شام میں فوجی کارروائی کے جواب میں ترک معیشت تباہ کرنے کی تیاری کر لی: ٹرمپ

Source: S.O. News Service | Published on 15th October 2019, 5:22 PM | عالمی خبریں |

نیویارک،15اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی شمال مشرقی شام میں ترک حملے کے جواب میں موجودہ اور سابق ترک عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں گے۔

ٹرمپ نے پیر کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ "ہم ترکی کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر بات چیت بند کردیں گے اور ترک اسٹیل کی درآمدات پر ڈیوٹی 50 فیصد تک بڑھا دیں گے"۔

"امریکا ان افراد پر سخت اضافی پابندیاں عاید کرے گا جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں ، جنگ بندی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور پناہ گزینوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے سے روک سکتے ہیں"۔

انہوں نے مزید لکھا کہ اگر ترکی کے رہ نما اس خطرناک اور تباہ کن راستے سے چلنے سے باز نہیں آتے تو میں تُرکی کی معیشت تباہ کرنے کے لیے تیار ہوں"۔

انہوں نے پناہ گزینوں کی زبردستی وطن واپسی ، یا شام میں امن ، سلامتی یا استحکام کو خطرے مین ڈالنے پربھی خبردار کیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں "مالی پابندیوں اور امریکا میں داخلے پرپابندی سمیت دیگر سنگین اقدامات کیے جائیں گے"۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ شام سے انخلا کرنے والی امریکی افواج کو دوبارہ ان علاقوں میں تعینات کیا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائےکہی 'داعش' واپس نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ "امریکی افواج جنوبی شام میں التنف اڈے پر موجود رہیں گی تاکہ داعش کی باقیات کی واپسی روکی جاسکے"۔

ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شمال مشرقی شام میں ترکی کے حملے سے خطے میں امن ، سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہے۔انہوں نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے طیب اردوآن پر واضح کیا کہ ترک آپریشن شمال مشرقی شام میں انسانی بحران کا باعث بنا ہے، اور ممکنہ جنگی جرائم کے لیے حالات پیدا کرسکتا ہے۔

انہوں نے انقرہ سے شمال مشرقی شام میں شہریوں اور دیگر اقلیتوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی شمال مشرقی شام پر حملے کے نتیجے میں ہونے والے انسانی بحران کے اثرات کو معمولی نہ سمجھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے اتحادی ممالک کی مدد سے شام میں 'داعش' کو 100 فی صد شکست دینے کے لیے بہت محنت کی ہے اورہم اس محنت کورائے گاں نہیں جانیں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ مخالفین کو کچلنے کی آڑ میں شہریوں کو اندھا دھند نشانہ بنانا ، انفراسٹرکچر تباہ کرنا ، اور نسلی یا مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ مہاجرین کی وطن واپسی لازمی طور پر رضاکارانہ اور وقار سے انجام دی جانی چاہیئے۔

ایک نظر اس پر بھی

لیبیا : فائز السراج اکتوبر کے اختتام تک اقتدار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار

لیبیا میں وفاق حکومت کی صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اکتوبر کے اختتام تک اقتدار سے دست بردار ہونے اور اپنی ذمے داریاں ایگزیکٹو اتھارٹی کے حوالے کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ...

سمندری طوفان 'سیلی' امریکی ساحل سے ٹکرا گیا، شدید بارشوں کی پیشن گوئی

سمندری طوفان 'سیلی' بدھ کی صبح امریکی ریاست الاباما کے ساحلی قصبوں سے ٹکرا گیا۔ اپنے ساتھ تند و تیز ہوائیں اور شدید بارشیں لانے والے طوفان کے متعلق موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وہ خلیجی ساحل کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی اور سیلاب لا سکتا ہے۔ ...

امن مذاکرات کے باوجود افغانستان میں طالبان کے حملوں میں 17 ہلاکتیں

دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے وفود کے درمیان امن مذاکرات کے دوران طالبان افغانستان کے اندر بدستور اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کے شمالی حصے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مختلف واقعات میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ...