فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھنے والے اہل کار نے پالیسی کی خلاف ورزی کی: پولیس چیف کا بیان

Source: S.O. News Service | Published on 7th April 2021, 6:18 PM | عالمی خبریں |

نیویارک، 7/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) امریکہ میں گزشتہ سال مئی میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت میں نامزد پولیس افسر ڈیرک شاوین کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں پیر کو منی ایپلس پولیس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کی گواہی قلم بند کی گئی۔

منی ایپلس پولیس کے سربراہ میڈاریا اراڈونڈو کا کہنا تھا کہ جارج فلائیڈ کو حراست میں لینے کے بعد نو منٹ سے زائد تک ان کی گردن پر گھٹنا رکھ کر دبانے والے پولیس افسر ڈیرک شاوین نے محکمے کی پالیسی پر عمل نہیں کیا۔

پیر کو عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے میڈریا ارانڈونڈو کا مزید کہنا تھا کہ جارج فلائیڈ کو ہتھکڑیاں لگانے کے بعد گردن دبانا یا زیرِ کرنا محکمۂ پولیس کی پالیسی یا تربیت نہیں ہے۔ ان کے بقول اس کے ساتھ ساتھ یہ اخلاقیات اور ہماری روایات کے بھی برخلاف ہے۔

منی ایپلس پولیس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ افسران کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی صورتِ حال کی سنگینی کو کم کریں یا طاقت کے کم سے کم استعمال کو یقینی بنائیں۔ اسی طرح انہیں ابتدائی طبی امداد دینے کی بھی تربیت دی جاتی ہے اور یقینی طور پر یہ ہماری ذمے داری بھی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 25 مئی کو جارج فلائیڈ ایک پولیس کی تحویل میں اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب ایک اہل کار ڈیرک شاوین نے ان کی گردن اپنی ٹانگ سے نو منٹ تک مسلسل دبائے رکھی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو اردگرد کھڑے شہریوں نے بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی تھی جس کے بعد امریکہ کے کئی شہروں اور دنیا بھر میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

ڈیرک شاوین اور ان کے دیگر ساتھیوں کو پولیس کے محکمے نے اس واقعے کے بعد نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔ اب ان پر جارج فلائیڈ کے قتل کا الزام ہے جب کہ ان کے ساتھیوں پر معاونت کے الزامات ہیں۔

حال ہی میں مقامی حکومت نے جارج فلائیڈ کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے تصفیے کے لیے دو کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرنے کی حامی بھری ہے۔

میڈاریا اراڈونڈو منی ایپلس شہر پولیس کے پہلے سیاہ فام سربراہ ہیں۔ انہوں نے جارج فلائیڈ کی ہلاکت 'قتل' قرار دیا تھا۔ انہوں نے ہی ڈیرک شاوین اور دیگر تین پولیس اہل کاروں کو محکمۂ پولیس سے فارغ کیا تھا۔

سفید فام ڈیرک شاوین نے پولیس کی نوکری سے فارغ ہونے سے قبل تک 19 برس محکمے میں خدمات انجام دیں تھیں۔ ان کے خلاف الزامات کے سماعت 12 رکنی جیوری کر رہی ہے۔ ڈیرک شاوین نے ان پر قتل سمیت دیگر الزامات کی تردید کی ہے۔

ڈیرک شاوین کے وکیل کے مطابق جارج فلائیڈ کی موت ان کی صحت سے متعلق معاملات کے باعث ہوئی تھی۔ وکیلِ صفائی کا مزید کہنا تھا کہ ڈیرک شاوین نے پولیس کی تربیت کے مطابق جارج فلائیڈ کو گرفتار کیا تھا۔

قبل ازیں جیوری نے منی ایپلس اسپتال کے ایمرجنسی روم کے ڈاکٹر کی گواہی بھی ریکارڈ کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

برطانیہ کا ڈیجیٹل کرنسی ’برِٹ کوائن‘ بنانے پر غور

بینک آف انگلینڈ اور برطانوی وزارت خزانہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ایک سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی بنانے کے امکان پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ہارڈ کرنسی کا استعمال کم ہو رہا ہے جبکہ کورونا وباء کی وجہ سے نوٹوں کا استعمال مزید کم ہو کر رہ ...

ہانک کانگ نےہندوستان،پاکستان اور فلپائن کی پروازوں پر لگائی دو ہفتوں کی پابندی

کورونا وبا کےپھیلاؤ کےپیش نظر ہانگ کانگ نے فیصلہ کیا ہےکہ وہ اگلےدوہفتوں کےلئےہندوستان، پاکستان اور فلپائن سےآنےوالی پروازوں پر پابندی لگارہا ہے۔ہانگ کانگ نےان تین ممالک سےآنےوالی تمام پرواز یں معطل کر دی ہیں۔ہانک کانگ کےذمہ داران اس کی وجہ کووڈ19 کے ایشیائی ممالک میں ...