ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک؛ لاپروائی کے الزام میں 5 ایم سی ڈی افسران معطل

ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک؛ لاپروائی کے الزام میں 5 ایم سی ڈی افسران معطل

Tue, 08 Sep 2026 17:59:32    S O News

نئی دہلی ، 8/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی  ) جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں کثیر منزلہ عمارت کے منہدم ہونے کے بعد پیر کو دہلی میونسپل کارپوریشن  کے ۵؍ملازمین کو معطل کر دیا گیا۔ لاپروائی برتنے کےباعث معطل کئےگئےملازمین میں ساؤتھ  زون کے افسران شامل ہیں۔ جن لوگوں پر کارروائی ہوئی ہے ان میں ڈپٹی کمشنر راکیش کمار، سپرنٹنڈنٹ انجینئر رنویر سنگھ، ایگزیکٹیو انجینئر للت کمار گوئل، اسسٹنٹ انجینئر سنیل چوہان اور انجینئر آشیش کمار شامل ہیں۔واضح رہے کہ حادثہ میں اب تک ۷؍طلبہ کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ کئی زخمیوں کا علاج چل رہا ہے، جبکہ ملبے کے نیچے اب بھی کئی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔حالانکہ آخری اطلاعات تک راحتی کام روک دیا گیا تھا ۔ اس حادثے میں کئی طلبہ کی جان محض اس وجہ سے بچ گئی کیوں کہ دہلی یونیورسٹی میں جنم اشٹمی کی چھٹی تھی جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔ ورنہ یہ حادثہ بہت بڑا اور سنگین ثابت ہو سکتا تھا ۔کچھ طلبہ کی جان محض اس لئے بچ گئی کیوں کہ وہ  ۱۰؍ منٹ قبل ہی عمارت سے نکلے تھے اور جب واپس آئے تو  پی جی کی عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھی۔

 اس معاملے میں  پی جی  کے مالک ہری رام بنسل کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ ہری رام گپتا کو راجستھان کے بھیواڑی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان میں اس کی اہلیہ اور بیٹا بھی شامل ہیں۔  واضح رہے کہ واقعہ کے بعد سے ہری رام بنسل کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ لُک آؤٹ نوٹس جاری ہونے کے بعد دہلی پولیس نے ہری رام بنسل کو گرفتار کرنے کیلئے ۱۰؍ٹیمیں تشکیل دی تھیں اور ان میں سے ایک ٹیم نے اسے بھیواڑی سے گرفتار کرلیا۔

حادثے سے چند منٹ قبل عمارت سے وہاں سے نکلنے والے کچھ طلبہ خود کو خوش قسمت سمجھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمارت کے گرنے سے پہلے ہی دیواروں  چٹخنے  اور دراڑیں پڑنےکی آوازیں آنے لگی تھیں۔ اگر وہ کچھ دیر اور وہاں رک جاتے تو شاید وہ بھی ملبے تلے دب جاتے۔ان کی زندگی تھی اس لئے خدا نے انہیں بچالیا۔

ہاسٹل کے قریب رہنے والے محمد یاسین نے بتایا کہ وہ اپنے دوست وارث کے ساتھ ہاسٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔   وہ رات بھر وہیں رُکے۔ صبح  وارث کو احساس ہوا کہ عمارت گرنے والی ہے یا کوئی حادثہ ہو سکتا ہے تو وہ فوراً مجھے لے کر وہاں سے نکل گیا۔ ہمیں نکلے صرف ۱۰؍ منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ عمارت ڈھہہ گئی ۔

ہاسٹل میں رہنے والے ایک اور طالب علم حبیب خان نے بتایا کہ جنم اشٹمی کی تعطیل کی وجہ سے کالج تین دن سے بند تھا اس  لئے وہ شاہین باغ میں اپنے گھر چلے گئے تھے۔ ان کا اتوار کی شام واپس آنے کا پروگرام تھا کیونکہ پیر سے کالج دوبارہ کھلنے والا تھا ۔ لیکن حبیب نے کہاکہ اوپر والے کا شکر ہے کہ وہ  اس وقت میں ہاسٹل میں نہیں تھے ورنہ وہ بھی منوں ملبے تلے دبے ہوتے۔گھر والوں نے انہیںروک لیا تھا۔

ایک اور طالب علم امر نے بتایا کہ ستیہ نکیتن کی تنگ گلیوں میں بڑی تعداد میں ہاسٹل، پینگ گیسٹ (پی جی) اور کھانے پینے کی دکانیں موجود ہیں۔ علاقے کی گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ امدادی کارروائیوں کے دوران بھاری مشینری اور دیگر آلات کو جائے حادثہ تک پہنچانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ عمارت کے بیسمنٹ میں ایک ہفتے سے کام جاری تھا  اور ہمارے اندازے کے مطابق یہی  حادثہ کا سبب بنا ہے۔


Share: