امریکہ میں صدارتی انتخابی مہم اربوں ڈالر کا کھیل ہے

Source: S.O. News Service | Published on 13th July 2020, 5:54 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن،13/جولائی(آئی این ایس انڈیا) حکومت سازی کے لئے ہونے والے انتخابات کسی بھی ملک میں کوئی سستا کھیل تو نہیں ہے اور اس اس انتخابی عمل میں بے انتہا پیسہ خرچ ہوتا ہے لیکن وائس آف امریکہ، اردو، کے مطابق امریکہ میں الیکشن لڑنا سرمائے کا کھیل ہے، خاص طور پر صدارتی امیداورں کو تو اپنی انتخابی مہم پر کروڑوں ڈالر صرف کرنے پڑتے ہیں۔ یہ رقم چندوں کے ذریعے جمع کی جاتی ہے جس میں عام امریکی شہریوں سے لے کر بڑی بڑی کمپنیاں اور تجارتی ادارے بھی اپنے پسند کے امیدوار کے لیے دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔

واضح رہے امریکہ وہ ملک ہے جو کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور وہاں متاثرین کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے اور وہاں اس وبا سے ہلاکتیں بھی سب سے زیادہ ہوئی ہیں ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے امریکہ کی معیشت بری طرح متاثر ہے اس لئے ایسے میں امیدواروں کے لئے چندا جمع کرنا بہت مشکل ہے۔ کورونا وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی وجہ سے امریکہ میں صدارتی انتخابات کی صورت حال ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ نومبر میں ہونے والے انتخابات کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق نائب صدر جو بائیڈن میدان میں ہیں۔ دونوں امیدواروں کو اس وقت جو مشکل درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ وہ روایتی جلسے اور انتخابی ریلیاں نہیں کر سکتے اور ووٹروں سے رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ ڈیجیٹل میڈیا، پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور ٹیلی وژن ہیں،جن پر انتخابی مہم چلانے کے لیے بڑے سرمائے کی ضرورت ہے۔

جون تک کی صورت حال یہ ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے الیکشن میں اب تک جو عطیات اکھٹے ہوئے ہیں، ان کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر 10 ملین ڈالر کی برتری حاصل تھی ۔یہ ان کا صدر ٹرمپ پر فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں برتری کا مسلسل دوسرا مہینہ تھا۔

وائس آف امریکہ اردو کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اب صدارتی انتخابی مہم اب اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔اگر ماضی میں ہونے والے اخراجات پر نظر ڈالی جائی تو سن 2012 میں جب رونلڈ ریگن نے جمی کارٹر کو اور 2016 میں براک اوباما نے مٹ رومنی کو شکست دی تھی تو ان کی انتخابی مہمات کے اخراجات 1980 کےمقابلے کم ازکم ایک ہزار گنا زیادہ تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات امریکی تاریخ کے سب سے مہنگے الیکشن ثابت ہوں گے، جس کی بنیادی وجہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ ہے، اور صدارتی امیدواروں کو اپنے ووٹروں تک پہنچنے کے لیے ورچوئل ذرائع استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔

امریکہ کی پہلی صدارتی انتخابی مہم پر شاید ایک ڈالر بھی خرچ نہیں ہوا تھا۔ یہ الیکشن جارچ واشنگٹن نے 1788 میں لڑا تھا۔ اس زمانے میں امریکہ کی آبادی کم تھی اور ذرائع ابلاغ بھی نہ ہونے کے برابر تھے ۔ لیکن آج تقریباً 15 کروڑ ووٹروں تک پہنچنے کے لیے مختلف قسم کے ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں جن پر کثیر سرمایہ اٹھتا ہے۔

اگرچہ امریکہ میں صدارتی مہم کے دوران اربوں ڈالر صرف کیے جاتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کثیر اخراجات کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر 2016 کے الیکشن میں ہلری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں لاکھوں ڈالر زیادہ خرچ کیے تھے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ اسی طرح 1996 میں ری پبلیکن پارٹی کے باب ڈول بھاری اخراجات کے باوجود بل کلنٹن سے ہار گئے تھے۔ اسی طرح 1984 میں ڈیموکریٹ والٹر میڈیل نے رونلڈ ریگن کے مقابلے میں زیادہ رقم خرچ کی لیکن جیت نہیں سکے۔ جب ہم سن 2000 سے 2012 کی انتخابی مہمات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ جارج ڈبلیو بش اور براک اوباما نے اپنے مدمقابل صدارتی امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ استعمال کیا اور دو دونوں ہی کامیاب ہوئے۔ گویا سرمایہ صرف صدارتی امیدوار کا پیغام ووٹروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے، جیت کا انحصار اس پر ہے کہ ووٹر ان کے پیغام کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

میں تمام امریکیوں کا صدر ہوں: جو بائیڈن

"امریکہ میں جمہوریت جیت گئی ہے اور امریکی عوام کی آواز سنی گئی ہے۔ یہ امریکہ کا دن ہے۔ یہ جمہوریت کا دن ہے۔ ایک تاریخ ساز اور امید کا دن، تجدید اور مسمم ارادے کا دن۔ جمہوریت قیمتی ہے اور حفاظت طلب بھی۔‘‘

بائیڈن وائٹ ہائوس کی پہلی پریس بریفنگ، ایرانی جوہری پروگرام پر قدغن بڑھانے کا عزم

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن کی بہ طور صدر حلف برداری کے بعد وائٹ ہائوس کی پہلی پریس بریفنگ میں اہم امور پر حکومتی پالیسی کی وضاحت کی گئی ہے۔ وائٹ ہائوس کی ترجمان جین بساکی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ایرانی جوہری پروگرام پر مزید پابندیاں عاید کرے گی۔

متنازع ٹویٹ پرامریکا میں چینی سفارت خانے کا 'ٹویٹر اکائونٹ' بلاک

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' نے ایک متنازع 'ٹویٹ' کی وجہ سے امریکا میں چینی سفارت خانے کا ٹیوٹر اکائونٹ بلاک کردیا۔ اس ٹویٹ میں چینی سفارت خانے کی طرف سے چین کے مسلم اکثریتی صوبے'سنکیانگ' میں بیجنگ کی پالیسیوں‌ کا دفاع کیا گیا تھا۔