ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ایس آئی آر تنازعہ: کرناٹک حکومت متحرک، ووٹر حقوق کے تحفظ کیلئے سخت مؤقف، سپریم کورٹ سے رجوع کا امکان

ایس آئی آر تنازعہ: کرناٹک حکومت متحرک، ووٹر حقوق کے تحفظ کیلئے سخت مؤقف، سپریم کورٹ سے رجوع کا امکان

Sat, 23 May 2026 13:29:49    S O News
ایس آئی آر تنازعہ: کرناٹک حکومت متحرک، ووٹر حقوق کے تحفظ کیلئے سخت مؤقف، سپریم کورٹ سے رجوع کا امکان

بنگلورو ، 23/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاستی وزیر برائے قانون و سیاحت ایچ کے پاٹل نے کہا ہے کہ اگر کسی بھی شہری کے حقِ رائے دہی کو غیر ضروری طور پر سلب کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اور آئینی اقدام کرے گی۔

انہوں نے بنگلورو میں منعقدہ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ریاستوں، خصوصاً مغربی بنگال میں اس عمل کے نتیجہ میں لاکھوں افراد کے ووٹنگ حقوق متاثر ہوئے ہیں، جس پر شدید اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

ایچ کے پاٹل نے کہا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور ووٹر فہرستوں کی شفافیت سمیت مختلف پہلوؤں پر مزید تفصیلی مباحث کے بعد جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی دوران ریاستی کابینہ کے اجلاس میں عوامی بہبود، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچہ اور آبپاشی سے متعلق کئی اہم تجاویز کو منظوری دی گئی۔

کابینہ نے این جی ای ایف (ہبلی) کمپنی کو دیے گئے 16 کروڑ روپے کے قرض کو ایکویٹی میں تبدیل کرنے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ یادگیر ضلع کے شاہ پور اور رائچور ضلع کے دیودرگ میں 50-50 بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ اسپتالوں کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر 38 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔

شہری صحت مراکز اور "نمّا کلینک" کے لیے ضروری لیبارٹری آلات اور طبی ساز و سامان کی خریداری پر 22 کروڑ روپے خرچ کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے بنگلورو، دھارواڑ، بیلگاوی اور بلاری کی مرکزی جیلوں کی اراضی پر انڈین آئل، ہندوستان پٹرولیم اور بھارت پٹرولیم کمپنیوں کے اشتراک سے پٹرول پمپ اور فروختی مراکز قائم کرنے کی اجازت بھی دی۔

تعلیمی شعبے میں اہم فیصلے کرتے ہوئے 32 سرکاری ٹول اینڈ ٹریننگ سینٹروں (جی ٹی ٹی سی) کے لیے 90 کروڑ روپے مالیت کی نئی مشینری خریدنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ریاست کے 53 سرکاری ڈگری کالجوں، پولی ٹیکنک اداروں اور 14 مراکزِ امتیاز کے لیے 802 کروڑ روپے کے تعلیمی آلات کی پیشگی خریداری کو بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم پسماندہ طبقات کے 500 ذہین طلبہ کو نیٹ، جے ای ای اور سی ای ٹی امتحانات کی دو سالہ رہائشی کوچنگ فراہم کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دی، جس پر تقریباً 15 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

آبپاشی اور دیہی ترقی کے شعبے میں بھی کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ رائچور ضلع میں "مٹماری ویربھدریشور لفٹ اریگیشن اسکیم" کے لیے 182.70 کروڑ روپے منظور کیے گئے، جبکہ منڈیا ضلع میں داسن کیرے جھیل کی ترقی اور برقی کاری کے کاموں کے لیے 25 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔

اسی طرح میسور ضلع میں دریائے کبنی پر ویئر (چھوٹا بند) تعمیر کرنے کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

کابینہ نے کاروار میڈیکل سائنسس انسٹی ٹیوٹ میں 100 کروڑ روپے کی لاگت سے 200 بستروں پر مشتمل سپر اسپیشلٹی اسپتال کی تعمیر کی منظوری بھی دی۔

شہری ترقیاتی منصوبوں کے تحت کنکاپور میں بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے 20 کروڑ روپے، جبکہ جوئیڈا تعلقہ میں "پرجاسودھا" عمارت کی تعمیر کے لیے 10.61 کروڑ روپے کے ترمیم شدہ تخمینے کو منظوری دی گئی۔

اجلاس میں کرناٹک ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین کے طور پر ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس پی این دیسائی کے نام کی منظوری بھی دی گئی۔

وزیر ایچ کے پاٹل نے واضح کیا کہ مانسون اجلاس کے انعقاد کی تاریخوں پر ابھی کابینہ میں کوئی تبادلۂ خیال نہیں ہوا ہے۔


Share: