کرناٹک کانگریس میں جم کر ہنگامہ، سڑک پر اترے کارکن، پارٹی کے دفتر میں توڑ پھوڑ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 11:35 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،16؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کانگریس نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لئے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے لیکن اس فہرست کو لے کر امیدواروں میں ناراضگی ہے۔لسٹ کوجاری ہوتے ہی کارکنوں کے درمیان ہنگامہ ہو گیا اور مخالفت میں کارکردگی اور ریلیاں نکالی گئیں۔کئی لیڈروں نے تو پارٹی سے استعفی دینے کی بھی دھمکی دی ہے۔لیڈروں نے سی ایم سددھارمیا پر من مانی کا الزام لگایا ہے۔وہیں پارٹی کارکنوں نے پارٹی آفس میں جم کر توڑ پھوڑ کی۔ ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سڑک پر جو لوگ اتر آئے ہیں وہ شمالی کرناٹک میں وزیر اعلی سددھارمیا کے حامی تھے، انہیں امید تھی کہ سی ایم ان کے لئے بدامی حلقہ سے لے کر میسور ضلع کے چامنڈیشوری تک سیٹیں دلائیں گے۔کنگل، کولار، کوللیگل، بیلور، بدامی، کتور، نیلمگلا اور دیگر کئی اسمبلیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہیں۔ان کی امید افواہوں پر نہیں بلکہ مشکل حقائق پر مبنی تھی۔ان کے دفتر نے اس تاریخ کا اعلان بھی کیاتھا جب وہ دو سیٹوں سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے لئے مقرر تھا۔بادامی کے لئے23اپریل اور چامنڈیشوری 20 اپریل کو دیے گئے تھے۔ان کی مایوسی کو حقائق کی روشنی میں بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ بادامی کے موجودہ رکن اسمبلی نے وزیر اعلی کے لئے سیٹ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور یہ ایک محفوظ حلقہ سمجھا جاتا تھا۔تمام فہرست کو لے کر ایک جھٹکا لگا جب دیوراج پاٹل کو بدامی سیٹ دی گئی۔ایک رہنما نے کہا کہ ان دو سیٹوں سے انتخاب لڑنے سے غلط شبیہہ بنے گی کہ ریاست کی سیاسی پارٹی غیر مستحکم ہے۔حالانکہ پارٹی میں ایسے دیگر لوگ ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ سددھارمیا نے فہرست میں ایک بیان دیا تھا۔ان کے مطابق ان کے زیادہ تر پیروکاروں کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ مایوس اس لیے بھی ہیں کیونکہ کچھ پارٹی کے لوگ جو انہیں ناپسند کرتے ہیں انہیں بھی شامل کیا گیا ہے۔حال ہی میں پارٹی میں آٹھ افراد شامل ہوئے، جو کانگریس یا جنتا دل (ایس)کے تھے، وہ تمام الیکشن لڑ رہے ہیں۔مسلم کمیونٹی میں بھی عدم اطمینان ہے کیونکہ کمیونٹی کے صرف 15 ممبر ہی نامزد ہیں جبکہ پچھلی بار انیس مسلم امیدواروں نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں لڑے تھے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم زوروں پر

پانچ حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ شیموگہ منڈیا اور بلاری لوک سبھا حلقوں اور رام نگرم اور جمکھنڈی اسمبلی حلقوں کے لئے کانگریس جے ڈی ایس اور بی جے پی اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔

کوئلے کی فراہمی نہ ہونے کے سبب بیشتر پاور پلانٹوں میں کام بند، دیوالی تہوار سے ریاست میں لوڈ شیڈنگ کا امکان

روشنیوں کا تہوار کہلانے والے دیوالی کااہتمام کرناٹک میں اندھیروں کے ساتھ کرنے کے خدشات پیدا ہوچکے ہیں، کیونکہ ریاست میں بجلی کے ترسیل کے اہم ترین ذرائع سمجھے جانے والے تھرمل پاور پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لئے درکار کوئلہ نہیں ہے۔

کابینہ میں ردوبدل کا موضوع پھر ابھرنے لگا، 6؍ نومبر کوراہل گاندھی کے ساتھ ریاستی قائدین کی میٹنگ

ضمنی انتخابات کے بعد ریاستی کابینہ میں ردوبدل اور سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کے تقرر کے واضح اشاروں کے درمیان کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے ریاستی قائدین کو پولنگ کے فوراً بعد دہلی آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سی بی آئی نے راکیش استھانہ کے خلاف جس قانون کے تحت بنایا کیس، وہ قانون اب ہے ہی نہیں

مرکزی تفتیشی بیورو( سی بی آئی ) نے اپنے خصوصی ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے خلاف جو کیس کیا ہے، اس میں قانونی کوتاہیوں کی بھرمار ہے۔ نجی ٹی وی NDTV کے مطابق یہ ا طلاعات اس وقت ملی، جب سی بی آئی کے دونوں اعلی افسران کی لڑائی منگل کو دہلی ہائی کورٹ پہنچ گئی۔

عام آدمی پارٹی نے تین نئے سیل قائم کیے

عام آدمی پارٹی (آپ) نے لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر پارٹی کا ڈھانچہ مضبوط کرنے کے لیے علاقائی بنیاد پر تین نئے سیل قائم کرتے ہوئے پوروانچل، اتراکھنڈ اور جنوبی بھارتی سیل میں ذمہ داروں کو مقرر کیا ہے۔

ممتا کے ہاتھوں جواں سال لخت جگر کے قتل کا معاملہ ، مجھے پولیس اور قانون پر پورا بھروسہ ہے: رمیش یادو

مبینہ ’مشتبہ حالات‘ میں اپنے بیٹے کو کھونے والے اترپردیش قانون ساز کونسل کے چیئرمین رمیش یادو نے پولیس اور قانون پر پورا بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ ان کے بیٹے کو انصاف ضرورملے گا۔