کورونا کی نئی قسم (اومیکرون)سے پوری دنیا میں افراتفری، ہندوستان الرٹ، افریقہ سے بنگلور وآئے دو افراد پازیٹیو

Source: S.O. News Service | Published on 28th November 2021, 10:32 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو؍نئی دہلی، 28؍ نومبر (ایس او نیوز)کم ہوتے کورونا کے اثرات کے دوران جنوبی افریقہ سے نمودارہونے والی کورونا کی نئی قسم(اومیکرون)نے ہندوستان سمیت پوری دنیاکو ایک بارپھر خوف و دہشت میں مبتلاکردیاہے-افریقہ سے آنے والے لوگوں پر جہاں کئی ممالک نے پابندی لگادی ہے وہیں جنوبی افریقہ سے بنگلورو آئے دو افراد کے کورونا پازیٹیو پائے جانے سے انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے - محکمہ صحت نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ شاید اس سوال کا جواب ”ہاں“ ہے- وہ اس لئے کہ جنوبی افریقہ سے حال ہیں میں بنگلور پہنچنے والے دومسافرں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور ڈاکٹروں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ شاید یہ دونوں اومیکرون سے متاثر ہیں -یکم نومبر سے اب تک جنوبی افریقہ سے بنگلور ایرپورٹ پر 94مسافروں کی آمد ہوئی ہے - ان میں سے دو افراد کو کورونا وائرس کی شکایت کے ہونے کا پتہ چلا ہے جن میں سے ایک کو بمن ہلی کے بی بی ایم پی کووڈ کیئر سنٹر میں اور دوسرے کو ایک نجی ہوٹل میں کوارنٹائن کیا گیا ہے - ڈاکٹروں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دونوں مسافر شاید اومیکرون وائرس اپنے ساتھ بنگلور لے آئے ہیں اس لئے ان سے زیادہ احتیاط کی سفارش کی ہے - حکومت کی طرف سے جنوبی افریقہ سے آنے والے طیاروں سے اترنے والے مسافروں کی سخت جانچ کے احکامات صادر ہوئے ہیں -ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کی صدارت میں اومیکرون کے ممکنہ خطروں سے نپٹنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں ایرپورٹ پر اسکریننگ میں اضافہ کرنے اور ضرورت پڑنے پر سخت احتیاطی قدم اٹھانے کیلئے اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو اختیار دے دیا گیا- میٹنگ کے بعد ریاستی وزیر برائے محصولات آر اشوک نے اعلان کیاکہ کورونا کی تازہ لہر کو روکنے کیلئے حکومت کی طرف سے چند سخت قدم اٹھائے ہیں - انہوں نے کہا کہ کیرلا اور مہاراشٹرا کی طرف سے آنے والے مسافروں کے کووڈ ٹسٹ لازمی طور پر کیا جائے- بنگلور سمیت ریاست بھر میں جن لوگوں نے اب تک کووڈ کا ٹیکہ نہیں لگوایا ہے ان کو جلد ٹیکہ لگوایاجائے - جن لوگوں کو اب تک دوسرا ڈوز نہیں لگا دسمبر کی آمد سے قبل ان تمام کو دوسرا ڈوز دیا جائے- اشوک نے اعلان کیا کہ حکومت نے کالجوں کو ہدایت دی ہے کہ ان کے تمام کلچرل پروگرامس ملتوی کردیں - اسکولوں میں کووڈ کے کیسوں میں اضافہ کے متعلق انہوں نے کہا کہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے کہاگیا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں اور حسب ضرورت مناسب فیصلہ لیں -

وزیراعظم کی ہنگامی میٹنگ:ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کوروناوائرس کی نئی شکل اومیکرون اور دنیا کو درپیش وبائی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ہفتہ کوافسروں کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی- اس خطرے پر قابو پانے کیلئے چوکسی برتنے اورمستعدی کے ساتھ ا قدامات کرنے کی ہدایت دی-وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ بین الاقوامی پروازوں پر پابندیوں میں نرمی کے منصوبے پر نظرثانی کی جائے اورکووڈ رہنما ہدایات کے مطابق”‘خطرے والے ممالک“ سے آنے والے مسافروں کا سختی سے طبی معائنہ کیا جائے -ایک سرکاری بیان کے مطابق آج صبح دو گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں وزیر اعظم مودی کو کووڈ کی نئی شکل”اومیکرون“ سے متعلق خدشات سے آگاہ کیا گیا- انہیں اس کی خصوصیات اور مختلف ممالک سمیت ہندوستان پراس کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا گیا-بیان کے مطابق افریقہ میں پائی جانے والی کووڈ کی نئی شکل کی وجہ سے عالمی سطح پر پھیلے خوف کے درمیان وزیر اعظم نے آج عالمی وبا کی موجودہ صورتحال اور اس سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی-مسٹر مودی نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہندوستان میں بین الاقوامی پروازیں کھولنے کے منصوبے کا جائزہ لیں اور اس سمت میں احتیاط سے آگے بڑھیں - مسٹر مودی نے افسروں کو ہدایت دی کہ نئے خطرے کے پیش نظر بچاؤ پر زیادہ توجہ دیں -بیان میں کہا گیاکہ وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ کووڈ کے حوالے سے نئے ابھرتے ہوئے شواہد کے پیش نظر بین الاقوامی سفر پر پابندیوں میں نرمی کے منصوبوں کا جائزہ لیں -غور طلب ہے کہ صرف دو دن پہلے ہی وزارت داخلہ، امور خارجہ اور صحت کے ساتھ مشاورت کے بعد حکومت نے 15 دسمبر سے بین الاقوامی پروازوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا-مسٹر مودی نے کہا کہ‘خطرے میں پڑنے والے ممالک’سے آنے والے ہر مسافر کا اعلان کردہ قوانین اور ہدایات کے مطابق سختی سے طبی معائنہ کیا جائے گا-وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ سروی لنس اینڈ کنٹرول (کن ٹین منٹ) اسکیم کو ان علاقوں میں سختی سے نافذ کیا جائے جہاں کوروناسے زیادہ لوگ متاثر ہوں - کورونا ویکسین کی دوسری خوراک کی کوریج کو بڑھانے پر زور دیا جائے - ریاستوں کواس امر پر توجہ دینی چاہئے کہ جن لوگوں کو پہلی خوراک ملی ہے، انہیں دوسری خوراک وقت پر دی جائے - انہوں نے مرکز کے افسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ریاستی اور ضلعی سطح پرکووڈ کی نئی علامات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور پی ایس اے آکسیجن پلانٹس اور وینٹی لیٹرز کی جانچ کرنے اور انہیں تیار حالت میں رکھنے کیلئے ریاستی مشینری کے ساتھ تال میل کرنے پر زور دیا-وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کووڈ وبا کے نئے خطرے کے پیش نظر لوگوں کو بھی ماسک پہننے اور عوامی مقامات پر ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھنے جیسی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے -میٹنگ میں کابینہ سکریٹری راجیو گوبا، نیتی آیوگ کے رکن (صحت) ڈاکٹر- وی کے پال، ہوم سکریٹری اے کے بھلا، ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن، بائیو ٹیکنالوجی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش گوکھلے، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلرام بھارگو اور آیوش، شہری ترقیات کے سکریٹری، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رام سیوک شرما اور دیگر افسروں نے شرکت کی-

ایک نظر اس پر بھی

کوروناکے معاملات میں مسلسل اضافہ۔ رام نگرم ضلع کا کووڈ ہاٹ اسپاٹ ہونا خود عوام کو ستانے لگا

پچھلے دنوں ریاست بھر میں کووڈ کی تیسری لہرکے دوران اور اومیکرون کے تیزی سے پھیلنے کے باوجود ضلع میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد کم ہی نظرآرہی تھی،مگر پچھلے ایک ہفتے سے کووڈ کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے۔

اس موسم میں سردی و بخار عام ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں، 25؍ جنوری تک کورونا معاملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے: وزیر صحت کے سدھاکر

کرناٹک میں جنوری کی آخر تک کورونا معاملوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہونے کے خدشات کے درمیان منگل کو کورونا متاثرین کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ 

بنگلورو: 19سے زیادہ جرائم سے معا ملات میں ملوث ملزم راہل پر ہنومنت نگر پو لیس گو لی چلا کر گرفتار کرنے میں کا میاب

منشیات کے دھندہ سمیت جرائم کے19معا ملات میں ملوث ہوکر عدالت سے8مرتبہ وارنٹ جاری ہو نے کے باوجود پو لیس کو چکمہ دے کر فرار ہو رہے غنڈہ راہل پر گو لی چلا کر ہنو منت نگر پو لیس گرفتار کر نے میں کامیاب رہی۔

کووڈ پر قابو پانے کے لئے مہا لکشمی لے آ ؤٹ علاقہ میں وار روم کاقیام، کورونا متا ثرین کو فوری علاج کیلئے درکار اقدامات کئے جا ئیں گے:ریاستی وزیرگو پا لیا

ریاستی وزیر برائے آبکاری کے گوپالیا نے کہا کہ شہر میں روزانہ کووڈ معا ملات میں اضافہ کے پیش نظر اس پر قابو پانے کے لئے ریاستی حکومت نے احتیاطی اقدامات کئے ہیں۔

بنگلورو میں کووڈ کے بڑھتے معا ملات، سلیکان سٹی ڈینجر سٹی میں تبدیل ہوتادکھا ئی دے رہا ہے

بنگلورو شہر میں روزانہ کووڈ کے معا ملات میں اضافہ کے پیش نظر سلیکان سٹی ڈینجر سٹی کے طور پر تبدیل ہوتے دکھا ئی دے رہا ہے۔آنے والے دنوں میں شہر میں کووڈ کے معا ملات میں مزید اضافہ کے خدشات ہیں۔کل شہر میں کووڈ کے 23ہزار معاملات درج ہو ئے تھے،جس سے شہریوں میں خوف کا ماحول دکھا ئی ...

کووڈ کی دوسری اور ممکنہ تیسری لہر کے خدشات کے باوجود۔ بی بی ایم پی نے2,589کروڑ روپئے جائیدادا ٹیکس کے طور پر وصول کئے

کووڈ کی دوسری لہر اور ممکنہ تیسری لہر کے درمیان ہی بروہت بنگلور مہا نگر پا لیکے(بی بی ایم پی) نے جاریہ ما لی سال کے9ماہ کے دوران جملہ2,589 کروڑ روپیوں کا جائیداد ٹیکس وصول کیا ہے۔

ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس رنویر پر زوردار دھماکہ، 3 شہید، متعدد زخمی

ممبئی  میں ہندوستانی بحریہ کے ڈاکیارڈ پر منگل کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا ،یہاں جنگی جہاز آئی این ایس رنویر پر ایک زور دار دھماکہ ہواجس میں ہندوستانی بحریہ کے تین فوجی شہید ہو گئے ہیں۔ واقعہ کے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق دھماکہ آئی این ایس رنویر کے اندرونی ...

ایئر انڈیا نے کیا 5 جی معاملہ پر امریکہ کے لئے پروازوں میں تخفیف کا اعلان

ایئرانڈیا سمیت کئی بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں نے 5جی موبائل فون سروس اور پیچیدہ ہوا بازی ٹیکنالوجیز کے درمیان مداخلت کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے باعث بدھ سے امریکہ کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس نے دہلی سے امریکہ میں سان فرانسسکو، شکاگو اور جے ایف کے ...

اعظم خان رامپور سے میدان میں، بیٹے کو بھی ٹکٹ۔اعظم خان رامپور شہر سیٹ سے 9 مرتبہ فتح حاصل کرچکے ہیں،فی الحال یہاںسے رُکن پارلیمنٹ ہیں،بیٹے عبداللہ اعظم سوار ٹانڈہ سے قسمت آزمائیں گے

سماج وادی پارٹی نے رامپور ضلع کی پانچوں اسمبلی سیٹوں سے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہےجس میں سب سے بڑا اور اہم نام پارٹی کے قد آور مسلم لیڈر اور موجودہ رکن پارلیمنٹ اعظم خان کا ہے۔

ہندوستان میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں، کورونا کو روکنے کیلئے موجودہ اقدامات کافی، مکمل لاک ڈاؤن سے فائدے کم، نقصانات زیادہ:ڈبلیو ایچ او

ہندوستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے باوجود فی الحال مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے- یہ بات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او)نے کہی -