وجئے پور، 12 جولائی (پریس ریلیز):رانی چنما یونیورسٹی کے پی جی سینٹر، وجئے پور میں ایم اے اردو کے آغاز اور اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ داخلوں کو یقینی بنانے کے مقصد سے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں اردو زبان و ادب کی اہمیت، اس کے تعلیمی و پیشہ ورانہ امکانات اور طلبہ کے روشن مستقبل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔
مہمانِ خصوصی کے طور پر تشریف فرما سینئر صحافی و رکن سنڈیکیٹ، رانی چنما یونیورسٹی، بیلگاوی جناب رفیع بھنڈاری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیبی، ادبی اور ثقافتی وراثت کی امین ہے۔ انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ ایم اے اردو میں داخلہ لے کر اپنے علمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو مستحکم بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اردو کے ذریعے صحافت، تدریس، تحقیق، تصنیف و تالیف، اردو ڈی ٹی پی مراکز کے قیام اور دیگر کئی شعبوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں، اس لیے اردو سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم اے جاگیردار، پرنسپل، انجمن ڈگری کالج نے رانی چنما یونیورسٹی پی جی سینٹر میں ایم اے اردو کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کے آغاز سے علاقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے طلبہ و طالبات کو تلقین کی کہ وہ اس سنہری موقع سے بھرپور استفادہ کریں، کیونکہ تعلیم ہی ترقی اور کامیابی کی بنیاد ہے۔
اس سے قبل ڈاکٹر سید علیم اللہ حسینی، صدر شعبۂ اردو نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور ایم اے اردو کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر اردو کے سرگرم کارکنان عبدالنبی جمعدار اور عشرت جہاں زیب نے اردو برادری سے اپیل کی کہ وہ اس نو قائم شدہ شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے متحد ہو کر تعاون کریں۔ اجلاس میں پروفیسر ایم اے پیرا، صدر شعبۂ ہندی، ڈاکٹر صدام مجاور اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔