ترکی: تاریخی ’آیا صوفیہ میوزیم‘ کو دوبارہ سے مسجد بنایا جائے: عدالتی فیصلہ

Source: S.O. News Service | Published on 11th July 2020, 8:36 PM | عالمی خبریں |

استنبول،11؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) ترکی کی عدالت نے 1934 کے فرمان کو منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت تاریخی اثاثے آیا صوفیہ کو عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ عدالت کے اس حکم کے بعد آیا صوفیہ کو واپس مسجد کا درجہ ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر طیب ایردوآن نے یونیسکو کے اس عالمی ورثے کو مسجد میں بحال کرنے کی تجویز دی تھی۔

آیا صوفیہ بازنطینی عیسائیوں اور مسلمان سلطنت عثمانیہ کا اہم تاریخی مرکز ہونے کے علاوہ ترکی آنے والے سیاحوں کے لیے معروف ترین مقام ہے۔ صدر رجب طیب ایردوآن نے فیصلے کی تصدیق کے فرمان پر دستخط کر دیے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جس تصفیے کے مطابق آیا صوفیہ کو مسجد کا درجہ دیا گیا تھا اس کے تحت اس کو مسجد کےعلاوہ استعمال کرنا قانونی نہیں ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ 1934 میں کابینہ نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آیا صوفیہ کو مسجد کے بجائے میوزیم کا درجہ دیا تھا۔ ترک صدر کا اعلان عدالتی فیصلے کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آیا صوفیہ کو واپس مسجد کا درجہ دیا جائے گا۔

امریکی، یونانی اور دیگر ممالک کے عیسائی مذہبی رہنماؤں نے چھٹی صدی کے اس اثاثے کا درجہ تبدیل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آیا صوفیہ کو مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور حکومت میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ آیا صوفیہ سے متعلق کیس سامنے لانے والی ایسوسی ایشن کے مطابق یہ تاریخی عمارت سلطنت عثمانیہ کے سلطان محمد دوم کی پراپرٹی تھی۔

سلطان محمد نے 1453 میں اس وقت قسطنطنیہ کہلائے جانے والے شہر پر قبضہ کیا تھا اور نو سو سال پرانے بازنطین گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔

تیس کروڑ ارتھوڈوکس مسیحوں کے روحانی رہنما اکیومینیکل پیٹریارک بارتھولومیو کا کہنا تھا کہ اگر عدالت جمعہ کو آیا صوفیہ کو مسجد کا درجہ دینے کا اعلان کرتی ہے تو اس فیصلے سے مسیحوں کو مایوسی ہوگی اور یہ مشرق اور مغرب میں دراڑ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور یونان نے بھی ترک حکومت کو آیا صوفیہ کا عجائب گھر کا درجہ قائم رکھنے کا کہا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

’خفیہ ملاقات‘ کے لیے تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیلی وزیر اعظم اور موساد کے سربراہ سعودی سرزمین پر

اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور نیوز ایجنسیوں نے رپورٹ کیا ہے کہ اتوار کو سعودی عرب میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ایک خفیہ ملاقات ہوئی۔