بنگلورو ، 19/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)ریاستی پولیس کے سربراہ، ڈائریکٹر جنرل و انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایم اے سلیم، آئی پی ایس نے ریاست میں پولیس حراست کے دوران پیش آنے والے تشدد اور اموات کے معاملات کی تحقیقات کو زیادہ شفاف، غیرجانبدار اور مؤثر بنانے کے لیے ایک جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) جاری کیا ہے۔
یہ اہم ہدایت نامہ ان خدشات کے بعد جاری کیا گیا ہے جن میں مختلف اضلاع میں حراستی تشدد کے معاملات کی تحقیقات کے دوران بے ضابطگیوں، ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر، ناقص پنچناموں اور اہم شواہد محفوظ نہ رکھنے جیسے مسائل سامنے آئے تھے۔ ڈی جی و آئی جی پی ڈاکٹر ایم اے سلیم نے کہا کہ اکثر ایسے معاملات میں جب کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (CID) تحقیقات سنبھالتا ہے، اُس وقت تک اہم شواہد ضائع یا کمزور ہو چکے ہوتے ہیں، جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہوتی ہے۔
نئی ایس او پی کے مطابق بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) 2023 کی دفعہ 196 کے تحت پولیس حراست میں تشدد یا موت کے ہر الزام پر فوری ایف آئی آر درج کرنا لازمی ہوگا، چاہے شکایت موصول ہو یا پولیس خود نوٹس لے۔ ایف آئی آر کی نقول فوری طور پر متعلقہ یونٹ سربراہان اور اعلیٰ پولیس دفتر کو بھیجنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقات میں شفافیت برقرار رکھنے کیلئے یونٹ سربراہان کو BNSS کی دفعہ 175(1) کے تحت اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سی آئی ڈی کے باضابطہ طور پر کیس سنبھالنے تک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DySP) یا اس سے اعلیٰ افسر کو تحقیقات کی نگرانی کیلئے مقرر کریں۔
حراستی تشدد کے غیرمہلک معاملات میں مقامی پولیس کو جائے وقوعہ کا پنچنامہ BNSS کی دفعات 103 اور 185 کے تحت تیار کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیج ضبط کرنے اور متاثرہ شخص کے بیانات آڈیو و ویڈیو شکل میں ریکارڈ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایس او پی کے مطابق سی آئی ڈی افسران کیس سنبھالنے کے بعد گواہوں سے دوبارہ پوچھ گچھ کریں گے، ریکارڈ کی تصدیق کریں گے اور چارج شیٹ داخل کرنے سے قبل BNSS کی دفعہ 218 اور کرناٹک پولیس ایکٹ کی دفعہ 170 کے تحت قانونی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
پولیس حراست میں موت کے معاملات کیلئے مزید سخت ضابطے مقرر کئے گئے ہیں۔ ہدایات کے مطابق فوری طور پر مجسٹریل انکوائری شروع کی جائے گی، جبکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق پوسٹ مارٹم کی مکمل ویڈیوگرافی بھی لازمی ہوگی۔
ایس او پی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فارنسک ماہرین کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر طلب کیا جائے اور حیاتیاتی و جسمانی نمونے دو دن کے اندر فارنسک سائنس لیبارٹری (FSL) روانہ کئے جائیں۔
سی آئی ڈی ٹیموں کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ ملزم پولیس اہلکاروں یا گواہوں کی موجودگی میں جائے وقوعہ کی دوبارہ منظر کشی کریں اور فارنسک سائنس لیبارٹری و محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) کے ماہرین کی مدد سے تفصیلی خاکے تیار کریں۔
ڈی جی و آئی جی پی ڈاکٹر ایم اے سلیم نے اس بات پر زور دیا کہ جاری کردہ رہنما اصولوں پر سختی اور مکمل سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تحقیقات آزادانہ، غیرجانبدار اور شفاف انداز میں مکمل ہوں اور عوام کا پولیس و عدالتی نظام پر اعتماد مزید مستحکم ہو۔