ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں گھر گھر مفت ذات اور مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی مہم شروع

کرناٹک میں گھر گھر مفت ذات اور مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی مہم شروع

Tue, 21 Jul 2026 12:19:45    S O News
کرناٹک میں گھر گھر مفت ذات اور مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی مہم شروع

بنگلورو، 21/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر مالگزاری ڈاکٹر جی۔ پرمیشور نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے آغاز کے پیش نظر ریاستی حکومت نے عوام کو درکار دستاویزات کی فراہمی آسان بنانے کے لیے گھر گھر مفت ذات سرٹیفکیٹ اور مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کی تقسیم شروع کی ہے۔

وہ پیر کے روز ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار کے ہمراہ اس مہم کا افتتاح کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے 11 معیارات مقرر کیے ہیں۔ ان کے مطابق درخواست گزار کا کرناٹک کا پیدائشی ہونا یا دیگر مقررہ شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا۔ ان میں ریاست میں کم از کم 10 سال کی مستقل رہائش، کرناٹک کے تسلیم شدہ تعلیمی ادارے سے ثانوی پری یونیورسٹی یا اس کے مساوی تعلیم، سرکاری یا مقامی اداروں میں کم از کم 7 سال کی ملازمت، والدین یا شریکِ حیات کی ریاست میں مستقل رہائش، ریاست میں جائیداد یا قانونی حقِ ملکیت، ووٹر فہرست میں نام اور دیگر سرکاری دستاویزات شامل ہیں۔

ڈاکٹر پرمیشور نے بتایا کہ حکومت تقریباً 4.85 کروڑ ذات سرٹیفکیٹ مرحلہ وار عوام تک پہنچائے گی۔ یہ سرٹیفکیٹ سرکاری ویب سائٹ سے مفت حاصل کیے جا سکیں گے، جبکہ تعلقہ سطح کے امدادی مراکز، واٹس ایپ سہولت، ناڈا کچہری، گرام ون مراکز اور باپو جی سیوا مراکز کے ذریعے بھی دستیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی درخواست یا سرٹیفکیٹ سے متعلق شکایت موصول ہوتی ہے تو تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور سب ڈویژنل افسر کے پاس اپیل کی جا سکے گی، جبکہ ضلع کمشنر کو بھی شکایت کی بنیاد پر دوبارہ جانچ کا اختیار دیا گیا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اٹل جن سنیہی مراکز کے ذریعے 4.8 کروڑ سرٹیفکیٹ ضلعی انتظامیہ کو روانہ کیے جا چکے ہیں اور ضلع سطح پر تحصیلدار اور محکمہ محصولات کے اہلکار گھر گھر پہنچ کر ان کی تقسیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ نہ صرف ایس آئی آر عمل میں عوام کے لیے معاون ثابت ہوگا بلکہ مختلف سرکاری سہولتوں کے حصول، ریاست کے مستقل باشندے ہونے کے ثبوت اور غیر قانونی طور پر سرکاری مراعات حاصل کرنے کے الزامات کی جانچ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق مقررہ معیارات پر پورا اترنے والے افراد کو ہی یہ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کی صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ اور انہوں نے مرکزی حکومت کو امداد کے لیے خط تحریر کیا ہے، تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 150 سال کی شدید ترین خشک سالی سے پورا کرناٹک متاثر ہے، اس لیے مرکز کو فوری تعاون فراہم کرنا چاہیے۔

نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کا تحفظ انتہائی اہم ہے اور امتحانات مکمل شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ منعقد کرانا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔


Share: