نئی دہلی 29/ڈسمبر (ایس او نیوز) : 2017 کے بدنام زمانہ اُناؤ عصمت دری معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم پر روک لگائے جانے، جس کے تحت معزول بی جے پی لیڈر اور مجرم کلدیپ سنگھ سینگر کی عمر قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت دی گئی تھی، پر متاثرہ لڑکی کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ محمود پراچا نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ عبوری حکم متاثرہ کے لیے کسی بھی طرح کی جیت نہیں بلکہ محض ایک محدود اور عارضی راحت ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود پراچا نے کہا کہ اس عدالتی حکم کو ہرگز “انصاف کی جیت” قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، “میں متاثرہ کو یہ یقین دلا سکتا ہوں کہ ہمیں صرف ایک چھوٹی سی راحت ملی ہے۔ اسے جیت کہنا درست نہیں، البتہ اس سے ہمیں کچھ وقت ضرور ملا ہے تاکہ ہم سانس لے سکیں۔”
پراچا نے مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ایجنسی نے سپریم کورٹ میں معاملے کو پوری قوت کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے نہ تو متاثرہ کے قانونی مشیروں سے مشاورت کی اور نہ ہی وہ مضبوط شواہد پیش کیے جو متاثرہ کے حق میں پہلے ہی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا “متاثرہ کے حق میں ٹھوس اور فیصلہ کن شواہد موجود ہیں، مگر سب سے اہم نکات عدالت کے سامنے نہیں رکھے گئے،”
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگاتے ہوئے کیس کے اصل قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر غور نہیں کیا۔ ان کے مطابق، “عدالت میں جو کچھ سنا گیا وہ صرف برفانی تودے کی نوک ہے، اصل معاملے کے بنیادی نکات ابھی زیر بحث آئے ہی نہیں ہے۔”
پراچا نے یہ بھی کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ متاثرہ کے قانونی فریق کو اس کارروائی میں باقاعدہ فریق تک نہیں بنایا گیا۔
متاثرہ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود متاثرہ کی زندگی آج بھی شدید خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ سخت سیکورٹی میں، سی آر پی ایف کے تحفظ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ پراچا نے پوچھا کہ“کیا مجھ سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ میں خوشی مناؤں، جب متاثرہ کو اتنی سخت سیکورٹی میں رکھا گیا ہے اور میں اس سے آزادی کے ساتھ بات تک نہیں کر سکتا؟”
سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے 23 دسمبر کے حکم پر روک لگاتے ہوئے واضح ہدایت دی کہ کلدیپ سنگھ سینگر کو فی الحال رہا نہ کیا جائے۔ عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ سینگر پہلے ہی ایک دوسرے فوجداری مقدمے میں سزا کاٹ رہا ہے، اور اس سے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔
واضح رہے کہ کلدیپ سنگھ سینگر کو دسمبر 2019 میں اُتر پردیش کے ضلع اُناؤ میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے جرم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اگرچہ دہلی ہائی کورٹ نے عصمت دری کے مقدمے میں اسے ضمانت دی تھی، تاہم متاثرہ کے والد کی مشتبہ موت سے جڑے ایک الگ معاملے میں وہ بدستور جیل میں قید ہے۔
دریں اثنا، محمود پراچا نے سینگر کو ایک طاقتور مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے “انڈین ایپسٹین گینگ” کا رکن کہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متاثرہ کے خاندان اور اس سے وابستہ افراد کو ماضی میں مسلسل نشانہ بنایا گیا، جن میں متاثرہ کے والد کا قتل، رشتہ داروں پر حملے اور قانونی ٹیم کو دی جانے والی دھمکیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضمانت دیتے وقت ان سنگین خطرات کو سنجیدگی سے مدنظر نہیں رکھا گیا۔
آخر میں پراچا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کو انصاف یا انجام نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا؛“یہ نہ انصاف ہے اور نہ ہی اس معاملے کا اختتام۔ اصل جوابدہی صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس پورے نظام تک پہنچنی چاہیے جس نے ایسے جرائم کو ممکن بنایا،”