ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / امریکی ٹیرف سے 2.17 لاکھ کروڑ کا خسارہ، کھرگے نے مودی کی ’ٹرمپ سرکار‘ دوستی کو ٹھہرایا ذمہ دار

امریکی ٹیرف سے 2.17 لاکھ کروڑ کا خسارہ، کھرگے نے مودی کی ’ٹرمپ سرکار‘ دوستی کو ٹھہرایا ذمہ دار

Thu, 28 Aug 2025 10:35:22    S O News

نئی دہلی، 28/اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ’اب کی بار، ٹرمپ سرکار‘ والے نعرے اور خارجہ پالیسی کی ناکامی کا خمیازہ ہندوستانی کسانوں اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کھرگے نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سے ہندوستانی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صرف دس بڑے سیکٹرز میں ہی 2.17 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔

کھرگے نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ہندوستان کے کسانوں پر پڑے گا، بالخصوص کپاس کے کاشتکاروں کی حالت نہایت خراب ہوگی۔ انہوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’آپ نے کہا تھا کہ کسانوں کو بچانے کے لیے کسی بھی ذاتی قیمت کو ادا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن حقیقت میں آپ نے ان کے روزگار اور زندگیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘‘

کھرگے کے مطابق، گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (جی ٹی آر آئی) کی رپورٹ کہتی ہے کہ اس ٹیرف کے سبب ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً ایک فیصد متاثر ہو سکتا ہے، جب کہ اس سے چین کو فائدہ ہوگا۔ کھرگے نے دعویٰ کیا کہ کئی برآمدات پر مبنی صنعتوں میں بڑے پیمانے پر روزگار ختم ہونے کا اندیشہ ہے اور یہ بحران مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کو بھی بری طرح متاثر کرے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہی تقریباً پانچ لاکھ افراد کے روزگار پر براہِ راست اور بالواسطہ خطرہ منڈلا رہا ہے۔ جواہرات اور زیورات کے شعبے میں بھی ڈیڑھ سے دو لاکھ ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ سوراشٹر خطے میں ہیرا تراشی اور پالش کے کام سے جڑے تقریباً ایک لاکھ مزدور اپریل سے بے روزگار ہو چکے ہیں، جب سے امریکی حکومت نے 10 فیصد ابتدائی ٹیرف نافذ کیا تھا۔

اسی طرح جھینگا فارمنگ کرنے والے تقریباً پانچ لاکھ کسانوں اور ان سے جڑے ڈھائی ملین افراد کی زندگیوں پر بھی یہ نیا ٹیرف خطرہ بن کر آیا ہے۔ کھڑگے نے کہا، ’’ہندوستانی قومی مفاد سب سے اہم ہے لیکن وزیر اعظم کی خارجہ پالیسی میں گہرائی اور سنجیدگی کی کمی نے ہمارے معاشی مفاد کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ مودی حکومت تجارتی معاہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب برآمدات پر مبنی اہم سیکٹرز کو تحفظ دینے میں بھی ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر یہی حالات رہے تو آئندہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور معیشت میں سست روی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

کھرگے نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک تفصیلی چارٹ بھی شیئر کیا ہے جس میں مختلف برآمداتی مصنوعات، ان کی کل مالیت اور 50 فیصد ٹیرف کے تحت ہونے والے نقصان کے اعداد و شمار درج ہیں۔ اس میں ٹیکسٹائل، زیورات، چمڑے، سمندری مصنوعات، کیمیکلز، اسٹیل و ایلومینیم، زرعی مصنوعات، انجینئرنگ، شیشے اور ڈیری پروڈکٹس جیسے شعبے شامل ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ ابھی محض شروعات ہے اصل بحران اس سے کہیں بڑا ہوگا۔


Share: