عراق میں قائم ہونے والی نئی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے: مقتدیٰ الصدر

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 2nd December 2019, 10:46 PM | عالمی خبریں |

 بغداد، یکم دسمبر(آئی این ایس انڈیا) عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما اور الصدری تحریک کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت عراق میں نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔خیال رہے کہ الصدری تحریک نے سنہ 2018کو پارلیمانی انتخابات میں 54 نشستوں پرکامیابی حاصل کی تھی۔ مقتدیٰ الصدر کی طرف نئی حکومت میں عدم شمولیت سے متعلق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک گیر احتجاج کے بعد وزیراعظم عادل عبدالمہدی نیعہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ ایام ہفتوں کے دوران عراق میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں کم سے کم 400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ہفتے کے روز عبد المہدی نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں اپنا استعفیٰ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گذشتہ روز کے اجلاس میں کابینہ نے عادل عبدالمہدی کے استعفے کی منظوری دے دی ہے۔اجلاس سے خطاب میں سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر میرے استعفے سے ملک میں جاری بحران ختم ہوتا ہے تو اس میں استعفیٰ پیش کرنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ وہ استعفے کا اعلان کرچکے ہیں سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کو بھی لوٹ جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے استعفے اور نئی حکومت کے قیام سے ملک میں جاری اتفراتفری ختم ہوجائے گی۔عراقی حکومت کے ترجمان علی الحدیثی نے بتایا کہ حکومت پارلیمنٹ سے استعفیٰ قبول کرنے تک اپنا کام جاری رکھے گی۔ استعفے کی منظوری کے بعد نگراں حکومت کے طور پر کام کرے گی تا آنکہ نئی حکومت قائم ہوجائے۔

ایک نظر اس پر بھی

شہریت ترمیمی بل: دستور سے کھلواڑ ........... آز: معصوم مرادآبادی

ہندوستان کے سیکولرجمہوری آئین پر ایک ایسا خطرناک ہتھوڑا چلنے والا ہے جس کی زد میں آنے والی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے گی ۔حکومت شہری قانون میں ایک ایسی تباہ کن ترمیم کرنے جارہی ہے جو مذہبی تعصب اور مسلم دشمنی کی بدترین مثال ہے۔عام خیال یہ ہے کہ مجوزہ شہریت ترمیمی بل مسلمانوں ...

  بغداد میں مسلح حملہ آوروں کے مظاہرین پرخونیں حملے کے باوجود احتجاج جاری

عراق کے دارالحکومت بغداد میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں کے خونریز حملے کے باوجود مظاہرین نے حکومت مخالف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ جنوبی شہروں میں بھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔بغداد میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب نامعلوم حملہ آوروں نے مظاہرین پر ...