طالبان قیدیوں کو جیلوں میں رکھنے کی خواہش نہیں: افغان صدر

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 8th March 2020, 9:18 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن، کابل /8مارچ (آئی این ایس انڈیا) افغان صدر نے واضح کیا ہے کہ وہ طالبان قیدیوں کو جیلوں میں رکھنے کی خواہش نہیں رکھتے۔ امریکا کے ساتھ امن ڈیل کے بعد طالبان نے اپنے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کو اہم قرار دے رکھا ہے۔افغان صدر اشرف غنی کا یہ بھی کہنا ہے طالبان قیدیوں کو جیلوں میں سے رہا نہ کرنے کی وجہ افغان عوام کے وہ خدشات ہیں کہ رہائی پانے والے طالبان عسکریت پسند آزادی حاصل ہونے کے بعد پھر سے پرتشدد کارروائیوں میں شامل ہو جائیں گے۔ غنی کے مطابق اس مناسبت سے عوامی تشویش کو زائل کرنے کے بعد ہی ایسے قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔یہ امر بھی اہم ہے کہ طالبان کے ترجمان نے خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن ڈیل پر دستخط کی تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انٹرا افغان مکالمت کے لیے ان پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کو بنیادی شرط قرار دیا تھا۔انٹرا افغان مذاکرات کی طے شدہ تاریخ دس مارچ ہے۔ یہ مذاکرات ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں شروع ہوں گے۔ اس اہم مذاکراتی پیش رفت کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ کو ہٹانے کے لیے پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کو عسکریت پسند تنظیم کی قیادت اہم قرار دیتی ہے۔ افغان طالبان کا اصرار ہے کہ امن ڈیل میں طے شدہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق شِق کا احترام بہت اہم ہے۔ طالبان اس پر متفق ہیں کہ وہ اپنے قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں ایک ہزار افغان حکومتی اہلکاروں کو بھی رہا کر دیں گے۔طالبان کے ملا عبدالغنی برادر اور امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد امن ڈیل پر دستخط کرنے کے بعدطالبان قیدیوں سے متعلق خیالات کا اظہار افغان صدر اشرف غنی نے نئی پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قیدیوں کو شفاف اندار میں ایک انتہائی واضح اور منظم طریقہئ کار کے تحت جیلوں سے آزاد کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پہلی مارچ کو ڈیل طے ہونے کے بعد اشرف غنی نے خاصے سخت انداز میں قیدیوں کی رہائی کے متعلق جو موقف اپنایا تھا اب اس میں واضح نرمی پائی گئی ہے، جو’حیران کن‘ ہے۔   

ایک نظر اس پر بھی

بحرین کی اسرائیل سے ڈیل،علاقائی سلامتی کو تقویت ملے گی: شیخ سلمان کی نیتن یاہو سے گفتگو

بحرین کے ولی عہد شیخ سلمان بن حمد آل خلیفہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔انھوں نے عالمی سلامتی اور امن کو مضبوط بنانے اور امن ، استحکام اور خوش حالی کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ایردوآن نے یو این میں اٹھایا مسئلہ کشمیر، ’اندرونی معاملات میں دخل نہ دے ترکی‘ انڈیا کی تاکید

 جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔