ایران کاآئی اے ای اے کی خاتون انسپکٹر کو خوف زدہ کرنا شرم ناک ہے: پومپیو

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 9th November 2019, 7:27 PM | عالمی خبریں |

نیویارک،9نومبر(آئی این ایس انڈیا)امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی خاتون انسپکٹر کے ساتھ جس طرح کا معاملہ کیا ہے وہ شرم ناک ہے۔پومپیو نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ دہشت زدہ کرنے کا ایک وحشیانہ اور بلا جواز عمل ہے۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے ایک اعلان میں بتایا تھا کہ اس کی ایک خاتون انسپکٹر کو گذشتہ ہفتے مختصر عرصے کے لیے ایران سے کوچ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق یہ برتاؤ کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔امریکی بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی تحقیقاتی سرگرمیوں کو مکمل سپورٹ کرتا ہے البتہ ہمیں ایران کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہ ہونے پر تشویش ہے۔پومپیو کے مطابق ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے انسپکٹروں کو بلا رکاوٹ اپنا کام انجام دینے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق ایٹمی توانائی کی ایرانی ایجنسی نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے آئی اے ای اے کی ایک خاتون انسپکٹر کو نطنز میں یورینیم افزودہ کرنے کے ایک مرکز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ایجنسی کے مطابق جب خاتون نے نطنز کے مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسکریننگ گیٹ کی گھنٹی بج گئی۔ ایرانی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ خدشہ تھا کہ مذکورہ خاتون انسپکٹر اپنے ساتھ مشکوک مواد لے کر جا رہی تھی۔ ایجنسی کے مطابق مذکورہ انسپکٹر کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا اور وہ ایران کی اراضی سے کوچ کر کے واپس ویانا پہنچ گئی۔یاد رہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو اس بات کی اجازت دینے پر آمادہ ہو گیا تھا کہ ایجنسی 130 سے 150 انسپکٹروں کو ایران بھیج سکتی ہے۔اس سے قبل امریکا نے ایران پر ’جوہری بلیک میلنگ‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ تہران پر دباؤ میں شدت لائی جائے گی۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایران کے پاس اپنے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو وسعت دینے کا کوئی جواز نہیں ہے اور جوہری بلیک میلنگ کی کوشش کا نتیجہ صرف تہران کی سیاسی اور اقتصادی تنہائی کو مزید گہرا بنائے گی۔امریکا کا یہ موقف ایران کے اُس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ فردو کی جوہری تنصیب میں یورینیم کی افزودگی کو دوبارہ شروع کیا جائے گا جو اس سے قبل منجمد تھی۔یاد رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اُن کا ملک فوردو کے پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دے گا۔ یہ پلانٹ قُم شہر کے نزدیک واقع ہے جو شیعوں کے نزدیک تقدس کا حامل ہے۔ سال 2015 میں امریکا اور پانچ بڑے ممالک کے ساتھ جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اس پلانٹ کی سرگرمیاں روک دی تھیں۔

ایک نظر اس پر بھی

لیبیا : فائز السراج اکتوبر کے اختتام تک اقتدار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار

لیبیا میں وفاق حکومت کی صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اکتوبر کے اختتام تک اقتدار سے دست بردار ہونے اور اپنی ذمے داریاں ایگزیکٹو اتھارٹی کے حوالے کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ...

سمندری طوفان 'سیلی' امریکی ساحل سے ٹکرا گیا، شدید بارشوں کی پیشن گوئی

سمندری طوفان 'سیلی' بدھ کی صبح امریکی ریاست الاباما کے ساحلی قصبوں سے ٹکرا گیا۔ اپنے ساتھ تند و تیز ہوائیں اور شدید بارشیں لانے والے طوفان کے متعلق موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وہ خلیجی ساحل کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی اور سیلاب لا سکتا ہے۔ ...

امن مذاکرات کے باوجود افغانستان میں طالبان کے حملوں میں 17 ہلاکتیں

دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے وفود کے درمیان امن مذاکرات کے دوران طالبان افغانستان کے اندر بدستور اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کے شمالی حصے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مختلف واقعات میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ...