جسٹس کورین کے انکشاف پر کانگریس نے مانگی مودی سے وضاحت

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 4th December 2018, 10:43 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی  دہلی 4/ڈسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ  جسٹس کورین جوسف نے سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کے تعلق سے جو بیان دیا ہے، اُس پر کانگریس نے  وزیراعظم نریندر مودی سے وضاحت طلب کی ہے اور کہا ہے کہ جسٹس کورین جوسف نے سپریم کورٹ کے کام کاج کے سلسلے میں جو انکشاف کیا ہے وہ جمہوریت کے لئے انتہائی سنگین ہے ۔

جسٹس کورین جوسف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا  کہ  کئی ایک معاملات میں باہری مداخلت محسوس کی گئی  ہے اور کئی اہم معاملات کے سلسلے میں عدالت پر دباو ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے اور اسی کا نتیجہ میں  عدالت عظمی کے چار ججوں کو میڈیا کے سامنے آنا پڑا تھا۔

کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ جسٹس جوسف کے اس انکشاف سے واضح ہوگیا ہے کہ مودی حکومت اعلی ترین عدالتی ادارہ کو ریموٹ کے ذریعہ کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، سنٹرل ویجی لنس کمیشن جیسے اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق کام لینے کے لئے مجبور کررہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ عدالت عظمی میں باہری مداخلت کا معاملہ بے حد سنگین ہے۔ یہ جمہوریت کے لئے ہلاکت خیز ہے ۔ یہ ابتدا کس نے کی اور کب کی ہے۔ کن معاملات میں باہری مداخلت ہوئی ہے اس کی وسیع اور غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہئے اور پارٹی اس کے لئے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی اور عدالتی انکوائر ی کا مطالبہ کرتی ہے۔

سنگھوی نے کہا کہ عدالت عظمی کے کام کاج میں مداخلت کرنے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ کن معاملات میں حکومت کی جانب سے دخل اندازی کی کوشش کی گئی ۔ اس کی غیر جانبدارانہ چھان بین ضروری ہے۔ مودی کو اس معاملے میں خود سامنے آنا چاہئے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سابق جسٹس کے بیان پر فوراَ وضاحت پیش کرکے اس کی جانچ کرانی چاہئے۔

کانگریس ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کے کام کاج کے بارے میں اہم عہدوں پر تعینات لوگ سوال اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی حکومت کے سابق اقتصادی مشیراروند سبرامنیم نے نوٹ بندی کو حکومت کی سب سے بڑی ناکامی بتایا اور اب دو دن پہلے ریٹائر ہوئے چیف الیکشن کمشنر او پی راوت نوٹ بندی کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مود ی حکومت میں خود مختار اداروں کے کام کاج میں دخل اندازی کی فہرست کافی طویل ہے ۔ ہر ادارہ میں مداخلت کی کوشش کی گئی ہے لیکن ملک میں اعلی ترین عدالتی ادارہ میں دخل اندازی خطرناک ہے اور اس کے بارے میں ملک کے سامنے پوری صورت حال واضح کی جانی چاہئے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے اس معاملے میں غیر جانبدارانہ انکوائری کی امید کی جاسکتی ہے اس لئے اس کی تشکیل کی جانی چاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔

بھٹکل کے مرڈیشور میں دو لوگوں پر حملے کی پولس تھانہ میں دو الگ الگ شکایتیں

تعلقہ کے مرڈیشور میں کل جمعرات کو  دو لوگوں پر حملہ اور پھر جوابی حملہ کے تعلق سے آج مرڈیشور تھانہ میں دو الگ الگ شکایتیں درج کی گئی ہیں اور پولس نے دونوں پارٹیوں کی شکایت درج کرتے ہوئے چھان بین شروع کردی ہے۔

مرڈیشور میں غیر ضروری بات کو لے کر ماحول خراب کرنے کی کوشش؛ سری رام سینا لیڈر اسپتال میں داخل

تعلقہ کے مرڈیشور میں  سری رام سینا  ضلعی صدر مسلم نوجوانوں سے اُلجھنے کے بعد زخمی ہو کر سرکاری اسپتال میں داخل ہونے کی واردات پیش آئی ہے، جس کے بعد سوشیل میڈیا پر زخمی شخص  کے فوٹو کے ساتھ مسیجس پھیلاکر عوام میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

گوا کے افسران نے10لاکھ روپے مالیت کی مچھلیاں برباد کردیں۔کاروار کے مچھلی فروش کا الزام

ضلع شمالی کینرا کے ماہی گیروں کے لیڈر نے الزام لگایا ہے کہ گواحکومت انتقامی کارروائی کی راہ اپناتے ہوئے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعدبھی کرناٹکا سے گوا میں لے جائی مچھلیوں کوتباہ کررہی ہے۔

منگلورومیں نوجوان کو اغوا کرکے تاوان وصول کرنے والے نکلے منشیات فروش۔ 2.89لاکھ روپے مالیت کی اشیاء ضبط

چند دن پہلے فالنیر علاقے سے شماق نامی نوجوان کو اغوا کرنے اور بعد میں 50ہزار روپے تاوان وصول کرکے چھوڑنے والے کے الزام میں گرفتار کیے گئے گوتم(۲۸سال) اور لوئی ویگس (۲۶سال)کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ منشیات فروشی کے دھندے میں ملوث ہیں۔