ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / خشک سالی سے نمٹنے کے لیے کرناٹک حکومت متحرک، وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی افسران کو سخت ہدایات

خشک سالی سے نمٹنے کے لیے کرناٹک حکومت متحرک، وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی افسران کو سخت ہدایات

Mon, 20 Jul 2026 11:37:47    S O News
خشک سالی سے نمٹنے کے لیے کرناٹک حکومت متحرک، وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی افسران کو سخت ہدایات

بنگلورو، 20/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ریاست میں بارش کی شدید کمی اور خشک سالی کے خدشات کے پیشِ نظر تمام ضلع کلکٹروں، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو افسران اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ "ٹیم کرناٹک" کے جذبے کے ساتھ کام کریں اور عوام خصوصاً کسانوں کو کسی بھی قسم کی دشواری پیش نہ آنے دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت یا لاپروائی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے اتوار کے روز ودھان سودھا میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ضلع کلکٹروں اور دیگر اعلیٰ افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے اس وقت پینے کے پانی کی فراہمی، مویشیوں کے لیے چارہ، فصل بیمہ، دیہی علاقوں میں پانی کی قلت دور کرنے کے لیے بورویل کی کھدائی اور کسانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف کاغذی رپورٹیں قابلِ قبول نہیں ہوں گی بلکہ تمام اعداد و شمار کی میدانی حقائق سے جانچ کی جائے گی۔ افسران خود دیہات کا دورہ کریں، زمینی صورتحال کا جائزہ لیں اور حقیقی معلومات حکومت کو فراہم کریں۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 18 جولائی تک ریاست میں معمول کے مقابلے مجموعی طور پر 39 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ مالیناڈ خطے میں 43 فیصد، ساحلی علاقوں میں 35 فیصد، شمالی اندرونی کرناٹک میں 33 فیصد اور جنوبی اندرونی علاقوں میں 31 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی ہے۔ ریاست کے 26 اضلاع کے 158 تعلقوں میں بارش کی کمی جبکہ 20 تعلقوں میں شدید قلت ریکارڈ کی گئی ہے، جب کہ صرف 51 تعلقوں میں معمول کے مطابق بارش ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے اور اس وقت مجموعی ذخیرہ صرف 40 فیصد کے قریب ہے، اس لیے پینے کے پانی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ہر ضلع میں پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس مقصد کے لیے ہر اسمبلی حلقہ کو اضافی ایک کروڑ روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ جہاں ضرورت ہو وہاں ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی، نجی بورویل کرایہ پر لینے اور نئے بورویل کی منظوری میں شفافیت برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فرضی بورویل یا جعلی بلوں کی صورت میں متعلقہ افسران براہِ راست ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع کلکٹر، چیف ایگزیکٹیو افسران، محکمہ زراعت، دیہی ترقی، توانائی، محصولات، آبی وسائل اور مویشی پروری کے محکمے باہمی تعاون سے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ کسانوں کو دستیاب آبی ذخائر کے مطابق مناسب فصلوں کے انتخاب سے متعلق بروقت رہنمائی دی جائے اور 31 جولائی سے قبل فصل بیمہ کرانے کے بارے میں وسیع پیمانے پر بیداری پیدا کی جائے۔

وزیراعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ آئندہ 15 دن کے اندر خشک سالی سے متعلق جامع رپورٹ تیار کر کے مرکزی حکومت کو ارسال کی جائے۔ اس مقصد کے لیے تمام اضلاع میں میدانی سروے مکمل کیا جائے اور مرکزی ٹیموں کے دورے کے دوران درست اور مصدقہ معلومات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی، خراب ٹرانسفارمروں کی فوری مرمت، مویشیوں کے لیے پانی اور چارے کا انتظام، روزگار کی فراہمی، دیہی ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت دی کہ ہر ضلع میں روزانہ کی سرگرمیوں کی رپورٹ حکومت کو ارسال کی جائے تاکہ تمام ترقیاتی اور امدادی اقدامات کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اضلاع کو درکار وسائل اور مالی اختیارات فراہم کر دیے ہیں، اس کے باوجود اگر کسی ضلع میں انتظامی غفلت کے باعث عوام کو مشکلات پیش آئیں تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں نائب وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور، وزراء کے جے جارج، رام لنگا ریڈی، ایشور کھنڈرے، یتیندر سدارامیا، ریاست کی چیف سکریٹری شالنی رجنیش، وزیرِ اعلیٰ کے اقتصادی مشیر ایل کے عتیق، ایڈیشنل چیف سکریٹری تشار گریناتھ، گورو گپتا اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔


Share: