کورونا وائرس: مہلوکین کی تعداد 1000 کے پار، چینی صدر نے متاثرین سے کی ملاقات

Source: S.O. News Service | Published on 11th February 2020, 1:15 PM | عالمی خبریں |

بیجنگ،11/فروری (ایس او نیوز/ یو این آئی)  چین کے صدر شی جن پنگ ایک ہزار سے زائد افراد کی جان لینے والے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں اور صحت حکام سے ملنے اسپتال پہنچے۔ چین سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق چینی صدر، جنہوں نے اس وائرس کو’شیطان‘ کا نام دیا ہے نے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے اسپتال کا دورہ کیا اور کہا کہ ’’صورتحال اب بھی تشویش ناک ہے‘‘۔چینی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ’’وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید موثر اقدامات کرنے ہوں گے‘‘۔

خیال رہے کہ چینی صدر وائرس کے ملک بھر میں پھیلنے کے بعد سے عوام کی آنکھوں سے اوجھل تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم لی کیکیانگ کو وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تعینات کیا تھا اور لی کیکیانگ ہی نے گزشتہ ماہ ووہان کا دورہ بھی کیا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کے روز شی جن پنگ نے نیلے رنگ کا ماسک اور سفید سرجیکل گاؤن پہنا تاکہ بیجنگ میں دیتان اسپتال میں ڈاکٹروں سے ملاقات کرسکیں، مریضوں کے علاج کو دیکھ سکیں اور ووہان میں ڈاکٹروں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرسکیں۔

بعد ازاں انہوں نے بیجنگ کے وسط میں رہائش پذیر برادری سے ملاقات بھی کی تاکہ وبا کو روکنے کے لیے ’تحقیقات کرنے اور تجاویز‘ کے اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ چینی صدر کا انفرا ریڈ تھرما میٹر سے درجہ حرارت چیک کیا گیا، بعد ازاں انہوں نے کام کرنے والی برادری سے بات چیت کی اور اپارٹمنٹ کی کھڑکیوں سے دیکھنے والے افراد کے لئے مسکرا کر ہاتھ بھی ہلایا۔

اس وبا کے پھیلاؤ کے بعد سے چینی حکام کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں چین کے صوبہ ہبوئی کے شہر کو مکمل بند کردینا اور ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بند کردینا، سیاحتی مقامات کو بند کرنا اور کروڑوں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تجویز دینا شامل ہے۔ ان اقدامات کے بعد شہر ویران ہوگئے تاہم گزشتہ روز معمولات زندگی بحال ہونے کے کچھ علامات سامنے آئے۔

بیجنگ اور شنگھائی میں سڑکیں اب پہلے سے زیادہ ٹریفک موجود ہے اور جنوبی صوبے گوانژو کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی پبلک ٹرانسپورٹ کو بحال کردیں گے۔ بیجنگ میں ایک سیلون کا کام کرنے والے لی نے کئی دنوں تک اپنا کاروبار بند رکھنے کے بعد گزشتہ روز اسے واپس کھولتے ہوئے کہا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پریشان ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب گاہک آتے ہیں تو ہم پہلے ان کا درجہ حرارت دیکھتے ہیں، پھر ڈس انفیکٹنٹ استعمال کرتے ہیں اور ان سے ہاتھ دھونے کا کہتے ہیں‘‘۔

کئی افراد کو گھر سے کام کرنے کے لیے کہا جارہا ہے جبکہ چند کمپنیوں نے ایک اور ہفتے کے لیے کام کو روک دیا ہے۔ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ کے سب وے پر مسافروں کی تعداد آدھے سے بھی کم ہوگئی ہے۔ دارالحکومت میں بڑے بڑے شاپنگ مالز صحرا کا منظر پیش کر رہے ہیں اور کئی بینک بھی بند ہیں۔ واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس کا شکار ہو کر اب تک 1016 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر وائرس سے متاثرہ 42 ہزار 638 کیسز سامنے آئے ہیں۔ دیگر 24 ممالک میں کورونا کے 319 کیسز سامنے آئے جن میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

ایک نظر اس پر بھی

پوری دنیا میں کورونا کا قہر جاری، متاثرین کی تعداد 63 لاکھ سے تجاوز

پوری دنیا میں عالمی وبا کورونا وائرس کا قہر جاری ہے اور ہر روز متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا متاثرین کی تعداد 63لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ اس وبا سے اب تک 3.73لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔

عراق: فضائی حملے میں دو فوجی اور دو دہشت گردوں کی موت

عراق کے صوبہ نینوا اور دييالہ میں پیر کو ایک فضائی حملے اور ایک بم دھماکے میں دو فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ دو دہشت گرد بھی مارے گئے۔ عراق کے جوائنٹ آپریشن کمانڈ کے میڈیا آفس نے ایک بیان میں بتایا کہ ایک حملہ میں دوعراقی فوجی ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔

انگلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی، 10 ہفتوں بعد کھلے اسکول

10 ہفتوں کے بعد برطانیہ کے انگلینڈ ریجن میں لاک ڈاؤن کے بعد اسکول کھول دیئے گئے، مگر نصف کے قریب والدین نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے گریز کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے گزشتہ روز لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں اسکولوں کا کھولا جانا بھی شامل تھا، کچھ علاقوں میں ...