

کووند ،مودی ،پرنب ،منموہن ،سونیا نے واجپئی کو خراج عقیدت پیش کیا

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند،وزیراعظم نریندرمودی ،سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی ،سابق وزیراعظم منموہن سنگھ ،سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی ،ترقی پسند اتحاد کی چیئرپرسن سونیاگاندھی ،مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ ،وزیرخارجہ سشما سوراج ،کئی وزرائے اعلی ،رہنماؤں اور سرکردہ ...

بتیامیں شرپسندوں کے ذریعہ مسجدومدرسہ پر حملہ قابل مذمت:مولانااسرارالحق قاسمی

ممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے یوم آزادی کے موقع پر چمپار ن کے بتیاکی ہاتھی خانہ مسجد ومدرسہ پرشرپسندوں کے ذریعہ کئے گئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیاہے۔انہوں نے کہاکہ آج کے دن جبکہ پورا ملک آزادی کا جشن منارہاہے اور ہر ...

وینکیانائیڈونے واجپئی کوآزادہندوستان کاسب سے بڑالیڈربتاکرخراج عقیدت پیش کیا

نائب صدر ایم وینکیا نائیڈونے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے انتقال پر گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کوملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان بتایا ہے۔نائیڈو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ یہ خبرانتہائی افسوسناک ہے کہ اٹل جی نہیں رہے۔میں آج صبح ہی ان کی صحت کی معلومات لینے ...

ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ نے شکرتال گھاٹ پر بہاؤ میں تیزی لانے پر تبادلہ خیال کی خاطر میٹنگ کی 

آبی وسائل، دریا کی ترقی اور گنگا کے احیاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ نے آج شکرتال گھاٹ پر پانی کے بہاؤ میں تیزی لانے کے معاملے پر ایک میٹنگ کی صدارت کرتیہوئے اترپردیش اور اتراکھنڈ کے آبپاشی کے محکموں کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ دریائے گنگا کی معاون ندی سلونی میں ...

کورگ میں بارش کی بھاری تباہی ، تین اموات،زمین کھسکنے کے متعدد واقعات 

جنوبی ہند کا کشمیر کہلانے والے ریاست کے کورگ ضلع میں بارش نے زبردست تباہی مچادی ہے۔ ایک طرف بارش کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے تو دوسری طرف پڑوسی ریاست کیرلا میں طوفانی بارش کے سبب وہاں کی ندیوں کا پانی بھی کرناٹک کی طرف بہادیا گیا ہے،

مہادائی ٹریبونل کے فیصلے کا چیلنج کرنے ریاستی حکومت تیار

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے بعض اضلاع کو پینے کے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ مہادائی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں حال ہی میں ٹریبونل نے جو فیصلہ صادر کیا ہے ریاستی حکومت اس کا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔