بنگلورو ، 21/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے واضح کیا ہے کہ ریاستی حکومت پٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے لیے مرکزی حکومت ذمہ دار ہے اور صرف ریاستی حکومت سے سوال کرنا مناسب نہیں۔
بنگلورو ، 21/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت پٹرول اور ڈیزل پر لگائے گئے ٹیکس میں کوئی کمی نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اس لیے صرف ریاستی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔
ودھان سودھا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب مرکز کی جانب سے بار بار ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس پر سوال نہیں اٹھایا جاتا، لیکن ریاست سے ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر مرکزی حکومت سے یہ کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ قیمتیں کیوں بڑھائی جارہی ہیں؟
سدارامیا نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پٹرول تقریباً 70 روپے اور ڈیزل 48 روپے فی لیٹر تھا، جبکہ ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت تقریباً 414 روپے تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج ایندھن اور گیس کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، جس کے لیے مرکز کی معاشی پالیسی ذمہ دار ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ مسلسل بڑھتا جارہا ہے، مگر اس کے باوجود اصل ذمہ داری پر بات نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت عوامی فلاحی اسکیموں پر بڑی رقم خرچ کررہی ہے، اس لیے محصولات میں اچانک کمی ممکن نہیں۔
سدارامیا کے اس بیان کے بعد ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور ٹیکس پالیسی کو لے کر ریاستی سیاست میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔