دہلی کا حادثہ: پولس کی خاموشی قابل مذمت : کنڑا روزنامہ پرجاوانی کا اداریہ

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 1st February 2020, 9:30 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس | مہمان اداریہ |

بھٹکل یکم فروری (ایس او نیوز)  کنڑا کا سب سے زیادہ معتبر اورمعروف اخبار جاوانی نے  یکم فروری کے اپنے شمارے میں  دہلی میں احتجاجیوں پر کھلے عام پولس کی موجودگی کے دوران ایک شخص کے گولی چلانے کے واقعے کو لے کر اپنا اداریہ تحریر کیا ہے، جس کا اُردو ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں پُرامن احتجاج کرنےو الے جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے طلبا پر ایک مفسد نے دیسی پستول سے گولی چلا کر ایک کو زخمی کرنے والا واقعہ دہشت پیدا کرتاہے۔ کثیر تعداد میں موجود پولس کے سامنے ہی پستول تھامے چیخ پکار کرنے والے  کو فوری گرفتار کرنے کے بجائے پولس کا خاموشی تماشائی بن کر کھڑے رہنا دہشت خیز  واقعہ ہے۔ مہاتماگاندھی کی شہادت کے موقع پر  30جنوری کو یوم شہیدکے طورپر منایا جاتاہے۔ٹھیک اسی دن جب طلباجلوس کی شکل میں  راج گھاٹ کی طرف نکل رہے تھے تو اُسی  دوران  یہ حادثہ پیش آیا ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ  چند دن قبل جواہر لال نہرویونیورسٹی (جے این یو ) میں گھس کر  نقاب پوش مفسدوں  نے ہنگامہ کرتے ہوئے طلبا پر حملہ  کیا تھا اوروہ  واقعہ تازہ رہتے  یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ جے این یو معاملے میں ابھی ملزموں کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ملک کے صدر مقام کی حیثیت سے بین الاقوامی اہمیت رکھنے والی دہلی میں پولس انتظامیہ بگڑ جاتی ہے تو ملک بدنام ہوتاہے۔ وزیر داخلہ کی راست نگرانی میں رہنے والی دہلی پولس لاچار ی کا رویہ کیوں اپنا رہی ہے؟۔ وزیر داخلہ نے بیان دیا کہ ’گولی چلانے کو سنگین معاملے کے طور پر  لیا جائے گا، جس نے بھی غلطی کی ہے سخت کارروائی کی جائے گی ‘۔جے این یو معاملے کی جانچ رفتار پر غور کرتے ہیں تو وزیر داخلہ کا یہ بیان عملی طورپر نافذ ہونے  میں شبہ پیدا ہوتاہے۔

ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری عوامی جدوجہد کے چلتے دہلی ودھان سبھا کے  لئے انتخابی  اشتہاری مہم بھی جاری ہے۔  اشتہاری جلسوں میں آگ اگلتے بھاشن د ینے والے بی جے پی لیڈران کے خلاف  الیکشن کمیشن نے   ضابطہ اخلاق کی  کارروائی کی ہے۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے لیڈران  کی طرف سے  ’ان بیانات کو تشدد کو بڑھاوادینے والے‘ کہتے ہوئے لگائے گئے  الزامات بے کار نہیں کہے  جاسکتے ۔ انتخابی اشتہاری جلسوں میں سوال۔ جواب کی نوک جھونک فطری ہے، لیکن فساد کو مشتعل کرنےو الے بھاشن ناقابل قبول ہیں۔ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکور کا ’ ملک کے غداروں کو گولی مارو‘ کہتے ہوئے شرکاء کو نعرے بازی پر اکسانے والا وڈیو سوشیل میڈیا پر کافی وائر ل ہواہے۔ دستور کے نام پر حلف لینے والے وزیر ہی اس طرح  تشدد کو بڑھاوا دینے والے بھاشن دینا رتی برابر صحیح نہیں ہے۔ اپنی کابینہ کے ایک ساتھی ایسے اشتعال انگیز ، دہشت پھیلانےو الے بھاشن پر وزیراعظم کی خاموشی پر بھی سوال پیدا ہوتاہے۔ سی اے اے کے خلاف دہلی کے نواحی علاقے شاہین باغ میں جاری احتجاج کو بی  جے پی کا ایک امیدوار منی پاکستان کہہ کر دہلی کے انتخابات کو بھارت ۔پاکستان کے درمیان کا مقابلہ قرارد یتاہے۔ اشتعال انگیز بھاشن دینے پر انوراگ ٹھاکور اور بی جےپی کے رکن پارلیمان پرویش شرما پر الیکشن کمیشن نے متعینہ مدت کے لئے انتخابی تشہیرکرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے، ایسے موقعوں پر الیکشن کمیشن کو سخت موقف  اختیارکرنےکی ضرورت ہے۔ اشتہاری بھاشنوں کے ذریعے رائے دہندگان کو دھرم اور ذات پات میں تقسیم کرکے ووٹ لینےکی چالیں ملک کے دستور کو کمزور کرتی ہیں۔ ایسے فرقہ وارانہ بھاشن دینے والے لیڈران ،چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں ، الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ سخت سے سخت کارروائی کرے۔ صرف انتخابی  اشتہار پر پابند ی لگانے کے بجائے انہیں انتخابات میں لڑنے پر  بھی پابندی عائد کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ انتخابات آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ مگر اس بہانے سماجی صحت اور بھائی چارگی کو نقصان پہنچانا ملکی سالمیت کے پیش نظر کسی حال میں قابل قبول نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اننت کمار ہیگڈے نے لگایابی ایس این ایل میں دیش دروہی افسران موجود ہونے کا الزام

اپنے متنازعہ بیانات کے لئے پہچانے جانے والے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے الزام لگایا کہ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کے اندر دیش دروہی افسران بیٹھے ہوئے جس کی وجہ سے اس کے کام کاج میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے۔ اس لئے آئندہ دنوں میں اس کی نج کاری (پرائیویٹائزیشن) کیا جائے گا۔

ایم پی اننت کمار ہیگڈے کا بھٹکل دورہ؛ 23.72کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو دکھائی ہری جھنڈی

پیر کو رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے بھٹکل کا دورہ کرتے ہوئے  بھٹکل تعلقہ میں ’پردھان منتری گرام سڑک یوجنا‘کے تحت 23.72کروڑ روپے لاگت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ وہ یہاں ماروتی نگر میں بی جے پی تعلقہ آفس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔

مینگلور کے قریب سولیا میں ہائی ٹینشن الیکٹرک کیبل کی زد میں آکر بائک کے ساتھ بائک سوا ر بھی جل کرخاکستر

ضلع دکشن کنڑا کے  سولیا میں کلّیری نامی علاقے میں آج منگل صبح 5.30بجے پیش آئے  ایک انتہائی دردناک حادثہ میں دو لوگ موقع پر ہی جل کر ہلاک ہوگئے جن میں ایک  شناخت  اُمیش (45) کی حیثیت سے کی گئی ہے، جبکہ  بائک کی پچھلی سیٹ پر سوار اس کے  ساتھی کا  نام معلوم نہ ہوسکا۔

کاروار:ایس ایس ایل سی امتحان کے نتائج۔ سرسی کی سنّدھی ہیگڈے نے پایا ریاست میں پہلا رینک

امسال ریاست میں ایس ایس ایل سی کے جو امتحانات ہوئے تھے اس کا سامنا طلبہ نے کووڈ وباء کے پس منظر میں ذہنی تناؤ کے ساتھ کیا تھا۔اس کے بعد کافی دنوں سے طلبہ بڑی بے چینی کے ساتھ اپنے نتائج کا انتظار کررہے تھے۔

مادری زبان کی فہرست سے اُردو غائب ، نئی تعلیمی پالیسی کے خلاف مُحبانِ اُردو اردو اور ماہرین تعلیم کا سخت احتجاج ، حکومت سے اپنے رویہ پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ

مرکزی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کے ساتھ ہی اس پر عملی مخالفت کا آغاز ہوچکا ہے۔ خاص طور پر مہاراشٹرا میں جہاں کی علاقائی زبان ’’مراٹھی‘‘ اگر ریاست میں یہ پالیسی کا باقائدہ طور پر نافذ ہوگئی و یقیناً مستقبل میں یہاں ’’اُردو‘‘ زبان ختم ہوجائے گی، کیوں کہ نئی ...

شمالی کینراکے مشہور سیاسی لیڈران اپنے بچوں کو سیاسی اکھاڑے میں لانے میں ہوگئے ہیں بری طرح ناکام

عام طور پر ملکی سیاست میں بڑے بڑے سیاسی لیڈران کی طرف سے اپنے بیٹیوں یا اپنی بیٹیوں کو سیاسی میدان میں متحرک کرنے اور انتخابی اکھاڑے میں اتارنے کے ساتھ انہیں کامیاب سیاست دان بنانے کی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ اسی طرح مختلف ریاستوں کے لیڈران نے بھی اس طرح کی روایتیں قائم کی ہیں۔ ...

بابری مسجد تاریخ کے آئینہ میں؛ 1528 میں بابری مسجد کی تعمیر کے بعد 1949 سے 2020 تک

ایک طویل عدالتی جد و جہد کے بعد گزشتہ سال نومبر کی 9 تاریخ کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا اور ایودھیا میں واقع بابری مسجد کے انہدام کو پوری طرح غیر قانونی بتا کر اراضی کی ملکیت اسی ہندو فریق کو سونپ دی جو مسجد کی مسماری کا ذمہ دار تھا۔

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

کیا ’نئی قومی تعلیمی پالیسی‘ ہندوستان میں تبدیلی لا سکے گی؟ .........آز: محمد علم اللہ

ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ہندوستان ایک خطرناک وبائی مرض سے جوجھ رہا ہے، کئی ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، مرکزی کابینہ نے آنا فانامیں نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔جب کہ سول سوسائٹی اور اہل علم نے پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان کھڑے کئے تھے اوراسے ایک ...

ملک پر موت اور بھکمری کا سایہ، حکومت لاپرواہ۔۔۔۔ از: ظفر آغا

جناب آپ امیتابھ بچن کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ حضرت نے تالی بجائی، تھالی ڈھنڈھنائی، نریندر مودی کے کہنے پر دیا جلایا، سارے خاندان کے ساتھ بالکنی میں کھڑے ہو کر 'گو کورونا، گو کورونا' کے نعرے لگائے، اور ہوا کیا! حضرت مع اہل و عیال کورونا کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گئے۔

دہلی الیکشن.....شاہین باغ.... شہریت... اور شریعت .... آز: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

الحمدللہ! نفرت، دشمنی پھیلانے والوں کو عزت اور ذلت دینے والے نے رسوا کیا۔ ہمارے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچنے کی کوشش کرنے والوں کے لئے اُس سرزمین پر جہاں ان کا راج ہے انہیں اجنبی جیسا بناکر رکھ دیا۔ بے شک انسان چاہے لاکھ سازشیں اور کسی کو مٹانے کی کوششیں کرلے جب تک خالق کائنات ...

اے پی سی آر ۔ حق کی لڑائی میں نیا کاروان ۔۔۔۔ ازقلم: مدثر احمد

ہندوستان میں جمہوری نظام اور مسلمانوں کے مسائل پر قانونی کارروائی کرنے والی تین تنظیمیں ہیں ان میں جمیعت العلماء ہند ، اے پی سی آر اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا ہر طرح سے مسلمانوں کے قانونی مسائل پر لڑائی لڑنے کے پابند ہیں ، ان میں سب سے زیادہ سرگرم تنظیمیں جمیعت العلماء ہند اور ...

اس بار مسلمان ناکام کیوں؟ کہاں ہے1985کا پرسنل لاء بورڈ،جس کی حکمت عملی نے حکومت وقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ؟ (روزنامہ سالار کی خصوصی رپورٹ)

مودی حکومت کی ہٹ دھرمی، سیاسی چال بازی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سیاسی غیرشعوری، مسلم تنظیموں کی غیر دانشمندی اور پورے مسلمانوں کی نااہلی و آپسی نااتفاقی کی وجہ سے ایک نشست میں تین طلاق کا بل راجیہ سبھا سے بھی منظور ہوگیا-اب اسے صدر ہند کے پاس رسمی طور پر بھیجاجائے گا جہاں ...