ملک کے موجودہ حالات سے مسلمان مایوس اورپریشان نہ ہوں:مولانا سجادنعمانی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th December 2018, 11:33 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو،6؍دسمبر (ایس او نیوز)  مشہورعالم دین حضرت مولانا منظورنعمانی صاحب کے جانشین حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ندوی صاحب جو نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر امن وشانتی اور رواداری کے پیغام کو عام کرنے میں کوشاں ہیں ۔کل پیر کی شب یہاں بنگلورو پیالس گراؤنڈ میں واقع ٹینس پیویلین میں ’’ملک کی موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر منعقدہ علمائے کرام ،عمائدین اور دانشوروں کے ایک تاریخی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں موجودہ حالات سے مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسے حالات پہلی بار نہیں اس سے پہلے بھی اس طرح کے حالات پیش آئے ہیں ۔ دراصل ماضی میں مسلم قیادت نے جو غلطیاں کی ہیں اس کی وجہ سے ملک میں مسلمانوں کو ان سنگین حالات کا سامنا ہے ۔ لیکن ان حالات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ قومیں غلطیوں ہی سے سبق سیکھتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قدرت نے مسلمانوں کو جو خداداد صلاحیتیں اورحکمت دی ہیں اگر اس کا استعمال اپنوں پر کرنے کی بجائے دوسری طرف موڑ دیں تو اگلے دس برسوں میں ملک کا نقشہ بدلا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قرآن مجید اتنی زندہ جاوید کتاب ہے کہ اس میں تمام مسائل کا تذکرہ ہے اورتمام مسائل کا حل بھی قرآن مجید میں ہے۔ہم نے قرآن سے رجوع کرنا چھوڑ دیا ۔ اس لئے دنیا میں ذلیل وخوار ہورہے ہیں ۔یاد رکھیں عزت ،ذلت سربلندی سب کچھ اﷲ کے ہاتھ میں ہے ۔ہم سب کو اپنے یقین اورایمان میں اضافے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔قرآن مجید اور حضوراکرمؐ کی سنتوں کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے ۔مولانا نے بتایا کہ عقل ودانشمندی کا واحد سرچشمہ قرآن مجید اور حامل قرآن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج حالات ایسے ہیں کہ ہم قرآن مجید کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ قرآن کو حالات حاضرہ سے جوڑ کر اس کی بنیاد پر رہنمائی حاصل کرنے میں بھی ناکام ہیں۔ اور یہ سوچتے ہیں کہ اس میں ماضی کا تذکرہ ہے یا نزول قرآن کے واقعات کے تذکرے ہیں۔ جبکہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن مجید اتنی زندہ کتاب ہے کہ آج پوری دنیا کے لوگوں کے زندگی میں جو واقعات ہورہے ہیں اور مسائل جنم لے رہے ہیں یا ملک وعالم میں انفرادی، اجتماعی، روحانی، اخلاقی، معاشی وسیاسی مسائل ہیں ان کا تذکرہ اور حل تک قرآن مجید میں موجودہے۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم قرآن مجید سے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں۔ ایسے میں علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن مجید پر زندہ کتاب کی حیثیت سے غور کریں اور اس کے مطابق رہنمائی کی کوشش کریں۔ مولانا نے بتایا کہ ماضی میں پیغمبروں کو جو چیلنج تھے ان کا تذکرہ بھی قرآن میں موجود ہے۔ تمام پیغمبروں کو اس زمانے میں سچائی نہ ماننے والے چیلنج کرتے تھے کہ ان کو ملک سے باہر نکال کر رہے گے اور ملک میں رہنے کی صرف ایک شکل یہ ہیکہ تم گھر واپس آجاؤ اور ہمارے عقائد کو مان لو۔ ہمارے ملک سے اب ہمیں جانے کو کہا جارہا ہے اسے ہم کس طرح نیا چیلنج مان سکتے ہیں۔ جب کہ ہزاروں سالوں سے اس طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہوتا رہا ہے۔ پیغبروں کو اللہ نے خفی طورپر ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے طریقے بتائے تھے اور کسی طرح کا شور نہیں مچایا گیا تھا۔ اللہ نے کہا تھا کہ ہم اس زمین پر کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کریں گے۔ کفر کی بنیاد پر کسی کو دنیا میں سزا نہیں ملے گی، ہر کسی کو آزادی ہے، کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ مگر جو ظلم کرنے والے لوگ ہیں اسے ان کی سزا ضرور ملے گی۔ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ کافروں کو شکست دی جائے گی بلکہ یہ کہا کہ ظالموں کو شکست دی جائے گی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج علمائے کرام بھی قرآن کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ جبکہ ایک بڑے طبقے میں قرآن مجید کو سمجھنے کا شوق پیدا ہوا ہے۔ آج ہم نے جدوجہد کے میدان میں قرآن مجید کو دور کردیا ہے اور قرآن سے رہنمائی نہیں لے رہے ہیں۔ مولانا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہمارے خلاف جو سازشیں رچی جارہی ہیں اس سے ہمارا کوئی سیاستدان واقف نہیں ہے اور اس کی گہرائی تک بھی جانا نہیں چاہتا ہے۔ مولانا نے جمہوری سیاست کو شطرنج کا کھیل قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو نصیحت آمیز انداز میں بتایا کہ شطرنج دماغ کو تیز کرتا ہے۔ اس کھیل میں شوراور ہنگامہ نہیں ہوتا۔ ہم مسلمان ہیں کہ شطرنج کے کھیل کا مقابلہ کشتی سے کرنے کے عادی بن گئے ہیں۔ اگر ایسا رہا تو ہم قیامت تک کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ آج قومی مزاج بگڑ گیا ہے اور اب تک دوست نما دشمن اور دشمن نما دوست نے ہم سے فائدے اٹھائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب کبھی وہ سنگھ پریوار کے خلاف شکایت سنتے ہیں تو ایسا محسوس کرتے ہیں کہ فٹبال کے میدان میں کوئی کھلاڑی ریفری سے یہ شکایت کرے کہ مخالف ٹیم کا کھلاڑی گول مار رہا ہے یا جنگ کے میدان میں کوئی فوجی اپنے کمانڈر سے شکایت کرے کہ مخالف گروہوں سے گولیاں چل رہی ہیں۔ جبکہ سنگھ پریوار اپنے نظریات کی پابند ہے اور اس کے لئے سو سال سے انتھک کوشش میں مصروف ہے۔ ہم اس طرح بغیر کسی حکمت عملی کے سالوں تک بھی دعائیں کرتے رہیں تو ہماری دعائیں قبول نہیں ہوں گی اور انہیں خدشہ ہے کہ الٹا اللہ کی طرف سے طمانچے پڑیں گے۔ آج ہم نے دعا کو جھوٹی نفسیاتی تسلی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اب مسلمانوں کا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ غیر مسلم کی چائے میں شکر کو بھی کڑوا سمجھنے لگے ہیں جبکہ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس طریقے پر دنیا نہیں چلائے گا اور جو قوم نظریاتی اصولوں کو لیکر چلے گی خدا کا نظام اس کا ساتھ دے گا۔ ملک کی موجودہ صورتحال کے حقائق کا تاریخ کی روشنی میں جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ ملک کا جو سماجی اور تہذیبی نظام ہے وہ نسلی امتیاز پر کھڑا ہوا ہے اور انیسویں صدی کے آخر میں مظلوم طبقات میں بیداری کی تحریکیں شروع ہوئیں، گوتم بدھا کی تحریک اس نظام کے خلاف بڑی بغاوت تھی۔ اسی طرح جین تحریک بھی برہمن سماجی نظام کے خلاف چیختی چلاتی آواز بنی جس کا مرکزی دائرہ مورتی پوجا اور عدم مساوات پر مشتمل تھا۔ اس عدم مساوات کو جاری رکھنے کیلئے مورتی پوجا ضروری تھی۔ اونچ نیچ میں تقسیم کیلئے پوجا کرنے اور نہ کرنے والے کے گروپ بنائے گئے۔ اکثر تحریکیں اس لئے ختم ہوئی کیونکہ ان پر شدید ظلم کے پہاڑ گرائے گئے۔ مولانا نے بتایا کہ ایک بڑا طبقہ اس نظام کے خلاف ہے چاہے اشوکہ دی گریٹ ہو یا گوتم بدھا۔ ان سب کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام، قرآن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنے متاثر تھے۔مولانا سجاد نعمانی نے کہاکہ دراصل ہمیں اقلیت ،اقلیت کہہ کر احساس کمتری میں مبتلا کیا جارہا ہے ۔ حقیقت میں ہم اقلیت نہیں بلکہ ملک کے 85 فیصد مظلوم طبقات کے ساتھ ہیں ۔جن میں دلت ، پسماندہ طبقات، سکھ ،بدھسٹ اورعیسائی شامل ہیں۔ اگر اب بھی ہم زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے منصوبہ بندی کے تحت کام کریں تواگلے 30سالوں میں ملک کا نقشہ بدلا ہوا ہوگا۔اس کے لئے ہمیں دلتوں، پسماندہ طبقات ،قبائلیوں ، آدی واسیوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔یہ کام ان تک پہنچ کر کیا جاسکتا ہے ۔یہ بھی ہماری طرح صرف 15 فیصد اونچی ذات کے مظالم کے شکار ہیں اور وہ منتظر ہیں کہ کون انہیں تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرودے ۔یہ کام صرف مسلمان کرسکتے ہیں ۔

میڈیا کی منفی خبریں:مولانا نے کہاکہ میڈیا حکمران طبقہ کے ہاتھوں بکا ہوا ہے ۔میڈیا حقائق کو منظرعام پرنہیں لارہا ہے بلکہ صرف منفی تصاویر کو منظرعام پر لارہا ہے ۔ میڈیا کی ان منفی خبروں سے پریشان اور مایوس نہ ہوں۔ اس وقت قوم کے قائدین اور دانشوروں کو مظلوم طبقات تک خود پہنچنا ہوگا۔ قوم کے نوجوانوں اور خواتین کو اعتماد میں لیناہوگا۔ ان کے حوصلے بلند کرنے ہوں گے ۔اگر خواتین کو اسلامی حجاب کی پابندی کے ساتھ موقع دیا گیا تو ملک میں نیا انقلاب لانے میں بہت بڑا رول ادا کریں گی۔ہمیں یاد ہے ملک میں جب تین طلاق کے معاملہ سر اٹھانے لگا تو مسلم بہنوں اور بچیوں نے ملت کا حوصلہ بلند کیا ۔یاد رہے قوم مردہ نہیں ۔ خواتین اور نوجوانوں میں بھی سیاسی شعور پختہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

غیرمسلم بھائیوں سے روابط:اب تک خواب غفلت میں سورہے مسلمانوں کے ضمیرکو جھنجھوڑتے ہوئے مظلوم طبقات سے تعلقات مضبوط کرنے کی تلقین کرتے ہوئے حضرت والا نے کہاکہ ان کے ساتھ وقتاً فوقتاً تبادلہ خیال کرنا ہوگا۔ان کی بستیوں کو جانا ہوگا۔ انہیں عزت دینی ہوگی پاس بٹھانا ہوگا۔ ان کے سامنے کھانا کھانا ہوگا کیونکہ یہ سنت نبویؐ ہے ۔ ضرورت پڑنے پر ہمیں انہیں اپنی مسجدوں میں بھی بلانا ہوگا۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کسی مفتی نے فتویٰ دے دیا کہ غیرمسلم مسجد میں نہیں آسکتے ۔ حضورؐ کے دور میں تمام معاملات مسجد نبویؐ میں میں بیٹھ کر حل کئے جاتے تھے ۔ ریاض الجنہ میں ایک ستون ہے اس جگہ بیٹھ کر حل کئے جانے والے 99 فیصد معاملات غیرمسلموں کے ہوا کرتے تھے ۔ اس وقت کے اعلیٰ درجہ کے عیسائی پادری بھی اپنے مسائل لے کر وہیں حاضر ہوتے تھے ۔ حضورؐ نے ایک اعلیٰ درجہ کے پادری کو ایک موقع پر پوری رات مسجد نبویؐ میں ہی ٹھہرایا تھا۔ اسلام کسی کو مٹانے نہیں بلکہ تمام کو متحد کرنے آیا تھا۔ ہماری چند حرکتوں کی وجہ سے آج اسلام بدنام ہے ۔ اس پر علمائے کرام کو بھی سنجیدہ غورکرنے کی ضرورت ہے ۔اس سلسلہ میں انہوں نے امیرالمومنین حضرت عمرؓ کے پادری سے بیت المقدس کی چابیاں حاصل کرنے کے واقعہ پر بھی روشنی ڈالی۔

ملک سے مسلمانوں کا رشتہ:مولانا نعمانی نے بتایا کہ اس ملک سے مسلمانوں کا رشتہ مغلیہ سلطنت کے دور سے نہیں ۔اس سے بھی قدیم رشتے ہیں ۔اس ملک سے مسلمانوں کا قومی اور مذہبی رشتہ ہے ۔ اﷲ تعالیٰ نے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو سرزمین ہندوستان بھیجنا پسند فرمایا، ابن کثیرکی تفسیر سے بھی یہ ثابت ہے کہ آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے سرزمین ہندوستان پر بھیجا گیا ۔اس حساب سے اس سرزمین سے مسلمانوں کا قدیم مذہبی رشتہ ہے ۔لیکن برہمن طبقہ اس حقیقت کو نہیں بتاتا۔ ہمیں آج بھی غیرملکی کہاجاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اصل میں اسلام کی جنم بھومی بھارت ہے اور اسلام کی تکمیل عرب میں ہوئی۔ جب یہ حقیقت انہوں نے چند غیرمسلم دانشوروں کو سنائی تو وہ بھی حیرت میں پڑگئے۔ان حقائق کو عام کرنے کیلئے ہمیں مظلوم طبقات کو ساتھ لینا ہوگا۔اس کیلئے قدم بہ قدم آگے بڑھنا ہوگا۔

خواب غفلت سے بیداری:انہوں نے بتایا کہ ملک کا حکمران طبقہ اس ملک کے دستور ہی کو بدل دینا چاہتا ہے ۔اس لئے ہمیں اب خواب غفلت سے بیدارہونے کی ضرورت ہے اور مظلوم طبقات کو ساتھ لے کر حکمت عملی تیار کرنا چاہئے ،کیونکہ آنے والا سال 2019 تمام امن وانصاف پسند ہندوستانیوں کے لئے بہت اہم ہے ۔ وزیراعظم نریندرمودی کا نام لئے بغیر انہوں نے کہاکہ اگر موصوف 2019 میں رخصت ہوگئے تو پھر آپ مت سوجائیں ۔ویسے تو انہیں آرام کی سخت ضرورت ہے کیونکہ انہوں نے بہت گھوم پھر لیا ہے ۔ساتھ میں بیوی بھی نہیں ہے اس لئے عوام کو ان سے ہمدردی ہے ۔

ووٹ کی اہمیت:ہر بالغ شہری کو ووٹ دینا اس کا بنیادی حق ہے، اس میں غفلت نہ برتیں ۔ریاست کرناٹک میں پچھلے اسمبلی انتخابات میں باہمی تعاون سے ہی سکیولر جماعتوں کو کامیابی ملی۔یہ پورے ملک کے لئے ایک مثال بھی بن گئی ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ جنوبی ہندوستان ہی سے قیادت جنم لے گی اورملک کی قیادت جنوب کے مسلمان کریں گے ۔ ایسی قیادت کے آثار جنوب سے نظر آرہے ہیں ۔ آپسی اتحاد واتفاق کو بنائے رکھنے اپنی خداداد صلاحیتوں کا استعمال دوسری جانب موڑنے کی مولانا نے تلقین کی۔ اس اجلاس میں اتنی بڑی تعداد میں کریم آف دی سوسائٹی کو جوڑنے کے لئے مولانا نے سابق وزیرورکن اسمبلی جناب آرروشن بیگ کی ستائش کی۔قبل ازیں مولانا شبیر احمد حسینی ندوی صاحب نے اس اجلاس کی غرض پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

آر۔روشن بیگ:خیرمقدمی تقریر کرتے ہوئے الحاج آرروشن بیگ صاحب نے کہاکہ آج ملک میں موجودہ حالات کے پیش نظر ہماری ذمہ داریوں سے متعلق ہم سب کو اپنے خصوصی خطاب سے سرفراز کرنے کیلئے حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب ہماری دعوت پر تشریف لائے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میرا یہ ماننا ہے کہ ہم اپنے دین کی اصل اسپرٹ کو سمجھیں اور استقلال کے ساتھ رواداری اورصبرکو بڑھاوادیں ۔ہم اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔ ہم نے اس ملک کی ترقی وتعمیراور تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔ہمارے اکابرعلمائے کرام نے مسلمانوں کو وطن پرستی اور وطن سے محبت کا سبق یاد دلایا اورتحریک آزادی میں کارگر رول ادا کیا جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے ۔ انہوں نے اس وقت ملک میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ میری نظر میں آج غصہ ،نفرت، جوش کی بجائے دانشمندی اور استقامت سے کام لینے کی اشد ضرورت ہے ۔حضرت والا کا یہ خصوصی خطاب ہمیں نئی راہ دکھائے گا۔اس تاریخی اجلاس کا آغاز مولانا مقصود عمران صاحب رشادی کی قرأت سے ہوا۔ حافظ سید سیف اﷲ فہیم نے نعت سنائی۔ جناب محمد اعظم شاہد نے نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے اورمولانا نعمانی کا مختصر تعارف بھی کروایا ۔مولانا سید تنویر ہاشمی خانقاہ ہاشمیہ بیجاپور کے شکریہ کے بعد حضرت والا سجاد نعمانی صاحب کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا ۔اس اجلاس میں ریاست بھر سے کثیر تعداد میں علمائے کرام، عمائدین ،دانشوروں اور منتخب قائدین نے شرکت کی ۔

ایک نظر اس پر بھی

توہم پرستی کے مخالفین کومذہب دشمن قراردیاجارہاہے: ملیکارجن کھرگے

پارلیمان میں کانگریسی رہنما ملیکارجن کھرگے نے کہاکہ آج سماج میں توہم پرستی کی مخالفت کرنے والوں کومذہب کے دشمن کے طورپر پیش کیاجارہاہے ،یہاں کونڈجی بسپاہال میں اکھل بھارت شرن ساہتیہ پریشد اورماچی دیواسمیتی کی جانب سے اشوک دوملور کی تین مختلف زبانوں میں تحریرکردہ کتابوں ...

22دسمبر کو کابینہ میں ضرور توسیع ہوگی: دنیش گنڈو راؤ

پردیش کانگریس کمیٹی ( کے پی سی سی ) صدر دنیش گنڈو راؤ نے بتایا کہ 22دسمبر کوریاستی کابینہ میں توسیع ضرور ہوگی۔کے پی سی سی دفتر میں نامہ نگاروں سے انہوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع سے متعلق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی ،نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور سمیت دونوں پارٹیوں کے لیڈروں ...

بی جے پی الزام عائد کرنے سے پہلے سی اے جی رپورٹ کاجائزہ لے: سدرشن

کے پی سی سی نائب صدر قانون سازکونسل کے سابق چیرمین وی آر سدرشن نے کہاکہ بی جے پی رہنما ؤں کو سابق وزیراعلیٰ سدارامیا کے دورمیں 35ہزار کروڑ روپئے کاگھپلہ ہونے کالزام لگانے سے پہلے سی اے جی رپورٹ کاجائزہ لینا چاہئے ۔

بلگام :پروفیسر خواجہ فرازؔبادامی کو  کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ سے فن عروض کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی سند تفویض  

گوکاک  جے ایس ایس ڈگری کالج کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر خواجہ بندہ نواز انڈیکر فرازؔبادامی کو کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ کی طرف سے  ’’اردو عروض اور ہندی پنگل کا تقابلی مطالعہ ‘‘کے موضوع پر ڈاکٹر آف فلاسفی (پی ایچ ڈی ) کی سند تفویض کی گئی ہے۔

بنگلور میں منعقدہ APCR کارگاہ میں دہشت گردی کے نام پر بے گناہوں کی گرفتاریوں پر سخت تشویش؛سابق چیف جسٹس اور معروف وُکلا نے کی، یو اے پی اے کی سخت مخالفت

اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر) کرناٹک چاپٹر کے زیراہتمام ریاستی سطح کے ورکشاپ میں دہشت گردی کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاریوں پر سخت تشویش کااظہار کیا گیا اور سابق چیف جسٹس آف انڈیا مسٹر وینکٹ چلیّا سمیت معروف وُکلاء نے یو اے پی اے اسپیشل قانون کی سخت ...

مودی کا زوال یا راہل کا عروج ؟ فیصلہ منگل کو

ومبر اور دسمبر میں کئی مرحلوں میں5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹ ڈالنے کا عمل پورا ہو چکا ہے۔ ان میں سے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی اقتدار میں ہے۔

ہندوستان کو آگ میں جھونکنے کی کوششیں تیز رام لیلا میدان میں دھرم سبھا کا انعقاد،مندر بنانے کا کیا عزم، بھگوا کپڑوں میں ملبوس رام بھکتوں کا جم غفیر

ایودھیا میں دھرم سبھا کے بعد دہلی کے رام لیلا میدان میں دھرم سبھا کے انعقاد سے سنگھ اور اس کی ذیلی تنظیموں نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے رام مندر تعمیر کے مدے کو اتنا بڑا کر کے پیش کیا جائے کہ رافیل، نوٹ بندی، جی ایس ٹی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل ...

ڈی ایم کے سربراہ اسٹالن سونیا اور راہل سے ملے

دہلی میں اپوزیشن پارٹیوں کے اجلاس سے ایک دن پہلے ڈی ایم صدر ایم کے اسٹالن نے کانگریس صدر راہل گاندھی اور یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی سے اتوار کو ملاقات کی اور کئی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔