کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی

Source: S.O. News Service | Published on 7th March 2020, 9:13 PM | عالمی خبریں |

 نیویارک،7؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ کا ہندسہ عبور کر گئی ہے جب کہ عالمی ادارۂ صحت نے اس مہلک وبا کے پھیلاؤ کو انتہائی پریشان کن صورتِ حال قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق کرونا وائرس سے اب تک لگ بھگ 3500 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ یہ مہلک وبا دنیا کے 92 ممالک اور علاقوں میں پھیل چکی ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے ساحل پر لنگر انداز ایک تفریحی بحری جہاز میں سوار 21 مسافروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ تفریحی بحری جہاز اسی کمپنی 'پرنسس کروز شپ' کا ہے جس کے ایک اور جہاز 'ڈائمنڈ پرنسس' کو گزشتہ ماہ جاپان کے ساحل پر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ اس میں سوار 3700 مسافروں میں سے تقریباً 700 بیماری کے متاثرین نکلے تھے۔

سان فرانسسکو کے ساحل پر یہ جہاز بدھ سے موجود ہے جس میں سوار تمام افراد کو جہاز میں ہی رکھا گیا ہے۔ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کا کہنا ہے کہ جہاز پر سوار تمام 3533 مسافروں اور عملے کے ٹیسٹس کیے جائیں گے۔

وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ پر عالمی ادارۂ صحت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینم نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کو دیگر تمام اقدامات پر فوقیت دیں۔

جمعے کو سلواکیا، سربیا، ویٹی کن، پیرو اور کیمرون میں کرونا وائرس کے پہلے کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ نیدرلینڈ میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔

دوسری جانب چین میں کرونا وائرس کے کیسز میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ہفتے کو ملک بھر میں جو نئے کیسز رپورٹ ہوئے وہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے کم تعداد ہے۔

چینی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد صوبۂ ہوبے سے قرنطینہ اٹھا لیں گے۔ قرنطینہ کے نفاذ کے بعد پانچ کروڑ سے زائد آبادی والا صوبۂ ہوبے تاحال مکمل طور پر بند ہے۔

ہوبے کے شہر ووہان کے علاوہ پورے صوبے میں گزشتہ دو روز کے دوران کرونا وائرس کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ خیال رہے کہ ہوبے چین کا وہی صوبہ ہے جہاں سے شروع ہونے والی کرونا وائرس کی وبا پوری دنیا میں پھیل گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی