امریکہ کے ایران کے ساتھ پانچ باشندوں کی گرفتاری کے معاملے پر مذاکرات

Source: S.O. News Service | By JD Bhatkali | Published on 22nd February 2021, 11:39 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن،22 فروری(آئی این ایس انڈیا)امریکہ نے ایران میں یرغمال بنائے جانے والے اپنے پانچ شہریوں کی وطن واپسی کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اتوار کو نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' نیوز کے پروگرام 'فیس دی نیشن' میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران حکومت نے امریکہ کے پانچ شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ صدر جو بائیڈن کی حکومت کی پہلی ترجیح امریکیوں کو محفوظ انداز میں وطن واپس لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کے معاملے پر تہران حکومت سے مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔"

مشیر قومی سلامتی نے امریکی شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کو ایک "عظیم انسانی بحران" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "امریکیوں کو غیر منصفانہ اور غیرقانونی طور پر اپنے پاس رکھنے کو برداشت نہیں کریں گے۔"

یاد رہے کہ ایران نے دہری شہریت رکھنے والے درجنوں افراد کو حراست میں لے رکھا ہے جن میں پانچ امریکی بھی شامل ہیں۔

حراست میں لیے جانے والے دہری شہریت کے حامل افراد میں سے بیش تر کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جیک سلیوان نے واضح کیا کہ ایران سے مغویوں کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کے دوران 2015 میں امریکہ کے ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے میں دوبارہ واپسی پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت کے لیے ایران نے اب تک کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔

جیک سلیوان نے دعویٰ کیا کہ ایران سفارتی طور پر تنہا ہو چکا ہے نہ کہ امریکہ، اور اب بال ایران کے کورٹ میں ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ تہران پر عائد معاشی پابندیاں نہیں اٹھا لیتا اس وقت تک وہ جوہری معاہدے میں واپس نہیں آ سکتا۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو پہلے 2015 کے جوہری معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کو کم کرنا ہو گا۔

امریکہ کے صدر بائیڈن نے جمعے کو جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والی ورچوئل سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ جوہری معاہدے میں شامل ہونے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

بائیڈن کا کہنا تھا کہ "ہمیں معاہدے میں شفافیت لانے کے علاوہ اسٹرٹیجک غلط فہمیوں اور غلطیوں کو کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔"

ایک نظر اس پر بھی

بائیڈن کا امریکی فضائی حملوں کے بعدایران کومحتاط رہنے کا انتباہ

امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران کو محتاط رہنے کا انتباہ جاری کیا ہے، یہ انتباہ انہوں نے اس وقت جاری کیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ شام میں فضائی حملوں سے ایران کو کیا پیغام بھیجنا چاہتے ہیں۔جنوبی ریاست ٹیکساس میں سفرکے دوران بائیڈن نے صحافیوں کو بتایا کہ آپ استثنیٰ حاصل نہیں ...

حوثی باغیوں کا داغا گیا میزائل تباہ کر دیا گیا: سعودی عرب

 عرب اتحاد نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ہفتے کی شب یمن سے حوثی باغیوں کا الریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ عرب اتحاد نے بیلسٹک میزائل کے اس حملے سے قبل ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے بارود سے لدے ایک ڈرون کو بھی فضا ہی میں ناکارہ بنا دینے کا دعوی ...