ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں محفل شعر و ادب کے زیر اہتمام خوبصورت طرحی مشاعرہ

بھٹکل میں محفل شعر و ادب کے زیر اہتمام خوبصورت طرحی مشاعرہ

Fri, 22 May 2026 23:40:51    S O News
بھٹکل میں محفل شعر و ادب کے زیر اہتمام خوبصورت طرحی مشاعرہ

بھٹکل، 22 مئی (ایس او نیوز/پریس ریلیز): مشاعرے ہماری تہذیبی روایات کا اہم حصہ ہیں، جبکہ طرحی مشاعروں میں بالخصوص شعراء کی فکر، تخیل اور اندازِ اظہار کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، کیونکہ ایک ہی مصرع پر مختلف شعراء کی سوچ کے متنوع زاویے سامنے آتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مہتمم مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی نے مدینہ ویلفیئر سوسائٹی ہال، بھٹکل میں منعقدہ محفلِ شعر و ادب کے طرحی مشاعرے میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کیا۔

مولانا نے محفلِ شعر و ادب کی جانب سے انجام دی جانے والی ادبی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اسے بھٹکل کے ادبی ماحول کے لیے ایک قیمتی سرمایہ قرار دیا۔

ابتدائی گفتگو میں مشاعرے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے محفلِ شعر و ادب کے ذمہ دار مولانا سید احمد سالک ندوی نے ادارے کی سرگرمیوں کا تعارف پیش کیا اور نوجوان شعراء کی بڑی تعداد میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔

اس بار کے طرحی مشاعرے کے لیے اردو کے معروف شاعر رخشاں ابدالی کا مصرع “کسی کی یاد ابھی تک دلِ تباہ میں ہے” بطورِ طرح دیا گیا تھا، جس پر طبع آزمائی کرتے ہوئےجناب اقبال سعیدی، جناب ابن حسن، مولوی رائف کولا ندوی، جناب سہیل عرشی، مولوی شقران غازی ندوی، سید احمد سالک برماور ندوی، عرفان جاسر اور محمد علی کولا صاحب سمیت جناب رحمت اللہ راہی کا کلام بھی پیش کیاگیا۔

نشست میں ڈاکٹر حنیف شباب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کامیاب ادبی نشست کے انعقاد پر مسرت ظاہر کی۔

مشاعرے کے بعد ڈاکٹر عبدالحفیظ خان ندوی کو جنوبی ہند کے اردو سفرناموں پر تحقیقی مقالہ تحریر کرنے پر کوئمپو یونیوسٹی کی جانب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کیے جانے پر تہنیت پیش کی گئی۔ اس موقع پر ان کی شال پوشی کی گئی اور سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ ندوی نے اپنے تاثرات میں مختصراً اپنے علمی سفر کا تذکرہ کیا اور محفلِ شعر و ادب کی شعری و ادبی خدمات کو سراہا۔

محفل کا آغاز جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے طالب علم سید حمدان برماور کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ رات قریب 11 بجے مہمانوں کی خاطر تواضع اور مولوی شقران کے کلماتِ تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر ادب نواز سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔


Share: