ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہنگامہ آرائی کے درمیان سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 38 کرنے کا بل لوک سبھا سے منظور

ہنگامہ آرائی کے درمیان سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 38 کرنے کا بل لوک سبھا سے منظور

Mon, 03 Aug 2026 17:46:21    S O News

نئی دہلی  ، 3/اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل، 2026 بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا۔ ایوان میں اس وقت شدید ہنگامہ آرائی جاری تھی، جہاں اپوزیشن نیٹ پرچہ لیک اور رام مندر میں چندہ چوری جیسے معاملات پر احتجاج اور نعرے بازی کر رہی تھی۔

یہ بل مئی 2026 میں جاری کیے گئے سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی آرڈیننس، 2026 کی جگہ لے گا۔ بل کے قانون بننے کے بعد سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف انڈیا سمیت ججوں کی مجموعی منظور شدہ تعداد 34 سے بڑھ کر 38 ہو جائے گی۔ اس کے تحت چیف جسٹس کے علاوہ دیگر ججوں کی تعداد 33 سے بڑھا کر 37 کر دی گئی ہے۔

مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے بل پیش کرتے ہوئے مختصر ابتدائی بیان دیا۔ اس کے بعد پریزائڈنگ افسر نے اپوزیشن کے اس قانونی اعتراض پر اظہارِ خیال کی دعوت دی، جس میں آرڈیننس جاری کیے جانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ تاہم، مسلسل شور شرابے اور نعرے بازی کے باعث کوئی بامعنی بحث نہ ہو سکی۔

بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے پیش کیا گیا قانونی اعتراض صوتی ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا گیا اور بل کو رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ بل کی منظوری کے بعد لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ججوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ حکومتی اندازوں کے مطابق اس فیصلے سے زیر التوا مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی، بنچوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہوگا اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے گا۔

مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے ایوان کو بتایا کہ آزادی کے بعد 1956 میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھا کر 11 کی گئی تھی۔ اس کے بعد مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے مطابق مختلف ادوار میں اس تعداد میں اضافہ کیا جاتا رہا۔

اس سے قبل 2019 میں بھی سپریم کورٹ میں ججوں کی منظور شدہ تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس وقت چیف جسٹس کے علاوہ دیگر ججوں کی تعداد 30 سے بڑھا کر 33 کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس سمیت مجموعی تعداد 34 ہو گئی تھی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور لاکھوں زیر التوا مقدمات کے پیش نظر موجودہ ترمیم ایک ضروری قدم ہے۔ اس سے سپریم کورٹ میں مزید آئینی، دیوانی اور فوجداری بنچوں کی تشکیل ممکن ہوگی، جس کے نتیجے میں مقدمات کے جلد تصفیے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔


Share: