نئی دہلی ، 17/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)ملک کی ۱۰۰؍ سے زائد اہم شخصیات جن میں سماجی کارکن، مصنّفین، فلم سازاور ماہرین تعلیم شامل ہیں، نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کو ایک کھلا خط لکھ کر عمر خالد اور شرجیل امام کی قید ِ مسلسل کی طرف توجہ دلائی ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں نوجوان شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کے بعد ۲۰۲۰ء کے دہلی فساد کے ’’وسیع تر سازش‘‘ کیس میں ملزم بنا دیئے گئے۔ان پر یواے پی اے کے تحت الزامات عائد ہیں۔دونوں ۶؍ سا ل سے پابند سلاسل ہیں اوران کے مقدمات کی شنوائی تک شروع نہیں ہوئی۔
اروندھتی رائے، رام چندر گوہا اور امیتو گھوش سمیت متعدد معروف شخصیات کے دستخط کے ساتھ جاری کئے گئے خط میں دونوں نوجوانوں کی طویل قید پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یو اے پی اے کا استعمال انہیں غیر معمولی طور پر طویل عرصے تک بغیر ٹرائل کے حراست میں رکھنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔خط لکھنے والوں نے چیف جسٹس کو سویڈن میں دیا گیا ان کا حالیہ لیکچر یاد دلایا ہے جس میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ’’یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب‘‘ کیس کے فیصلے کا ذکر کیا تھا۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت تقریباً ۶؍برس سے بغیر ٹرائل جیل میں بند ایک ملزم کو ضمانت دی تھی۔دستخط کنندگان نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ’ ’کے اے نجیب‘‘ فیصلے میں سپریم کورٹ نے جو اصول وضع کیا ہے اس کا اطلاق عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں بھی بلا امتیاز کیا جانا چاہئے۔
’کے اے نجیب‘ مقدمے میں سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے فیصلہ سنایاتھا کہ یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تحت بھی کسی ملزم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، خصوصاً اس وقت جب مناسب مدت میں مقدمے کی تکمیل کے امکانات بہت کم ہوں۔ جسٹس سوریہ کانت خود بھی اس بنچ کا حصہ تھے جس نے یہ اہم فیصلہ سنایا تھا۔خط میں نشاندہی کی گئی ہےکہ گرفتاری کے تقریباً ۶؍ برس بعد بھی عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی۔ استغاثہ نے تقریباً۹۰۰؍گواہوں کی فہرست پیش کی ہے اس لئے مناسب مدت میں مقدمے کی تکمیل کے امکانات بھی کم ہیں۔ یاد رہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں متعدد بار مختلف عدالتوں سے مسترد ہو چکی ہیں۔ان میں جنوری۲۶ءکا سپریم کورٹ کی ۲؍رکنی بنچ کا ’’گلفشاں فاطمہ بمقابلہ حکومت ہند‘‘ کیس کا فیصلہ بھی شامل ہے۔