کوٹلہ مبارک پورکے یتیم خانے کا مسئلہ؛اقلیتی کمیشن نے کی، ملزمین کو سزا دلانے کے لئے پولس تھانوں میں شکایت درج کرانے کی درخواست؛ خاموش رہیں گے تو اُن کے حوصلے بڑھیں گے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th February 2018, 1:46 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی 8/فروری (ایس او نیوز/پریس ریلیز) کچھ عرصہ قبل اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ دہلی کے کوٹلہ مبارکپور علاقے میں واقع ایک یتیم خانہ نے ایک اعلی تعلیم یافتہ مسلم لڑکی کو صرف اس لئے کام دینے سے منع کردیا تھاکہ باحجاب ہونے کی وجہ سے وہ "دور سے مسلم نظر آتی ہے"۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے مذکورہ مسلم لڑکی کا فون نمبر حاصل کرکے اس سے تفصیلات معلوم کیں اور اسے باقاعدہ شکایت درج کرنے کو کہا لیکن وہ لڑکی شکایت درج کرنے پر راضی نہیں ہوئی۔اس وجہ سے کمیشن نے اس مسئلے پر از خود  (سوو موٹو) نوٹس لیتے ہوئے کوٹلہ مبارکپور پولیس اسٹیشن کو رپورٹ فائل کرنے کو کہا۔
 
مذکورہ پولیس اسٹیشن نے کمیشن کو اطلاع دی ہے کہ علاقے میں تحقیقات کرنے پر ایسا کوئی یتیم خانہ نہیں پایا گیا اور نہ ہی کسی نے اس بات کی پولیس میں کوئی شکایت درج کی ہے، اس لئے پولیس نے درخواست کی کہ یا تو مذکورہ یتیم خانے کا پتہ دیا جائے یا کیس کو خارج کردیا جائے۔ چونکہ کمیشن کے پاس پتہ نہیں تھا، اس لئے کیس بند کردیا گیا۔
 
ڈاکٹر ظفرالاسلام نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہماری اخلاقی کمزوری ہے کہ ہم صحیح طریقے سے کیسوں کی پیروی نہیں کرتے ہیں اور وقت نہ ہونے یا زحمت کا بہانہ کرتے ہیں، یا کسی مصلحت کی وجہ سے خاموش رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ملزمین کو نہ صرف سزا نہیں ملتی ہے بلکہ ان کو مزید شہ ملتی ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کی غیر قانونی سرگرمی جاری رکھیں۔ لوگوں کو سامنے آنا چاہئے اور اپنا وقت خرچ کرکے نہ صرف ایک خاص واقعے کے بارے میں انصاف حاصل کرنا چاہئے بلکہ ایسا کرکے آگے کا سد باب بھی کرنا چاہئے کیونکہ جب مجرمین کو لگے گا وہ بھی مصیبت میں پڑ سکتے ہیں تو وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں گے اور دوسرے لوگوں کو اس سے نصیحت ملے گی۔ یاد رہے کہ اقلیتی کمیشن یا پریس کاونسل میں کیس درج کرانے کی کوئی فیس نہیں ہے لیکن وقت ضرور دینا پڑتا ہے۔
 
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بریلی کی ستائش
 پچھلے دنوں اُترپردیش کے  کاس گنج فساد کے سلسلے میں بریلی کے انصاف پسند ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رگھویندر وکرم سنگھ کی فرقہ پرستوں نے اس وقت بہت بے عزتی کی جب انہوں نے فساد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ ’ایک عجیب طریقہ آج کل شروع ہوگیا ہے۔ مسلمانوں کے محلوں میں مظاہرے لے کر جاؤ اور پاکستان کے خلاف نعرے لگاؤ۔ کیوں؟ کیا یہ لوگ پاکستانی ہیں؟ یہی بات بریلی کے کھیلام گاؤں میں ہوئی تھی، پھر پتھرپھینکے گئے تھے اور ایف آئی آر درج کی گئی تھی‘‘۔

رگھویندر سنگھ کے موقف کی ستائش کرتے ہوئے صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے ان کو خط لکھ کر مبارکباد دی ہے ۔ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے خط میں لکھا ہے: ’’آپ صحیح معنی میں ہمارے ملک اور ہماری سوسائٹی کے سیکولر اور انسان دوست اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جو لوگ آپ کے خلاف بول رہے ہیں وہ ہماری مین سٹریم اور قومی روح کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے موقف اور درست اصول کی ستائش کی ہے۔ اگر آپ جیسے لوگ ذمہ دار عہدوں پر ہوں گے تو ہمیں وہ امن وسلامتی میسر ہوگی جس کے بغیر ہمارا ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ براہ کرم ہماری ستائش کو قبول کریں اور یہ نہ سمجھیں کہ انصاف اور حق کی جدوجہد میں آپ اکیلے کھڑے ہیں۔ اس ملک میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو آپ کی تائید کرتے ہیں اور جب بھی مشکل حالات اور چیلنج ان کے سامنے آتے ہیں تو ان کا رویہ بھی آپ ہی جیسا ہوتا ہے‘‘۔
(ختم)

ایک نظر اس پر بھی

سوشل میڈیا سے کیوں رہتے ہیں نتیش کماربرہم، اسٹیج پر کیا انکشاف، پہلے بخار وائرل ہوتا تھااب فرضی فوٹو اور ویڈیو وائرل ہوتے ہیں : نتیش کمار 

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سوشل میڈیا سے خفا ہیں، انہیں سوشل میڈیا نہیں راس آتا ہے ۔ سوشل میڈیا کے تئیں ان کی کیا رائے ہے اس سلسلے میں ا نہوں ا زخود اس کا خلاصہ کیا ہے ۔

آسارام کیس کے متعلق آنے والے فیصلہ کا لیڈران نے خیر مقدم کیا، اب وقت آگیا ہے کہ سچے اور ڈھونگی باباؤں کے درمیان تمیزکی جائے: اشو ک گہلوت 

سیاسی لیڈران اور سماجی کارکنوں نے نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے معاملہ میں خود ساختہ بابا آسارام کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلہ کا استقبال کیا ہے

ہنس راج اہیر نے بائیں باز کی انتہا پسندی والے علاقوں میں موبائل رابطے کا جائزہ لیا 

امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب ہنس راج گنگا رام اہیر نے آج یہاں ملک کے بائیں کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ اضلاع میں موبائل رابطے کے مسئلے کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔

کابینہ نے راجستھان کے معاملے میں درج فہرست علاقوں کے اعلان کو منظوری دی 

مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں آئینی حکم (سی۔ او) 114 بتاریخ12فروری1981کورد کرتے ہوئے آئین ہند کی پانچویں فہرست کے تحت راجستھان کے معاملے میں درج فہرست علاقوں کے ا علان اورنئے آئینی حکم کی اشاعت کو منظوری دی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ گاندھی نگر میں مغربی زونل کونسل کی 23ویں میٹنگ کی صدارت کریں گے 

گجرات، مہاراشٹر، گوا کی ریاستوں اورمرکزکے زیر انتظام علاقے دمن و دیو اور دادرا و نگر حویلی پر مشتمل مغربی زونل کونسل کی23ویں میٹنگ کل گجرات کے شہر گاندھی نگر میں منعقد ہوگی ۔مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اس میٹنگ کی صدارت کریں گے۔

راہول گاندھی کل جمعرات کو پہنچ رہے ہیں بھٹکل ؛ جمعہ کو  جائیں گے مینگلور

  مئی 12 کو ہونے والے کرناٹکا اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے حق میں پرچار کرنے کل  26اپریل کو اے آئی سی سی صدر راہول گاندھی بھٹکل پہنچ رہے ہیں، جس کے لئے بھٹکل وینکٹاپور میدان میں تیاریاں زوروں سے جاری ہیں۔

بھٹکل انجمن انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ مینجمنٹ کے شعبہ ایم بی اے میں طلبا کے شاندار نتائج

انجمن انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ مینجمنٹ بھٹکل کے شعبہ ایم بی اے کے فسٹ اور تھرڈ سمسٹر کے نتائج میں کالج طلبا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالج اور شہر کا نام روشن کیاہے۔