ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / امریکی حملوں کے بعد خلیج کے سمندروں میں 18 ہزار بھارتی ملاحوں پر خطرے کے بادل؛ مودی کی خاموشی پر مچا سیاسی ہنگامہ

امریکی حملوں کے بعد خلیج کے سمندروں میں 18 ہزار بھارتی ملاحوں پر خطرے کے بادل؛ مودی کی خاموشی پر مچا سیاسی ہنگامہ

Fri, 12 Jun 2026 23:47:14    S O News
امریکی حملوں کے بعد خلیج کے سمندروں میں 18 ہزار بھارتی ملاحوں پر خطرے کے بادل؛ مودی کی خاموشی پر مچا سیاسی ہنگامہ

نئی دہلی، 12 جون (ایس او نیوز): خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں سیاسی اور سفارتی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ سمندری صنعت سے وابستہ اداروں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی خطے میں خدمات انجام دینے والے تقریباً 18 ہزار بھارتی ملاح براہِ راست خطرات سے دوچار ہیں، جبکہ متعدد بھارتی جہاز حساس سمندری راستوں میں موجود ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق خلیج عمان میں پالاؤ کے جھنڈے تلے چلنے والے آئل ٹینکر ’’سیٹے بیلو‘‘ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مبینہ طور پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی تیل منتقل کر رہا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا دعویٰ ہے کہ جہاز کو متعدد انتباہات دیے گئے تھے، تاہم عمل نہ ہونے پر کارروائی کی گئی۔

اس حملے میں 24 بھارتی ملاحوں میں سے 21 کو بحفاظت بچا لیا گیا، جبکہ چیف انجینئر پٹنالا سریش، ڈیک کیڈٹ آدتیہ شرما اور فٹر شیوانند چورسیا ہلاک ہوگئے۔ ان اموات نے نہ صرف ملاحوں کے تحفظ بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی اور سفارتی حکمت عملی پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

مختلف میڈیا رپورٹوں کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران بھارتی عملے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ بھارتی شپنگ حلقوں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ہزاروں بھارتی ملاح غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

بھارتی شپنگ وزارت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق خلیجی خطے میں اس وقت 18 ہزار سے زائد بھارتی ملاح مختلف جہازوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کم از کم 562 بھارتی ملاح بھارتی پرچم والے جہازوں پر موجود ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب 13 بھارتی جہاز حساس صورتحال سے دوچار بتائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگی ماحول کے باعث جہاز رانی، انشورنس اور عملے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی موضوع بحث بن گئی ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ تین بھارتی شہریوں کی ہلاکت کے باوجود وزیر اعظم کی جانب سے کوئی براہِ راست اور سخت عوامی ردعمل سامنے کیوں نہیں آیا۔ کئی صارفین نے اسے بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک امتحان قرار دیا ہے۔

کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے باوجود وزیراعظم خاموش ہیں۔ انہوں نے مودی کو ’’Compromised PM‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں بنا سکتی تو خارجہ پالیسی کی کامیابی کے دعووں کی بنیاد کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ مودی حکومت امریکہ کے معاملے میں وہ سختی دکھانے سے گریز کر رہی ہے جو ماضی میں دیگر بین الاقوامی معاملات پر اختیار کی جاتی رہی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر یہی واقعہ کسی دوسرے ملک کے ہاتھوں پیش آیا ہوتا تو حکومت کا ردعمل کہیں زیادہ سخت اور جارحانہ ہوسکتا تھا۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر نریندر مودی کی 2014 کی ایک پرانی ویڈیو بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں مودی، اُس وقت کی کانگریس حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے 2012 کے اطالوی میرینز کیس کا حوالہ دیتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ ’’بھارتی ماہی گیروں کے قاتل کس جیل میں ہیں؟‘‘۔ ناقدین اب یہی سوال موجودہ حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ جب تین بھارتی شہری امریکی کارروائی میں مارے گئے ہیں تو ماضی جیسا جارحانہ لہجہ اور سیاسی عزم کیوں نظر نہیں آ رہا۔

بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات میں غیر معمولی قربت پیدا ہوئی ہے، جس کے باعث نئی دہلی اس معاملے میں انتہائی محتاط سفارتی رویہ اختیار کر رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہی احتیاط اب حکومت کے لیے سیاسی سوال بن چکی ہے۔

اگرچہ بھارتی حکومت نے امریکی حکام کے سامنے احتجاج درج کرایا ہے، تاہم اپوزیشن اور ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف سفارتی مذمت کافی نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم مودی خود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے براہِ راست اس معاملے پر جواب طلب کریں اور بھارتی شہریوں کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کریں۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سیکریٹری جنرل ارسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ ملاحوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی اقدام ناقابل قبول ہے اور عالمی جہاز رانی کی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔

بھارتی سی فیررز یونینز اور شپنگ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیاں اور ایران سے متعلق کشیدگی جاری رہی تو ہزاروں بھارتی ملاح جنگی خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جہاز رانی کمپنیوں کے انشورنس اخراجات میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور عالمی تیل تجارت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت دنیا میں ملاحوں کی سب سے بڑی افرادی قوت فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور تین لاکھ سے زائد بھارتی سی فیررز عالمی تجارتی جہازوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے خلیج میں پیدا ہونے والی کسی بھی عسکری کشیدگی کا براہِ راست اثر نہ صرف ہزاروں بھارتی خاندانوں بلکہ بھارت کے وسیع تجارتی اور بحری مفادات پر بھی پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل سوال صرف تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کا نہیں بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ آیا مودی حکومت اپنے قریبی اتحادی سمجھے جانے والے امریکہ کے سامنے بھی وہی سخت مؤقف اختیار کرے گی جس کا دعویٰ وہ ماضی میں قومی سلامتی اور بھارتی شہریوں کے تحفظ کے معاملات پر کرتی رہی ہے یا نہیں۔ یہی سوال اس وقت سیاسی بحث کا مرکزی محور بنا ہوا ہے۔


Share: