بنگلورو ، 21/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ریاست میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے بڑے فیصلے کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ’’کرناٹک پبلک اسکول‘‘ (کے پی ایس) منصوبے کا باضابطہ آغاز یکم جون کو شیموگہ میں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے آج اپنی سرکاری رہائش گاہ ’’کرشنا‘‘ میں محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ آئندہ دو برسوں میں ریاست بھر کے تمام 800 کرناٹک پبلک اسکول مکمل طور پر تیار کیے جائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ہر کے پی ایس اسکول میں تقریباً 1200 طلبہ کو داخلے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جہاں ایل کے جی سے پی یو سی تک کنڑا اور انگریزی دونوں میڈیم میں ایک ہی مقام پر تعلیم دستیاب ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے اس سال 800 اسکولوں کے قیام کے لیے ٹینڈر کا عمل جلد از جلد شروع کرنے کی ہدایت بھی دی۔طلبہ کی سہولت کے پیش نظر انہوں نے کے پی ایس اسکولوں کے لیے اسکول بس نظام متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لینے اور مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ 15 ہزار اساتذہ کی تقرری سے متعلق تجویز فوری طور پر محکمۂ مالیات کو روانہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
اجلاس میں ریاست کے تعلیمی نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس سال ایس ایس ایل سی امتحانات میں کامیابی کی شرح 94.10 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.06 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح پی یو سی امتحانات میں کامیابی کی شرح 86.48 فیصد درج کی گئی، جو پچھلے سال سے 13.03 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ ایس ایس ایل سی میں 2393 اسکولوں نے سو فیصد نتائج حاصل کیے، جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد صرف 766 تھی۔ ایس سی، ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کے طلبہ کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ اس سال کسی بھی طالب علم کو گریس مارکس نہیں دیے گئے اور ایس ایس ایل سی کے لیے تیسرا اور آخری امتحانی موقع بھی نہیں رکھا جائے گا۔
تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں کے طلبہ نے اس سال شہری علاقوں کے مقابلے بہتر نتائج حاصل کیے۔ ایس ایس ایل سی امتحانات میں دیہی علاقوں کی کامیابی کی شرح 94.80 فیصد رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 93.20 فیصد درج کی گئی۔ اسی طرح پی یو سی امتحانات میں دیہی طلبہ کی کامیابی کی شرح 87.62 فیصد اور شہری طلبہ کی 85.95 فیصد رہی۔
اجلاس میں طلبہ کو مفت درسی کتابوں کے ساتھ مفت نوٹ بکس فراہم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
ریاستی وزیر تعلیم مدھو بنگارپا نے اجلاس کو بتایا کہ بہتر نتائج کے لیے ریاست بھر میں والدین اور اساتذہ کی خصوصی میٹنگز منعقد کی گئیں، مہمان اساتذہ مقرر کیے گئے، پری-فائنل امتحانات کا انعقاد کیا گیا اور اساتذہ کو مسلسل تربیت فراہم کی گئی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔