کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے باعث یورپ میں گھریلو تشدد کے خدشات

Source: S.O. News Service | Published on 28th March 2020, 4:45 PM | عالمی خبریں |

لندن،28؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) یورپی ممالک میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر کے طور پر انگنت خاندان اپنے گھروں میں محصور ہیں جس کے سبب گھریلو تشدد میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے سرگرم تنظیموں نے یورپ کو کرونا وائرس کا مرکز بننے کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم جرمن تنظیم کے مطابق بہت سے لوگوں کے لیے اُن کا گھر محفوظ جگہ نہیں ہے۔ معاشرتی تنہائی کی وجہ سے تناؤ بڑھ رہا ہے۔ لہذٰا خواتین اور بچوں پر جنسی تشدد کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

برلن سے لے کر پیرس، میڈرڈ، روم اور بریٹیسلاوا میں سرگرم خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے بھی کم و بیش ایسے ہی خدشات ظاہر کیے ہیں۔

'جرمن فیڈرل ایسوسی ایشن فار ویمن' کے مطابق خطرات صرف ان گھروں تک ہی محدود نہیں ہیں، جہاں گھریلو تشدد ایک مسئلہ تھا۔ بلکہ موجودہ صورتِ حال میں ملازمتیں کھو جانے کے خدشات، بیماری کے خوف اور مالی مشکلات سے بھی گھریلو تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فرانس میں کرونا وائرس سے شدید متاثرہ علاقے کی تنظیم 'پیرینٹس فیڈریشن' سے وابستہ فلورنس کلاڈپیئر کا کہنا ہے کہ یقیناً بعض خاندانوں پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ ایسے والدین کی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں، جن میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ ایسے والدین سے بھی رابطے میں ہیں جن کے رشتے کمزور پڑ رہے ہیں۔ حالانکہ پہلے انہیں اس قسم کی کوئی شکایت نہیں تھی۔

چین جہاں اب وائرس کا زور کم پڑ رہا ہے، وہاں خواتین کے حقوق سے وابستہ تنظیم 'ویپنگ' کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران خواتین پر تشدد کے واقعات میں تین گنا اضافہ ہوا۔

یورپی ممالک میں اٹلی کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اسپین میں دو بچوں کی ماں کو اس کے ساتھی نے گزشتہ ہفتے قتل کر دیا تھا۔

جرمنی کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ ذہنی یا جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں، نوجوان اور خواتین کا تشدد کرنے والے اپنے ہی ساتھیوں کے ساتھ مستقل رہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کبھی بھی ان کی بدسلوکی کا شکار ہو سکتی ہیں۔

گھریلو تشدد روکنے یا تشدد کا شکار افراد کی مدد کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں دوہری پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے بہت سے کارکنوں کو گھر سے کام کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث وہ متاثرین تک نہیں پہنچ پاتے۔ اگر پہنچ بھی جائیں تو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد کو موجودہ حالات میں کہاں منتقل کریں۔

تنظیموں کا کہنا ہے خواتین ان سے محفوظ مقام پر منتقلی کا پوچھتی ہیں لیکن ان کے پاس اس سوال کا اکثر جواب نہیں ہوتا۔

اٹلی جیسے سخت ترین لاک ڈاؤن کے شکار ممالک میں متاثرین کو بعض صورتوں میں استثنیٰ حاصل ہے۔ انہیں گھروں سے نکلنے کا جواز پیش کرنے کی صورت میں محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔

یورپی ملک سلوواکیہ کے دارالحکومت بریٹیسلاوا سے تعلق رکھنے والی ماہر نفسیات ایڈریانا ہاسوفا کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال غیر معمولی ہے۔ وہ امید کرتی ہیں چند ہفتوں میں لوگ گھروں سے نکل سکیں گے تاہم اگر یہ سلسلہ مزید چلا تو گھریلو تشدد میں کس حد تک اضافہ ہوگا یہ وہ تصور بھی نہیں کر سکتیں۔

ایک نظر اس پر بھی

پوری دنیا میں کورونا کا قہر جاری، متاثرین کی تعداد 63 لاکھ سے تجاوز

پوری دنیا میں عالمی وبا کورونا وائرس کا قہر جاری ہے اور ہر روز متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا متاثرین کی تعداد 63لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ اس وبا سے اب تک 3.73لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔

عراق: فضائی حملے میں دو فوجی اور دو دہشت گردوں کی موت

عراق کے صوبہ نینوا اور دييالہ میں پیر کو ایک فضائی حملے اور ایک بم دھماکے میں دو فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ دو دہشت گرد بھی مارے گئے۔ عراق کے جوائنٹ آپریشن کمانڈ کے میڈیا آفس نے ایک بیان میں بتایا کہ ایک حملہ میں دوعراقی فوجی ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔

انگلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی، 10 ہفتوں بعد کھلے اسکول

10 ہفتوں کے بعد برطانیہ کے انگلینڈ ریجن میں لاک ڈاؤن کے بعد اسکول کھول دیئے گئے، مگر نصف کے قریب والدین نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے گریز کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے گزشتہ روز لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں اسکولوں کا کھولا جانا بھی شامل تھا، کچھ علاقوں میں ...