بھٹکل:پھر شروع ہوا جے ڈی ایس اور بی جے پی کا ہنی مون سیزن - ہَوا میں لٹک گیا ضلع کے جے ڈی ایس لیڈران کا سیاسی مستقبل ۔۔۔ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے ۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

Source: S.O. News Service | Published on 10th September 2023, 10:28 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس | اداریہ |

رنگ بدلتے سیاسی موسم کے بیچ اگلے پارلیمانی انتخابات کے پس منظر میں جنتا دل ایس کے سپریمو سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا اور موجودہ وزیر اعظم  نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے درمیان ہوئے سمجھوتے کے ساتھ ریاست میں پھر ایک بار جے ڈی ایس اور بی جے پی کا نیا ہنی مون سیزن - ۲ شروع ہونے جا رہا ہے جس کے بعد ضلع کے جے ڈی ایس لیڈران کا سیاسی مستقبل ہَوا میں لٹکتا محسوس ہو رہا ہے ۔ 
    
گھاس کا پُولا اور کنول کا پھول:    پارلیمانی انتخاب میں کانگریس کے ہاتھ سے دو دو ہاتھ کرنے کی خواہش میں دیوے گوڈا نے گھاس کا پُولا سر پر اٹھائی ہوئی خاتون کے جوڑے میں کنول کا پھول سجانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے نتیجے میں ریاست بھر میں کس طرح کے کانٹے دار پھل نکلیں گے یا پھر کنول کے اندر چھپے ہوئے کانٹے کے زہر سے خود گھاس کا پولا ڈھونے والی خاتون ہی ہمیشہ کے لئے ڈھیر ہو جائے گی اس بارے میں اٹکلیں تو لگائی جارہی ہیں، مگرحقیقی صورتحال دیکھنے کے لئے لوک سبھا کے انتخابات اور اس کے نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا ۔
    
ضلع اتر کنڑا کی صورت حال: البتہ جہاں تک ضلع اتر کنڑا کا تعلق ہے، یہاں جنتا دل ایس کی سیاسی زمین کچھ زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ابھی پچھلی بارمنعقد ہوئے اسمبلی انتخابات میں ضلع کی چھ سیٹوں میں سے صرف کمٹہ اور ہلیال حلقے کو چھوڑیں تو بقیہ مقامات پر جے ڈی ایس امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو چکی ہے۔ دوسری طرف گزشتہ اسمبلی انتخاب میں پوری ریاست کے ساتھ ضلع اترکنڑا میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کانگریس پارٹی کے قدم اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئے ہیں اور پارلیمانی انتخابات کے لئے اس کے کیڈر اور لیڈر دونوں کا مورال بہت ہی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ وہ لوگ آئندہ الیکشن میں بی جے پی کے دانت کھٹّے کرنے کی زبردست تیاری میں لگے ہیں اور جے ڈی ایس کو کسی بھی خاطر میں لانے کا ان کے لئے سوال ہی نہیں ہے۔ اسی خطرناک اور مخالفانہ ہوا کو محسوس کرتے ہوئے جنتا دل کے باپ اور بیٹے نے اپنی ڈوبتی کشتی بچانے کے لئے بی جے پی کے کیمپ میں شرن لینے میں ہی عافیت سمجھی ہے۔
    
لیڈروں کی پوزیشن ڈانواڈول: دیوے گوڑا کی نمو شاہ (نریندرا مودی + امیت شاہ) کے ساتھ بغل گیری کے بعد اتر کنڑا میں مسئلہ صرف جنتا دل ایس کے باقی رہنے اور نہ رہنے کا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ اب ضلع میں جنتا دل کے کچھ لیڈروں کا سیاسی مستقبل دوراہے پر ہَوا میں معلق اور ڈولتا ہوا ضرور محسوس ہو رہا ہے۔ 
    
مثلاً ایک زمانے سے ضلع میں  جے ڈی ایس کے کٹر حامی اوراہم لیڈر کے طور پر اپنی شناخت بنانے والے جناب عنایت اللہ شاہ بندری، کاروار میں دل بدلی کے کرتب دکھانے والے اور فی الحال جے ڈی ایس کے لیڈر اور سابق ایم ایل اے آنند اسنوٹیکر، گزشتہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر کانگریس سے چھلانک لگا کر جے ڈی ایس کے پالے میں چلے جانے والے ہلیال کے تجربہ کار سیاستداں شریکانت گھوٹنیکر اور کمٹہ حلقہ سے جے ڈی ایس امیدوار کے طور پر گزشتہ انتخاب میں بہت ہی کم ووٹوں سے شکست کھانے  والے سورج نائک سونی کی پوزیشن اس وقت خطرناک طریقے سے ڈانوا ڈول ہوگئی ہے ۔
    
ضلع میں لیڈران کا مسئلہ: اب تک گوڑا اور نمو شاہ  کے درمیان طے ہونے والی باتوں کا جو اشارہ ملا ہے اس کے مطابق جے ڈی ایس کو ریاست کی 28 سیٹوں میں سے صرف 4 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی اجازت ہوگی اور بقیہ 24 سیٹوں پر جے ڈی ایس کے حمایت کردہ  بی جے پی کے امیدوار ہونگے۔ اور اہم نکتہ یہ ہے کہ جے ڈی ایس کے لئے مختص کی گئی چار سیٹوں میں اتر کنڑا کی سیٹ شامل نہیں ہے۔  ضلع کے لیڈران کے لئے اب مسئلہ یہ ہے کہ  اگر وہ جے ڈی ایس میں بنے رہیں گے تو ان کے لئے ہنی مون کے قاعدے کے مطابق اپنے پارٹنر یعنے بی جے پی کے امیدوار کی تائید اور تشہیر کرکے اسے جیت سے ہمکنار کرنا لازمی ہوجائے گا ۔
    
سیاسی قبر کھودنے جیسی پوزیشن:  ایسے میں کمٹہ کے سورج نائک سونی اور ہلیال کے گھوٹنیکر کے لئے مشکل گھڑی سامنے آگئی ہے۔ کیونکہ ان دونوں حلقوں میں ان امیدواروں نے گزشتہ اسمبلی الیکشن میں جو ووٹ حاصل کیے ہیں، یا پھراس سے قبل کمٹہ  میں دینکر شیٹی اور ہلیال میں سنیل ہیگڈے نے جنتا دل امیدوار کی حیثیت سے اسمبلی الیکشن جو جیتا تھا، وہ جنتا دل ایس کے ووٹ بینک سے آنے والے ووٹ ہرگز نہیں ہیں، بلکہ یہ تو ان حلقوں میں مذکورہ امیدواروں کی اپنی سیاسی گرفت کے نتیجے میں ملنے والے ووٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب اگر سورج نائک سونی اور شریکانت گھوٹنیکر پارلیمانی انتخابات میں جنتا دل ایس کی وہپ پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی امیدوار کی جیت کے لئے تشہیر اور محنت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے ووٹروں یا حامیوں کو خود اپنے ہاتھ  سے  بی جے پی کیمپ کے حوالے کر رہے ہیں۔ اور یہ بات ان کے لئے اپنی سیاسی قبر خود ہی کھودنے کے مترادف ہو جائے گی۔
    
کیا کانگریس میں موقع ملے گا: اس موڑ پر جنتا دل کے ان لیڈروں کے لئے کانگریس میں شامل ہو کر اپنا سیاسی مستقبل محفوظ رکھنے اور کانگریس کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے مواقع بھی کم ہی نظر آتے ہیں، کیونکہ کانگریس میں پہلے ہی سے پرشانت دیشپانڈے، مارگریٹ آلوا جیسے بلند قامت لیڈران موجود ہیں جن کی وجہ سے دوسروں کو ٹکٹ ملنا دشوار ہے۔ ویسے بھی اتر کنڑا پارلیمانی حلقہ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بی جے پی کا پلہ ہی بھاری رہا ہے جس کی وجہ سے بی جے پی امیدوار کو کانگریس کے بڑے لیڈران بھی شکست دینے میں ناکام رہ چکے ہیں۔ 
    
آنند اسنوٹیکر کی کشتی بھنور میں:    کاروار کے آنند اسنوٹیکر کی بات کریں تو ان کی کشتی بھی اس وقت بہت ہی بری طرح بھنور میں آگئی ہے۔ حالانکہ آنند اسنوٹیکر اس وقت تیکنیکی طور پر جنتا دل ایس کے لیڈر ہیں، لیکن انہوں نے خود ہی اعلان کیا تھا کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب میں وہ بی جے پی کے امیدوار ہونگے۔ اب بی جے پی اور جنتا دل کے گلے ملنے سے اسنوٹیکر کے لئے مشکل یہ کھڑی ہوگئی ہے کہ سابقہ اسمبلی الیکشن میں جنتا دل میں رہتے ہوئے بھی در پردہ کانگریسی امیدوار کے لئے کام کرنے کا جو خمیازہ ہے وہ اب بھگتنا پڑسکتا ہے۔ مقامی بی جے پی کارکنان بجا طور پر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اب آنند اسنوٹیکر کس منھ سے بی جے پی امیدوار کے لئے کام کریں گے ؟ 
    
ایک بات یہ بھی ہے کہ روپالی نائک اور سنیل ہیگڈے سمیت بی جے پی کے دیگر لیڈران کے ساتھ اسنوٹیکر نے جس طرح کا مخالفانہ رویہ اپنایا تھا اسے یہ لوگ بھلا نہیں سکیں گے۔ دوسری طرف جنتا دل لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کمارا سوامی بھی آنند اسنوٹیکر کی سیاسی تگڑم بازی سے تنگ آ چکے ہیں۔ ایسے حالات میں اسنوٹیکر کے لئے خود اپنے ہی ہاتھوں بچھائے جال سے باہر نکلنے اور اپنا ختم ہوتا ہوا سیاسی وجود باقی رکھنے کے لئے شاید کانگریس میں شامل ہونے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے، جو کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہو سکتا ہے ۔
    
عنایت اللہ شاہ بندری کے لئے 'اگنی پریکشا':    ہمارے خیال میں جنتا دل - بی جے پی ہنی مون سیزن - ۲ کی وجہ سے اب سب سے بڑی اگنی پریکشا ہمارے سیاسی و سماجی قائد عنایت اللہ شاہ بندری کی ہے۔ زمانہ دراز سے وہ ایک کٹر جنتا دل لیڈر ہیں اور برسہا برس سے ہر سرد و گرم موسم میں وہ جنتا دل کا ساتھ نبھاتے آئے ہیں۔ عنایت اللہ نے جے ڈی ایس کا ساتھ اس وقت بھی نہیں چھوڑا تھا جب نیشنل سطح پر بلند قامت سیاسی لیڈر کی پہچان رکھنے والے سی ایم ابراہیم جیسے لیڈروں نے تک دیوے گوڈا اور کمارا سوامی کا ساتھ چھوڑا تھا۔ عنایت اللہ صاحب نے جنتا دل کا ساتھ اس وقت بھی نہیں چھوڑا تھا جب کمارا سوامی نے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے کے لئے  بی جے پی کے کنول کو گلے میں سجایا تھا اوران دو پارٹیوں کا ہنی مون سیزن - ۱ شروع  کیا تھا ، بلکہ اس دوران جب وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کا بھٹکل سے گزر ہو رہا تھا تو انہوں نے سرکل کے پاس جے ڈی ایس لیڈر کی حیثیت سے ان کا پرتپاک استقبال اور گلپوشی کرنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنے سچے اور پکے جنتا دل سیاست دان ہیں۔ 
    
اب منظر نامہ دوسرا ہے:  لیکن اب عنایت اللہ شاہ بندری کے لئے منظر نامہ بالکل بدل چکا ہے۔ اب وہ صرف ایک سیاسی شخصیت اور جنتا دل ایس کے سچے پکے لیڈر نہیں رہے۔ اب وہ تو بھٹکل اور اطراف کے پورے مسلم طبقہ کے  سماجی لحاظ سے سردار کے بلند و بالا منصب پر فائز ہیں۔ سنگھی سیاست اور فسطائی جبر و ستم کی علمبردار بی جے پی کے خلاف محاذ اور مورچے کی حیثیت رکھنے والے بڑے ہی معتبر اور باوقار ملّی ادارے کے کمانڈر ہیں۔ اب جبکہ عنایت اللہ صاحب کو سیاسی میدان میں اپنے بیٹے کی طرح ماننے والے جنتا دل سپریمو دیوے گوڈا نے پھر ایک بار سیاسی مفاد پرستی کا مظاہرا کیا ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا حرام کرنے اور مسلمانوں کو سیاسی، ملّی اور مذہبی حیثیت سے تباہ کرنے کا ایجنڈا رکھنے والی فسطائی قوتوں سے ہاتھ ملایا ہے تو ظاہر ہے کہ عنایت اللہ شاہ بندری صاحب کے سامنے بھی 'نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن' (نہ بھاگ سکتے ہیں نہ رک سکتے ہیں) والی سچویشن درپیش آگئی ہے۔ اب چونکہ وہ سماجی و ملّی حیثیت سے فسطائیت مخالف مورچہ کے کمانڈروں کی صف میں کھڑے ہیں تو ان کے لئے جنتا دل ایس میں بنے رہنے اورآنے والے پارلیمانی انتخاب میں جنتادل لیڈر کی حیثیت سے  بی جے پی کے امیدوار کی حمایت میں کام کرنے اور صرف سیاسی لیڈر اور سیاسی تقاضوں کا حوالہ دے کربچ نکلنے کی گنجائش تو بہر حال نکل نہیں سکتی۔ 
    
لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ اتر کنڑا کے جنتا دل لیڈروں کے لئے  'آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی' والی صورتحال کا سامنا درپیش ہے اور ان کے لئے دونوں ہی صورتوں میں سیاسی موت یا خود کشی کے مرحلے سے گزرنا لازمی ہوگیا ہے ۔    

ایک نظر اس پر بھی

دکشن کنڑا میں 83 مقامات پر بج رہی خطرے کی گھنٹی - موسلا دھار برسات سے کھسک سکتی ہیں چٹانیں 

کئی دنوں سے چل رہی مسلسل برسات کی وجہ سے جگہ جگہ چٹانیں کھسکنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں ۔ اس وقت دکشن کنڑا میں 83 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں چٹانیں کھسکنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے ۔    

 انکولہ میں زمین کھسکنے کا معاملہ : ضلع انتظامیہ نے کی ملبے میں ٹرک دبے ہونے کی تصدیق؛ کیا زندہ برآمد ہوگا لاری ڈرائیور ؟

انکولہ تعلقہ کے شیرور میں پیش آئے چٹان کھسکنے کے المیہ کے بارے میں مزید کچھ اہم باتیں سامنے آ رہی ہیں، جس سے یقین ہوگیا ہے کہ ملبے کے اندر ایک بینز ٹرک دبا ہے ۔ اس وجہ سے ملبے کے اندر ٹرک کا لا پتہ ڈرائیور بھی موجود ہونے کا قوی امکان ہے۔

کمٹہ تعلقہ میں بھاری برسات کے بعد چٹان کھسک گئی  

اتر کنڑا میں موسلا دھار برسات کے نتیجے میں انکولہ تعلقہ کے  شیرور میں بڑے پیمانے پر چٹان کھسکنے کا جان لیوا حادثہ پیش آنے کے بعد اب کمٹہ تعلقہ میں الورومٹھ  کے قریب بھی ایک بڑی چٹان کھسک گئی ۔ اس سے کمٹہ سداپور شاہراہ مکمل طور پر بند ہوگئی ہے ۔

اڈپی میں ڈینگی کے بڑھتے معاملے - ڈاکٹری نسخے کے بغیر پیراسیٹامول گولی کی فروخت پر لگی پابندی

ضلع میں ڈینگی اور دوسرے متعدی امراض میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور زیادہ تر مریض خود ہی اپنا علاج (سیلف میڈیکیشن) کرنے لگے ہیں ۔ اس کی وجہ سے امراض کی نامناسب تشخیص اور نامکمل علاج کا سلسلہ چل پڑا ہے جس کا نتیجہ کبھی کبھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔

پیپر لیک سے ابھرے سوال، جوابدہی کس کی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آز: ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

پیپر لیک معاملہ میں ہر روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں ۔ اس کے تار یوپی، بہار، ہریانہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور دہلی سے جڑنے کی خبر ہے ۔ عجیب بات ہے کہ نیٹ پیپر لیک میں جن ریاستوں کے نام سامنے آئے دہلی کو چھوڑ کر ان سب میں ڈبل انجن کی سرکار ہے ۔ جس ایجنسی کے پاس امتحانات کرانے کی ذمہ ...

نیشنل ہائی وے کنارے کچروں کے ڈھیر نے بھٹکل کی خوبصورتی کوکیا داغدار؛ لوگ ناک پر انگلی دبائے گزرنے پر مجبور

بھٹکل تعلقہ کے ہیبلے پنچایت حدود کے حنیف آباد کراس کے قریب شہر کی خوبصورت فورلین قومی شاہراہ کنارے کچروں کا اتنا زیادہ ڈھیر جمع ہے کہ بائک اور آٹو پر گذرنے والے لوگوں کا ہاتھ اس علاقے میں پہنچتے ہی خودبخود ناک پر پہنچ جاتا ہے اور بڑی سواریوں والے اس بدبودار علاقے سے جلد از جلد ...

کیا وزیر اعظم سے ہم تیسری میعاد میں خیر کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟ ........... از : ناظم الدین فاروقی

18ویں لوک سبھا الیکشن 24 کے نتائج پر ملک کی ڈیڑھ بلین آبادی اور ساری دنیا کی ازبان و چشم لگی تھیں ۔4 جون کے نتائج حکمران اتحاد اور اپوزیشن INDIA کے لئے امید افزاں رہے ۔ کانگریس اور اس کے اتحادی جماعتوں نے اس انتخابات میں یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک میں بادشاہ گر جمہورہیں عوام کی فکر و ...

کاروار: بی جے پی کے کاگیری نے لہرایا شاندار جیت کا پرچم - کانگریس کی گارنٹیوں کے باوجود ووٹرس نے چھوڑا ہاتھ کا ساتھ  

اتر کنڑا سیٹ پر لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی امیدورا وشویشورا ہیگڑے کاگیری کی شاندار جیت یہ بتاتی ہے کہ ان کی پارٹی کے سیٹنگ ایم پی اننت کمار اور سیٹنگ رکن اسمبلی شیو رام ہیبار کی بے رخی دکھانے اور انتخابی تشہیر میں کسی قسم کی دلچسپی نہ لینے کے باوجود یہاں ووٹروں کے ایک بڑے حصے ...

کون بنے گا 'کنگ' اور کون بنے گا ' کنگ میکر'؟! - لوک سبھا کے نتائج کے بعد سب کی نظریں ٹک گئیں نتیش اور نائیڈّو پر

لوک سبھا کے اعلان شدہ انتخابی نتائج نے منگل کو یہ ثابت کر دیا کہ پوسٹ پول سروے ہمیشہ درست نہیں ہوتے  کیونکہ این ڈی اے اتحاد کی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں جو توقعات بنی یا بنائی گئی تھیں وہ پوری طرح  خاک میں مل گئیں۔

بھٹکل میں حل نہیں ہو رہا ہے برساتی پانی کی نکاسی کا مسئلہ - نالیوں کی صفائی پر خرچ ہو رہے ہیں لاکھوں روپئے

برسات کا موسم سر پر کھڑا ہے اور بھٹکل میں ہر سال کی طرح امسال بھی برساتی پانی کی نکاسی کے لئے سڑک کنارے بنائی گئی نالیاں مٹی، پتھر اور کچرے سے بھری پڑی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مانسون سے قبل برسنے والی ایک دن کی بارش میں پانی نالیوں کے بجائے سڑکوں پر بہنے اور گھروں میں گھسنے ...

یہ الیکشن ہے یا مذاق ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آز: ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ایک طرف بی جے پی، این ڈی اے۔۔ جی نہیں وزیر اعظم نریندرمودی "اب کی بار چار سو پار"  کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ وہیں دوسری طرف حزب اختلاف کے مضبوط امیدواروں کا پرچہ نامزدگی رد کرنے کی  خبریں آرہی ہیں ۔ کھجوراؤ میں انڈیا اتحاد کے امیدوار کا پرچہ نامزدگی خارج کیا گیا ۔ اس نے برسراقتدار ...

اُترکنڑا میں جنتا دل ایس کی حالت نہ گھر کی نہ گھاٹ کی ! کمارا سوامی بن کر رہ گئے بغیر فوج کے کمانڈر !

ایسا لگتا ہے کہ جنتا دل ایس نے بی جے پی کے ساتھ شراکت کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے ریاستی سطح پر ایک طرف کمارا سوامی بغیر فوج کے کمانڈر بن کر رہ گئے ہیں تو دوسری طرف ضلعی سطح پر کارکنان نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی کے نام پر محض چند لیڈران ہی اپنا دربار چلا رہے ہیں جسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے ...

انتخابی سیاست میں خواتین کی حصہ داری کم کیوں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک کی پانچ ریاستوں کی ہواؤں میں انتخابی رنگ گھلا ہے ۔ ان میں نئی حکومت کو لے کر فیصلہ ہونا ہے ۔ کھیتوں میں جس طرح فصل پک رہی ہے ۔ سیاستداں اسی طرح ووٹوں کی فصل پکا رہے ہیں ۔ زندگی کی جدوجہد میں لگے جس عام آدمی کی کسی کو فکر نہیں تھی ۔ الیکشن آتے ہی اس کے سوکھے ساون میں بہار آنے کا ...

کیا کینرا پارلیمانی سیٹ پر جیتنے کی ذمہ داری دیشپانڈے نبھائیں گے ؟ کیا ضلع انچارج وزیر کا قلمدان تبدیل ہوگا !

پارلیمانی الیکشن قریب آنے کے ساتھ کانگریس پارٹی کی ریاستی سیاست میں بھی ہلچل اور تبدیلیوں کی ہوا چلنے لگی ہے ۔ ایک طرف نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار اور وزیر اعلیٰ سدا رامیا کے بیچ اندرونی طور پر رسہ کشی جاری ہے تو دوسری طرف پارٹی کے اراکین اسمبلی وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی ...

کانگریس بدلے گی کیا راجستھان کی روایت ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک کی جن پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں راجستھان ان میں سے ایک ہے ۔ یہاں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اقتدار کی ادلا بدلی ہوتی رہی ہے ۔ اس مرتبہ راجستھان میں دونوں جماعتوں کی دھڑکن بڑھی ہوئی ہیں ۔ ایک کی اقتدار جانے کے ڈر سے اور دوسری کی اقتدار میں واپسی ہوگی یا نہیں اس ...

غزہ: پروپیگنڈے سے پرے کچھ اور بھی ہے! ۔۔۔۔۔۔۔ از: اعظم شہاب

غزہ و اسرائیل جنگ کی وہی خبریں ہم تک پہنچ رہی ہیں جو سامراجی میڈیا ہم تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ خبریں عام طورپر اسرائیلی فوج کی بمباریوں اور غزہ میں جان و مال کی تباہیوں پرمبنی ہوتی ہیں۔ چونکہ جنگ جیتنے کا ایک اصول فریقِ مخالف کو اعصابی طور پر کمزور کرنا بھی ہوتا ہے، اس لیے اس طرح ...