ایچ کے پاٹل نے راہل گاندھی کو بھیجا استعفیٰ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 25th May 2019, 4:06 AM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ہبلی، 24 مئی (یو این آئی/ایس او نیوز) ریاست میں کانگریس کے تشہیری مہم کمیٹی کے صدر ایچ کے پاٹل نے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دینے کی پیشکش کی ہے۔

کانگریس پارٹی نے 21 سیٹوں پر چناؤ لڑا جس میں وہ صرف ایک سیٹ پر جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ پارٹی نے اپنی معاون جنتادل (ایس) کو سات سیٹیں دی تھیں۔ دونوں پارٹیاں صرف ایک ایک سیٹ پر ہی جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں جس میں بنگلورو دیہی سے کانگریس کے موجودہ رکن پارلیمنٹ ڈی کے سریش ہیں جو وزیر ڈی کے شیو کمار کے بھائی ہیں اور جنتادل (ایس) کے پرجول ریونا نے ہاسن سے جیت حاصل کی ہے۔

مسٹر پاٹل نے جمعہ کو یہاں صحافیوں سے کہا کہ“ہم لوگوں کو عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا اور میں انتخابات میں پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتا ہوں اور اپنا استعفی نامہ کانگریس صدر راہل گاندھی اور کرناٹک ریاستی صدر دنیش گنڈو راؤ کو ارسال کررہا ہوں۔مسٹر گاندھی نے لوک سبھا انتخابات تشہیری مہم شروع کرنے سے پہلے مسٹر پاٹل کو کرناٹک کانگریس تشہیری مہم کمیٹی کا صدر منتخب کیا تھا لیکن ان کا اندازہ سٹیک ثابت نہیں ہوسکا کیونکہ پارٹی اپنی نو سیٹوں میں سے صرف ایک سیٹ ہی بچانے میں کامیاب رہی ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو کی خواتین اب بھی ”گلابی سارتھی“ سے واقف نہیں ہیں

بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا،

بی ایم ٹی سی کے رعایتی بس پاس کے اجراء کی کارروائی اب بھی جاری مگر کارپوریشن نے اب تک 38,000 درخواستیں مسترد کی ہے

بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے طلباء کی طرف سے رعایتی بس پاس حاصل کرنے کے لئے داخل کردہ کل 38,224 درخواستوں کو اب تک رد کر دیا ہے اور اس کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں کی طرف سے ان طلباء کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔