کرناٹک اسمبلی انتخابات: کانگریس کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے کماراسوامی نے کی گورنر سے ملاقات؛ یڈی یورپا نے بھی کیا سرکار بنانے کا دعویٰ؛ گورنر کے پالے میں گیند

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th May 2018, 10:17 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بھٹکل  15/مئی (ایس او نیوز) کرنا ٹکا  اسمبلی انتخابات کے نتائج کی تصویر تقریبا صاف   ہوچکی ہے.اور ملی جلی سرکاربننا طے ہوچکا ہے مگر دوسری طرف بی جے پی ریاست میں سب سے بڑی پارٹی بن کراُبھری  ہے البتہ  اُس کے پاس حکومت بنانے کے لئے جادوئی ہندسہ نہیں ہے۔ مگر بڑی پارٹی بن کر سامنے آنے کی وجہ سے  یڈی یورپا نے ریاست کے گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے  بی جے پی کی جانب سے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کردیا ہے۔

اُدھر کانگریس کی طرف سے جے ڈی ایس کو حمایت حاصل ہوتے ہی کماراسوامی نے بھی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کردیا ایسی صورتحال میں  اب گیند گورنر کے پالے میں ہے، اور گورنر حکومت کا دعویٰ پیش کرنے کس پارٹی کو موقع دیتے ہیں، ہر ایک کی نظریں اُسی پر ٹکی ہوئی ہے۔

کرناٹک انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے کے  بعد، بی جے پی  سب سے زیادہ سیٹوں کے ساتھ اُبھری ہے لیکن حکومت بنانے کے  ہندسے کو پار نہیں کرسکی ہے، اس کے بائوجود بی جے پی سرکار   بنانے کی تیاری میں  ہے. یڈی یورپا نے کہا، "ہم سب سے بڑی پارٹی  ہے اور ایسے میں  سرکار بنانے کا موقع ہمیں  ملنا چاہئے۔یڈی یورپا کے مطابق   بی جے پی 100 فیصد حکومت بنائے گی اور اسمبلی میں اکثریت ثابت کرے گی.

اُدھر گورنر سے مل کر سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کے بعد میڈیا سے  گفتگو کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ کانگریس نے بنا شرط جے ڈی ایس کو حمایت دی ہے۔ سدرامیا نے کہا کہ گٹھ بندھن کی شرطوں پر بعد میں فیصلہ ہوگا۔ پہلی ترجیح   حکومت کی تشکیل ہے. کانگریس رہنما نے دعوی کیا کہ ان  کے پاس  جادوئی  نمبر ہے. انہوں نے کہا کہ دو آزاد اُمیدواروں  کی حمایت بھی جےڈی ایس ۔ کانگریس اتحاد کے ساتھ  ہے.

یڈی یورپا  منگل کی شام کے قریب  پانچ بجے پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ راج بھون پہنچے تھے اور گورنر سے ملاقات  کرتے ہوئے  حکومت بنانے کا دعوی پیش کیا تھا۔یڈی یورپا نے بعد میں  کہاکہ ، "ہم سب سے بڑی پارٹی کے طور پر حکومت بنانے کا  دعوی پیش کرکے آئے ہیں. ہم نے گورنر سے ملاقات کی ہے کیونکہ ہم  نے کرناٹک میں سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر جیت درج کی ہے۔ اس لئے ہم اسمبلی میں اکثریت پیش کریں گے. '

یڈی یورپا کے ساتھ بی جے پی کے رہنما اننت  کمار ، شوبھا کرندلاجے اور راجیو چندرشیکھر نے بھی گورنر سے ملاقات کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام نشستوں میں اب تک الیکشن کمیشن کی طرف سے نتائج نہیں پہنچے ہیں اور سرکاری اعداد و شمار گورنر کے سامنے بھی نہیں پہنچے ہیں. آخری فیصلے کے لئے  گورنر نے بھی  حتمی فیصلے کے لئے حتمی نتائج کا انتظار کرنے کا عندییہ دیا ہے۔

دوسری طرف کانگریس اور جے ڈی ایس نے ایک ساتھ آنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ دونوں پارٹیاں  ساتھ مل کر حکومت بنانے کا ہندسہ پار کررہے ہیں۔ جے ڈی ایس اور کانگریس نے ایچ دی کماراسوامی کو اپنا وزیراعلیٰ کا اُمیدوار بنانے  کا اعلان کیا  ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔