طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا پانچواں دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاسر ندیم الواجدی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th May 2017, 11:20 AM | مہمان اداریہ |

ملت اسلامیہ کی تاریخ کے ایک اہم ترین مقدمے: طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کی کارروائی اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پانچویں دن وکلاء دفاع نے اپنے دلائل جاری رکھے اور ملت اسلامیہ کا بھر پور دفاع کیا۔

وکیل اعجاز مقبول نے کہا "کہ اسلام میں نکاح محض فریقین کے درمیان ایک عقد ہے اور عورت کو حق ہے کہ وہ اپنی شرائط کے ساتھ یہ عقد کرے"۔ انھوں نے کہا کہ "عورت کے پاس چار راستے ہیں، وہ اسپیشل میرج ایکٹ 1958 کے تحت نکاح کرے، اس صورت میں زبانی طلاق واقع ہی نہیں ہوگی، دوسرا اختیار یہ ہے کہ عورت نکاح نامے میں یہ شرط لگا سکتی ہے کہ مرد اس کو 3 طلاق نہیں دے گا۔ تیسرا راستہ طلاق تفویض کا ہے عورت خود بھی 3 طلاق دینے کا اختیار حاصل کر لے اور چوتھی بات یہ ہے کہ وہ یہ شرط لگا سکتی ہے کہ طلاق ثلاثہ دیے جانے کی صورت میں مہر کی رقم بطور جرمانہ کے بڑھ جائے گی"۔ اعجاز مقبول کی یہ دلیل اتنی مضبوط ہے کہ اس کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں حکومت کی اس دلیل کا بھی جواب ہے کہ طلاق ثلاثہ صنفی مساوات کے خلاف ہے، ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ نکاح کا قرآنی معیار یہی ہے کہ وہ ایک عقد ہے اور کنٹریکٹ کس طرح ختم ہوگا یہ فریقین کی شرائط پر منحصر ہے، کورٹ اس میں مداخلت نہیں کرسکتی ہے۔
 
مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل یوسف ہاشم مچھالا نے عدالت میں بورڈ کی منظور کردہ قرارداد بھی پیش کی جس کے مطابق "طلاق ثلاثہ ایک گناہ ہے اور جو اس کا ارتکاب کرے اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جانا چاہیے"۔ اس تجویز کے پیش کیے جانے سے یقینا یہ پیغام جائے گا کہ بورڈ ان مظلوم خواتین کے تعلق سے بھی سنجیدہ ہے، وہ صرف مرد کے حق طلاق ہی کے لیے نہیں لڑ رہا ہے۔

بورڈ کے وکلا کے بعد جمعیت علمائے ہند کے وکیل رام چندرن نے عدالت کے سامنے ایک مضبوط دلیل پیش کی کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کے مسلک کے مطابق تین طلاق کے بعد شوہر بیوی کا ساتھ رہنا درحقیقت زنا ہے جو کہ ایک سنگین گناہ ہے۔ عدالت طلاق ثلاثہ کو کالعدم قرار دے کر ایک مسلمان کو گناہ پر مجبور نہیں کرسکتی۔ ایک سیکولر کورٹ مسلمان کو یہ حکم بھی نہیں دے سکتی کہ وہ دوسرا مسلک اختیار کرلے۔ یہ دلیل بھی تیکنیکی اعتبار سے نہایت مضبوط ہے اور ان لوگوں کو جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ طلاق ثلاثہ دین کا حصہ نہیں ہے، چونکہ زنا سے بچنا یقینا دین کا حصہ ہے۔

وکلاء دفاع کے درمیان اس وقت تضاد نظر آیا جب عدالت نے وکیل رام چندرن سے پوچھا کہ آیا اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت نکاح کرنا غیر اسلامی ہے، رام چندرن نے جواب دیا کہ ہاں! یہ غیر اسلامی ہے، لیکن کپل سبل نے فورا کہا یہ غیر اسلامی نہیں ہے، جس کے بعد رام چندرن نے اپنا جواب واپس لیا۔ جمعیت کے وکیل رام چندرن آج پھر پوری تیاری سے کورٹ کے سامنے پیش ہوے تھے، انھوں نے حکومت کو یہ کہتے ہوے کٹہرے میں کھڑے رکھا کہ ابھی تک اس کے وکلا نے یہ ثابت نہیں کیا طلاق ثلاثہ غیر اسلامی ہے، وہ صرف عورت کے مظلوم ہونے کو بنیاد بناکر چل رہی ہے جب کہ شریعت میں اس کا حل موجود ہے۔

 وکلاء دفاع نے اس کے علاوہ مزید دلائل بھی عدالت کے سامنے پیش کیے اور ملت اسلامیہ کا مقدمہ بڑے سلیقے کے ساتھ پیش کیا۔ عدالتی کارروائی کے آخر میں اٹارنی جنرل نے کپل سبل کی اس دلیل کا جواب دیتے ہوئے کہ طلاق ثلاثہ 1400 سال سے شریعت کا حصہ ہے کہا کہ "اگر انسان کی قربانی 1400 سال سے جاری ہونے تو کیا اس کو برقرار رکھا جاسکتا ہے"۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل کا یہ مضبوط ترین دفاع تھا جو درحقیقت اعجاز  مقبول، یوسف مچھالا، رام چندرن اور کپل سبل کے دلائل کے سامنے ایک عام آدمی کی نظر میں بھی بے حیثیت ہے۔

اگر دلائل کو سامنے رکھا جائے تو ملت اسلامیہ کا موقف کارروائی کے پانچویں دن مضبوط نظر آیا۔ امید ہے کہ چھٹے اور آخری دن بھی یہ برتری باقی رہے گی اور حکومت اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوپائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

اے پی سی آر ۔ حق کی لڑائی میں نیا کاروان ۔۔۔۔ ازقلم: مدثر احمد

ہندوستان میں جمہوری نظام اور مسلمانوں کے مسائل پر قانونی کارروائی کرنے والی تین تنظیمیں ہیں ان میں جمیعت العلماء ہند ، اے پی سی آر اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا ہر طرح سے مسلمانوں کے قانونی مسائل پر لڑائی لڑنے کے پابند ہیں ، ان میں سب سے زیادہ سرگرم تنظیمیں جمیعت العلماء ہند اور ...

اس بار مسلمان ناکام کیوں؟ کہاں ہے1985کا پرسنل لاء بورڈ،جس کی حکمت عملی نے حکومت وقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ؟ (روزنامہ سالار کی خصوصی رپورٹ)

مودی حکومت کی ہٹ دھرمی، سیاسی چال بازی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سیاسی غیرشعوری، مسلم تنظیموں کی غیر دانشمندی اور پورے مسلمانوں کی نااہلی و آپسی نااتفاقی کی وجہ سے ایک نشست میں تین طلاق کا بل راجیہ سبھا سے بھی منظور ہوگیا-اب اسے صدر ہند کے پاس رسمی طور پر بھیجاجائے گا جہاں ...

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

گاندھی سے گوڈسے کی طرف پھسلتے ہوئے انتخابی نتائج   ۔۔۔۔    اداریہ: کنڑاروزنامہ ’وارتا بھارتی‘  

لوک سبھا انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے  اور بی جے پی کو تاریخ سازکامیابی حاصل ہونے پر مینگلور اور بنگلور سے ایک ساتھ شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ وارتھا بھارتی نے  بے باک  اداریہ لکھا ہے، جس کا اُردو ترجمہ بھٹکل کے معروف صحافی ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب نے کیا ہے،  ساحل ا ٓن لائن ...

اتر پردیش میں لاقانونیت: بلند شہر میں پولیس پر حملہ۔منظم طور پر گؤ رکھشکوں کے بڑھائے گئے حوصلوں کا نتیجہ۔۔۔(ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ )

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں مبینہ طور پر گؤ کشی کے خلاف احتجاجی ہجوم کی جانب سے پولیس پر دہشت انگیز حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گؤ رکھشکوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہوگئے ہیں۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...