ضلع شمالی کینرا میں برسات اور سیلاب سے بگڑتی صورتحال۔ دیہات ہوگئے جزیروں میں تبدیل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th August 2019, 5:05 PM | ساحلی خبریں |

کاروار 10/اگست (ایس او نیوز) ایسا لگتا ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ برسات اور سیلاب کی صورت حال بگڑتی جارہی ہے، کیونکہ موسلادھار بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

شمالی کینرا کی کالی ندی اور گنگاولی ندی کے کناروں پر بسنے والوں کے علاوہ کاروار، انکولہ اور یلاپور کے تعلقہ جات میں برسات کی وجہ سے کافی تباہی مچی ہے۔جمعہ کے دن گنگاولی ندی پر بنا ہوا جھولتا پُل (ہینگنگ برج) سیلاب میں بہہ گیا۔بیڈتی ندی میں طغیانی کی وجہ سے سرسی اور یلاپور کے درمیان رابطے والا راستہ بالکل منقطع ہوگیا ہے۔انکولہ تعلقہ کے کئی دیہات سیلاب کی وجہ سے جزیروں میں بدل گئے ہیں۔متاثرین کو ریلیف پہنچانے کے لئے نیوی کا ایک ہیلی کاپٹر ضروری امدادی سامان کے ساتھ کاروار بحری اڈے سے روانہ کیا گیا تھا، مگر موسم انتہائی بدتر ہونے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کو واپس لوٹ آنا پڑا۔انکولہ پولیس اور مقامی ماہی گیر پانی سے گھرے لوگوں کو امداد پہنچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں، مگرتمام متاثرتک امداد پہنچانا ابھی ممکن نہیں ہوا ہے۔

محکمہ موسمیات کی طرف سے ریڈ الرٹ جاری کیے جانے کے بعد ضلع شمالی کینرا کے تعلیمی اداروں کو سنیچر کے دن بھی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ اتوار کی ہفتہ واری چھٹی کے علاوہ پیر کے دن بقر عید کی چھٹی بھی رہے گی۔

گھاٹ کے علاقے میں زبردست بارش کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے احتیاطی طور پرمنگلورو سے نیشنل ڈیساسٹر ریسپونس فورس کی ایک ٹیم کو کاروار کے لئے طلب کیا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پچھلے ایک ہفتے سے ہورہی لگاتار اور بھاری برسات کی وجہ سے اب تک ضلع شمالی کینرا کے 106دیہات بہت بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔11200سے زائد افراد 93راحت کیمپوں میں منتقل کیے گئے ہیں اور وہاں ان کے لئے کھانے پینے اور رہائش کاانتظام سرکاری طور پر بھی کیا گیا ہے اور بعض مقامات پر سماجی فلاحی ادارے بھی اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بتایا ہے کہ این ڈی آر ایف ٹیم کو طلب کرلیا گیا ہے۔ سیلاب کی صورتحال ابھی قابو میں ہے، اس لئے عوام کو بہت زیادہ خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ضلع انتظامیہ نے ان حالات سے نمٹنے کے لئے تمام انتظامات کرلیے ہیں۔ڈی سی مزید بتایا کہ فی الحال ضلع کے اندر 26پُل پانی میں ڈوب گئے ہیں اور بشمول نیشنل ہائی وے 66بہت ساری اہم سڑکیں زیر آب ہوگئی ہیں۔ضلع کے 12تعلقہ جات میں 1,763گھروں کو بارش اور سیلاب کی وجہ سے نقصان پہنچاہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔