بنگلورو 28/ مئی (ایس او نیوز)ریاستی سیاست میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیوں اور شدید سیاسی بحث کے بعد بالآخر وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے معاملے پر پردہ گر گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سدارامیا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سدارامیا نے خود اس بات کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کانگریس ہائی کمان کی ہدایت پر استعفیٰ پیش کیا ہے۔
جمعرات کی دوپہر سدارامیا لوک بھون پہنچے، جہاں انہوں نے اپنا استعفیٰ نامہ گورنر کے خصوصی سیکریٹری پربھو شنکر کے حوالے کیا۔ چونکہ گورنر سرکاری دورے پر اندور گئے ہوئے تھے، اس لئے ان کی غیر موجودگی میں خصوصی سیکریٹری نے استعفیٰ وصول کیا۔
استعفیٰ پیش کرنے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا، ’’میں نے وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ گورنر بنگلورو میں موجود نہیں تھے، اس لئے میں نے ان کے سیکریٹری کو استعفیٰ نامہ سونپ دیا۔ گزشتہ روز ہائی کمان کے قائدین نے مجھے استعفیٰ دینے کی ہدایت دی تھی۔ پارٹی کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے میں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔‘‘
گزشتہ چند ہفتوں سے کانگریس کے اندر قیادت کی تبدیلی کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی تھیں۔ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو وزیراعلیٰ بنانے کے امکانات پر سیاسی حلقوں میں مسلسل قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ اسی سلسلے میں دہلی میں کانگریس ہائی کمان کی اہم میٹنگیں بھی منعقد ہوئی تھیں۔
سدارامیا کے استعفیٰ کے ساتھ ہی ریاستی کانگریس سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کے آثار نمایاں ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہائی کمان اگلے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے قبل اراکین اسمبلی کی رائے حاصل کرسکتی ہے، جبکہ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس جلد طلب کئے جانے کا امکان ہے۔
طویل سیاسی تجربہ رکھنے والے سدارامیا سوشلسٹ نظریات سے ابھر کر کرناٹک سیاست کے ایک بااثر رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے۔ وہ پسماندہ طبقات کے ایک مضبوط لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی حکومت کو گارنٹی اسکیموں کے نفاذ، سماجی بہبود کے پروگراموں اور مختلف انتظامی فیصلوں کے حوالے سے خاص شناخت حاصل ہوئی۔
ذرائع کے مطابق گورنر کے آج رات بنگلورو واپس پہنچنے کا امکان ہے، جس کے بعد استعفیٰ کی منظوری سے متعلق بقیہ رسمی کارروائیاں مکمل کی جائیں گی۔ اس پیش رفت نے ریاستی سیاست میں ایک اہم موڑ پیدا کردیا ہے اور اب اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا، یہ سوال سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔