سپریم کورٹ میں ہیٹ اسپیچ سے لے کر گیان واپی اور مہاراشٹر-کرناٹک سرحدی تنازعہ جیسے اہم مسائل پر ہوگی سماعت

Source: S.O. News Service | Published on 23rd November 2022, 11:43 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 23؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  نومبر کے آخری ہفتے میں سپریم کورٹ میں کئی بڑے مقدمات کی سماعت ہونے والی ہے، یہ سلسلہ اس پیر سے بھی جاری ہے۔ اسی سلسلہ میں آج سپریم کورٹ میں کئی اہہم مقدمات کی سماعت ہوگی۔ ان میں سے کچھ کیس ایسے ہیں جن پر پورے ملک اور میڈیا کی نظریں کافی عرصے سے مرکوز ہیں۔

نفرت انگیز تقریر کا تنازعہ: سپریم کورٹ آج نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) کی عرضیوں پر سماعت کرے گی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے 22 ستمبر کو اس معاملے کی سماعت کی تھی۔ تب عدالت نے مرکزی حکومت کو یہ بتانے کی ہدایت دی تھی کہ کیا وہ نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے لا کمیشن کی سفارشات پر کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ہم نفرت کو ہوا نہیں دے سکتے۔

مہاراشٹر-کرناٹک سرحدی تنازعہ پر: گزشتہ کئی سالوں سے زیر التوا مہاراشٹرا کرناٹک سرحدی تنازعہ پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی ہے۔ یہ تنازع ریاست مہاراشٹر کے قیام کے بعد سے دونوں ریاستوں کے درمیان چل رہا ہے۔ اس سال 30 اگست کو اس معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تھی۔ اس کے بعد عدالت نے 23 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔

گڑگاؤں کے شہزادہ قتل کیس میں: گڑگاؤں کے مشہور شہزادہ قتل کیس میں بھی آج سماعت ہونے والی ہے۔ دراصل، جووینائل جسٹس بورڈ (جے جے بورڈ) کے فیصلے کے خلاف دفاعی فریق نے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے مدعا علیہ نے کہا کہ ملزم کو نابالغ سمجھا جانا چاہیے تھا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سماعت کے لیے 23 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔ خیال رہے کہ 17 اکتوبر 2022 کو جووینائل جسٹس بورڈ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ملزم بھولو کو بالغ قرار دیا تھا۔

گیان واپی مسجد معاملہ پر بھی سماعت: آج  سپریم کورٹ میں گیان واپی مسجد کیس کی سماعت ہوگی۔ حالانکہ یہ کیس اہم معاملہ سے مختلف ہے۔ عدالت آج شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند کی عرضی پر سماعت کرے گا۔ اس میں انہوں نے گیان واپی کے احاطے میں پائے جانے والے مبینہ شیولنگ کی پوجا کرنے اور آرتی کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ اس معاملے کی سماعت 18 نومبر کو ہونی تھی لیکن اسے ملتوی کر دیا گیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 23 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔

مرنے کے حق کے قانون کے بارے میں: سپریم کورٹ آج ’لیونگ وِل‘ یعنی مرنے کے حق کے قانون کے سلسلے میں جاری رہنما خطوط میں ترمیم کے مطالبے پر سماعت کرے گا۔ اس سال ستمبر میں ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے ایک متفرق درخواست پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے 9 مارچ 2021 کے فیصلے میں لیونگ وِل/ ایڈوانس میڈیکل ڈائریکٹیو کی گائیڈ لائنز میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

گرام پنچایتوں کیلئے آئین کی نقل تقسیم: وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی

وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ ریاست کے تمام گرام پنچایتوں کی لائبریریوں میں آئین کی نقل کے ساتھ گرام پنچایت 73اور 74ویں ترمیم، پنچایت راج قوانین کی نقول بھی روانہ کرکے وہاں بھی آئین پر مبنی انتظامیہ فراہم کرنا حکومت کا مقصد ہے۔

ووٹر ڈاٹا چوری معاملہ: 4 بی بی ایم پی افسروں سمیت اب تک11افراد گرفتار

ووٹرلسٹوں میں مبینہ ہیراپھیری،چھیڑ چھاڑ اور چیلومے نامی ادارے کے کارکنوں کو سرکاری عہدیداروں کا فرضی شناختی کارڈ دینے کے معاملے کی سختی سے جانچ کرتے ہوئے شہر کی پولیس نے اب تک اس کیس میں 11 افراد کو گرفتار کیا ہے -

بنگلورو: بی بی ایم پی بجٹ میں عوام کو شامل کرنے”مائی سٹی۔مائی بجٹ“ مہم

بروہت بنگلور مہا نگر پالیکے(بی بی ایم پی) بجٹ میں عوامی مشوروں کو شامل کرنے کے مقصد سے جنا گراہا نامی رضاکارانہ ادارے کی جانب سے ہر سال ”مائی سٹی۔مائی بجٹ“(اپنا شہر۔اپنا بجٹ) مہم چلائی جاتی ہے جس کے تحت بی بی ایم پی کے تمام وارڈز میں مہم کے دوران مقامی افراد سے مشورے حاصل کر کے ...

بیلگاوی کرناٹک میں رہے یامہاراشٹر میں کیافرق پڑنے والاہے: کمارسوامی

سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے بی جے پی کوشدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے جا رہے بی جے پی والو، کیا آپ یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم سب ہندوستانی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو بیلگام یہاں کرناٹک میں رہے یامہاراشٹر میں کیافرق پڑنے والاہے،ہم سب ہندوستانی ہیں؟

بیلگام: مدرسہ کی 4طالبات سیلفی لینےکے دوران ندی میں غرق؛ ایک کو بچالیا گیا

بیلگام سرحد سے متصل ، مہاراشٹرا کے کتواڑ فالس میں سیلفی لینے کے دوران مدرسہ میں زیر تعلیم  4طالبات توازن کھو کر غرق ہوگئیں  اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ واقعہ سنیچر کو پیش آیا۔ حادثے میں ایک طالبہ کو بچالیا گیا ہے، مگر اس کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

پونے : پھر گرم ہوا کرناٹکا - مہاراشٹرا سرحدی تنازعہ - کرناٹکا کی بسوں پر پوتا گیا کالا رنگ - مہاراشٹرا کی حمایت میں لکھے گئے نعرے

کرناٹکا اور مہاراشٹرا کے بیچ جو سرحدی تنازعہ ہے اس پر کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ بسوا راج بومئی نے جو بیان دیا تھا اس کے خلاف مہاراشٹرا کے کئی علاقوں میں مراٹھا تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے ۔ اسی کے ساتھ  کے ایس آر ٹی سی  کی بین الریاستی بسوں پر بعض جگہ کالا رنگ پوتا گیا اور اس پر ...

راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اندور سے برولی پہنچی

 کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا چھٹے دن آج صبح اندور سے مدھیہ پردیش کے برولی گاؤں کی طرف روانہ ہوئی۔ ان کے ساتھ کانگریس کے درجنوں سینئر رہنما اورافسران کے علاوہ ہزاروں کارکنان بھی موجود ہیں۔

مہاراشٹر میں ریلوے فٹ اوور برڈج کاحصہ گرپڑا 20افراد سے زیادہ زخمی،8کی حالت تشویشناک

) مہاراشٹر کے چندر پور میں بلارشاہ ریلوے اسٹیشن پر فٹ اوور برڈج کا ایک حصہ گرنے سے ایک بڑا حادثہ پیش آیا- کئی مسافر تقریباً 60فٹ کی بلندی سے پٹری پر پل سے گر گئے- حادثے میں 20مسافر زخمی ہو گئے-8 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے-

گجرات کے نوجوان نوکریاں دینے کے جھانسے کو سمجھ چکے ہیں: ملکارجن کھرگے

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے اتوار کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے نام پر صرف جھانسہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گجرات کے نوجوان اس کی اصلیت کو سمجھ چکے ہیں اور اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اس کا مناسب جواب ملے گا۔

راہل گاندھی نے 'بھارت جوڑو یاترا' میں چلائی بلیٹ موٹر سائیکل، پدیاترا میں انہیں دیکھنے کے لیے امڈا جم غفیر

مدھیہ پردیش میں کانگریس کی 'بھارت جوڑو یاترا' جاری ہے۔ پدیاترا میں کافی بھیڑ جمع ہو رہی ہے۔ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پد یاترا میں شامل ہو رہے ہیں۔ راہل گاندھی کو آج 'بھارت جوڑو یاترا' کے دوران بلٹ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس جی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آگئی ...

مدھیہ پردیش کی شیوراج سنگھ حکومت عوام کو دے رہی ’انتخابی دھوکہ‘:میناکشی نٹراجن

حال ہی میں صدر دروپدی مرمو نے مدھیہ پردیش میں دو دن کا قیام کیا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے شہڈول ضلع کے لال پور میں برسا منڈا جینتی کے موقع پر منعقدہ ’آدیواسی گورو دیوس‘ میں مدھیہ پردیش 'پی ای ایس اے' اصول کے باضابطہ نفاذ کا اعلان کیا گیا۔