ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش؛ 37 بھارتی جہاز اور 1,109 ملاح بحران میں پھنس گئے، 10 ہزار کروڑ کے اثاثے خطرے میں

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش؛ 37 بھارتی جہاز اور 1,109 ملاح بحران میں پھنس گئے، 10 ہزار کروڑ کے اثاثے خطرے میں

Wed, 04 Mar 2026 22:27:57    S O News
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش؛ 37 بھارتی جہاز اور 1,109 ملاح بحران میں پھنس گئے، 10 ہزار کروڑ کے اثاثے خطرے میں

نئی دہلی 4/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی): ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد خلیجی خطے میں بھارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر بھارتی جہاز مالکان نے وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں سے فوری سفارتی اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کم از کم 27 سے 37 بھارتی پرچم بردار جہاز آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے سمندری علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جن پر مجموعی طور پر 1,109 بھارتی ملاح سوار ہیں۔ ان جہازوں اور کارگو کی مجموعی مالیت 10 ہزار کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو موجودہ کشیدہ حالات میں سنگین خطرے سے دوچار ہے۔

یہ پیش رفت امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آئی، جس کے ردعمل میں تہران نے اس اہم سمندری گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس برآمدات گزرتی ہیں۔ بھارت کی توانائی ضروریات کا بھی بڑا حصہ اسی راستے سے پورا ہوتا ہے۔

انڈین نیشنل شپ اونرز ایسوسی ایشن (INSA) نے حکومت کو ارسال کردہ مکتوب میں خبردار کیا ہے کہ بھارتی جہازوں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔ خط میں بتایا گیا کہ ایک بھارتی منسلک کمپنی کا ٹینکر میزائل حملے سے بال بال بچا، جب کہ ایک اور جہاز پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس پر بھارتی ملاح موجود تھے۔

سمندری نگرانی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں کی نقل و حرکت تقریباً معطل ہے اور بیشتر کارگو جہاز قریبی محفوظ بندرگاہوں یا کھلے سمندر میں لنگر انداز ہو کر انتظار کر رہے ہیں۔ کئی بھارتی جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں توانائی کے کارگو کی لوڈنگ کے لیے بھی رکے ہوئے ہیں۔

جہاز مالکان نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال طول پکڑتی ہے تو فریٹ چارجز اور انشورنس اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور بھارتی برآمدات پر بھی مرتب ہوں گے۔ وسطی ایشیائی ممالک کو بھیجی جانے والی اربوں ڈالر مالیت کی بھارتی برآمدات اس وقت بندرگاہوں اور جہازوں میں رکی ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق توانائی کے حوالے سے بھارت فوری بحران کا شکار نہیں ہے، کیونکہ ملک کے پاس کم از کم 25 دن کے خام تیل اور ریفائنڈ آئل کے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔


Share: