ساکشی کی دیدہ دہنی:بی جے پی کی نا معقول و ضاحت اور الیکشن کمیشن کی بے بسی تحریر:حامد اکمل

Source: S.O. News Service | By Safwan Motiya | Published on 15th January 2017, 12:09 PM | اسپیشل رپورٹس |

بی جے پی کے تئیں کسی سنجیدگی اور شائستگی کا حسنِ ظن رکھنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ لیکن اس کی ایسی حرکات کو معاف کرنا یا نظر انداز کرنا تہذیب ، شائستگی اور قومی یکجہتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ بی جے پی قائدین مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں مسلسل دریدہ دہنی کرتے رہتے ہیں اسے ان کی عادت قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ بی جے پی کے غلیظ فطرت ایم پی ساکشی مہاراج (جسے مہارج لکھنا ، مہاراجوں کی توہین ہے ) نے مسلمانوں کے خلاف جارحانہ تبصرے کے ذریعے اُتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹوں کی صف بندی کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے اس نے اپنے بیان میں مسلمانوں کا نام نہیں لیا ہے، لیکن اس کا اشارہ مسلمانوں ہی کی طرف ہے کیونکہ ایسی فطرت کے لوگ ابھی تک ہندوستان میں مسلم دورِ حکومت سے پریشان ہیں ۔ ساکشی نے میرٹھ کی ایک دھارمک تقریب میں کہا کہ ہندوستان میں آباد ی میں اضافے کے لئے ہندو ذمہ دار نہیں ، بلکہ وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو چار بیویوں اور چالیس بچوں کا نظریہ رکھتے ہیں ۔ پولیس نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی اور خود الیکشن کمیشن نے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بادی النظر میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے ۔ انتخابات سے پہلے ایسے اشتعال انگیز تبصرے اور مذہبی منافرت پیدا کرنے والے بیانات جاری کرنا بی جے پی کا معمول ہے اس سے ووٹوں کا حصول مقصد ہے لیکن ا س سے جو اشتعال انگیزی پھیلتی ہے وہ بعض اوقات بد امنی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور نفرت کی وجہ سے قومی اتحاد اور یک جہتی متاثر ہوجاتی ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس لیڈروں کا یہ پسندیدہ مشغلہ ہے، لیکن انھیں اس مشغلے میں مشغول رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ساکشی نے اُلٹا چور کوتوال ڈانٹے کے مصداق الیکشن کمیشن کے نوٹس کے جواب میں بر سر عام یہ تبصرہ کیا ہے کہ چار بیویوں اور چالیس بچوں کے نظریئے کے لئے اس نے کسی فرقہ کا نام نہیں لیا ہے تو اس سے اشتعال پھیلنے کا کیا سوال ہے ؟ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے جس نے نچلی سطح کے لیڈروں کو دوسرے مذہب کے لوگوں پر کیچڑ اُچھالنے کے لئے مامور کر رکھا ہے ۔ ساکشی کے بیان سے خود الگ کرلیا ہے۔ اور اپنی نظر میں ایک مناسب لیڈر مختار عباس نقوی سے کہلوایا ہے کہ ساکشی کا بیان بی جے پی اور حکومت کے نقطہ نظر کی ترجمانی نہیں کرتا ۔ ایسی تردید اور اظہارِ بے تعلقی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرشاد نے ساکشی کے بیان پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کیاہے ۔ کسی وزیر کی جانب سے تردید یا اظہارِ بے تعلقی کی کوئی اہمیت اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی اس بارے میں وضاحتی بیان جاری نہ کریں ۔ اب تک نہ ہی وزیر اعظم نے اور نہ ہی پارٹی صدر امیت شاہ نے اس پر حکومت اور پارٹی کے موقف کو صاف کیا ہے۔ بی جے پی کی ابتداء ہی سے یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ اپنے نام نہاد شعلہ بیان دریدہ دہن نمائندوں سے ایسے اشتعال انگیز بیانات جاری کرواتی ہے اور بعد میں یہ کہتی ہے کہ یہ ان لیڈروں کے ذاتی خیالات ہیں ان سے پارٹی کا کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ یہ بی جے پی کے لئے ایک سہولت بخش عمل ہے اس سے بی جے پی فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹ بینک بنا کر ا س سے فائدہ اُٹھا لیتی ہے اور الیکشن کمیشن اور دیگر قانونی اتھاریٹیز کے سامنے خود کو اس سے بے تعلق بتا کر معصوم بن جاتی ہے اورقانونی دارو گیر سے بچ نکلتی ہے ۔ بی جے پی نے آج تک ایسے دریدہ دہن نمائندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے جو اس کے بقول ایسے ذاتی اشتعال انگیز بیانات جاری کرکے اسے انتخابی اور انتظامی فائدہ پہنچاتے ہیں ۔ بی جے پی ایسے لوگوں کو دکھاوے کے لئے بھی کوئی وجہ بتاؤ نوٹس جاری نہیں کرتی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے بیانات کی تردید یا ان سے بے تعلقی میں وہ کس قدر غیر سنجیدہ ہے ۔
ساکشی کے بیان پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے روشنی میں قانونی کارروئی کی جانی چاہیئے جس کے مطابق مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا انتخابی بد عنوانی کے مترادف ہے ۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بی جے پی نے بڑے دھڑلے سے کہا تھاکہ وہ فرقہ وارانہ صف بندی کی سیاست پر عمل نہیں کرتی ۔ اس نے فرقہ وارانہ صف بندی کے لئے دیگر پارٹیوں کو ذمہ دارقرار دیا تھا۔ لیکن سبھی جانتے ہیں کہ یہ بی جے پی ہی ہے جس نے اپنی سیاست کے لئے مذہب کا ہمیشہ غلط استعمال کیا ہے ۔ یہ معاملہ انتخابات کے صحیح اور غلط انداز سے ماوراء ہے ۔ بی جے پی نے کبھی ایسے اشتعال انگیز بیانات سے جیسے ساکشی اور دوسرے لیڈر دیتے ہیں معاشرے کو ہونے والے نقصانات کا احساس نہیں کیا۔ دکھاوے کی تردید اور بے تعلقی کے اعلان سے بی جے پی اور اس کے لیڈروں کا دوغلا پن ہمیشہ آشکار ہوتا رہتا ہے ۔ یہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کا کام ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ متعلقہ پارٹیوں کے خلاف بھی کارروائی کرے یا کم از کم سیاسی پارٹیوں کو اس بات کا پابند بنائے کہ اگر ان کے لیڈروں کے بیانات سے وہ متفق نہیں ہیں تو وہ محض بیانات سے اظہار بے تعلقی نہ کریں بلکہ ان لیڈروں سے اظہار بے تعلقی کرکے انھیں فی الفور پارٹی سے خارج کردیں۔ پچھلے تین دہوں سے ہندوستانی سیاست میں فرقہ پرستی کا بول بالا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ایسے اشرار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔ الیکشن کے دوران ایسے بیانات دینے والوں سے الیکشن کمیشن وضاحت طلب کرنے کی بجائے انھیں کم از کم 12سال کے لئے انتخابات میں حصہ لینے سے نا اہل قرار دے ۔ الیکشن کمیشن ان کی اور ان کی پارٹیوں کی وضاحت سے کس طرح اور کس لئے مطمئن ہوجاتا ہے۔ یہ ناقابلِ فہم ہے۔ اور قانونی اتھاریٹیز اگر اس کا از خود نوٹس نہ لیں تو ان کے خلاف مفاد عامہ کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے ۔ سیکولر اپوزیشن پارٹیوں کے جوابی بیانات اور ردِ عمل سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ، بی جے پی کو ان بیانات سے جو فائدہ متوقع ہے وہ تو اسے مل جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کینرا پارلیمانی حلقہ میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی کسرت : کیا ہیگڈے کو شکست دینا آسان ہوگا ؟

ضلع اترکنڑا  میں   کانگریسی لیڈران کی موجودہ حالت کچھ ایسی ہے جیسے بغیر رنگ روپ والے فن کار کی ہوتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے بالکل ایک دو دن پہلے تک الگ الگ تین گروہوں میں تقسیم ہوکر  من موجی میں مصروف ضلع کانگریسی لیڈران  مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق  ان کی بھاگم بھاگ کو دیکھیں ...

شمالی کینرا پارلیمانی سیٹ کو جے ڈی ایس کے حوالے کرنے پر کانگریسی لیڈران ناراض؛ کیا دیش پانڈے کا دائو اُلٹا پڑ گیا ؟

ایک طرف کانگریس اور جنتا دل ایس کی مخلوط حکومت نے ساجھے داری کے منصوبے پر عمل کرکے سیٹوں کے تقسیم کے فارمولے پر رضامند ہونے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف کچھ اضلاع سے کانگریس پارٹی کے کارکنان اور مقامی لیڈران میں بے اطمینانی کی ہوا چل پڑی ہے۔ جس میں ضلع اڈپی کے علاوہ شمالی کینرا ...

پاکستان پر فضائی حملے سے بی جے پی کے لئے پارلیمانی الیکشن کا راستہ ہوگیا آسان !  

پاکستان کے بہت ہی اندرونی علاقے میں موجود دہشت گردی کے اڈے پر ہندوستانی فضائی حملے سے بی جے پی کو راحت کی سانس لینے کا موقع ملا ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات جیتنے کی راہ آسان ہوگئی۔اور اب وہ سال2017میں یو پی کے اسمبلی انتخابات جیتنے کی طرز پر درپیش لوک سبھا انتخابات جیتنے کے ...

ہندوستان میں اردو زبان کی موجودہ صورتحال، عدم دلچسپی کے اسباب اوران کا حل ۔۔۔۔ آز: ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

یہ آفتاب کی طرح روشن حقیقت ہے کہ اردو بھی ہندی، بنگلہ، تلگو، گجراتی، مراٹھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی طرح آزاد ہندوستان کی قومی اور دستوری زبان ہے جو دستورِ ہند کی آٹھویں شیڈول میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اردو ہندوستان کی زبان نہیں ہے۔ جو ایسا کہتا ہے اور ...

آننت کمار ہیگڈے۔ جو صرف ہندووادی ہونے کی اداکاری کرتا ہے ’کراولی منجاؤ‘کے چیف ایڈیٹر گنگا دھر ہیرے گُتّی کے قلم سے

اُترکنڑا کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے جو عین انتخابات کے موقعوں پر متنازعہ بیانات دے کر اخبارات کی سُرخیاں بٹورتے ہوئے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، اُس کے تعلق سے کاروار سے شائع ہونے والے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو کے ایڈیٹر نے  اپنے اتوار کے ایڈیشن میں اپنے ...

کیا جے ڈی نائک کی جلد ہوگی کانگریس میں واپسی؟!۔دیشپانڈے کی طرف سے ہری جھنڈی۔ کانگریس کر رہی ہے انتخابی تیاری

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع ...