بھٹکل ، 25/ مئی (ایس او نیوز) کل رات کو ہوئی بھاری برسات کے بعد نیشنل ہائی وے کے کناروں والے علاقوں میں بڑی مقدار میں کیچڑ اور پانی جمع ہوگیا جس سے عوام کے لئے چلنے پھرنے اور موٹر گاڑیوں کے گزرنے میں ناقابل بیان دشواریاں پیدا ہوگئیں ۔
ہائی وے کے توسیعی منصوبے کے تحت بعض جگہوں پر سڑک کو 3-4 فٹ اونچا کر دیا گیا ہے اور برساتی پانی کی نکاسی کے لئے ضروری نالے نہیں بنائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں نشیبی حصے میں پانی اور کیچڑ اس قدر جمع ہوگیا کہ وہاں کے مکینوں کا اپنے گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ۔ اسی طرح سرکاری بس اسٹینڈ کے سامنے جہاں تعمیراتی کام جاری ہے وہاں ایک طرف سڑک اونچی کرنے کے لئے مٹی بھر دی گئی ہے تو دوسری طرف بس اسٹینڈ کے سامنے پانی کی جھیل بن گئی ۔ ایسی حالت میں بس اسٹینڈ میں آنے جانے والوں کے لئے سخت دشوار کا سامنا کرنا پڑا ۔
اس سے آگے کاماکشی پیٹرول بنک کے قریب والے علاقے میں پانی اور کیچڑ جمع ہونے کی وجہ سے وہاں پر بنے چار پانچ گھروں میں رہنے والے لوگوں کے لئے باہر نکلنے کا راستہ جیسے بند ہو گیا ۔ یہاں فوری طور پر پانی کی نکاسی کا انتظام نہیں کیا گیا تو یہ مسئلہ سنگین ہو جائے گا ۔ اسی طرح رنگین کٹے علاقے میں حالانکہ پانی کی نکاسی کے لئے نالہ بنایا گیا ہے مگر وہاں سے پانی آگے بہنے کے لئے نالوں سے جوڑا نہیں گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے ہائی وے پر بڑی مقدار میں پانی جمع ہوگیا اور موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت میں بڑی رکاوٹ کھڑی ہوگئی ۔

رنگین کٹے سے سرکاری بس اسٹینڈ تک سڑک کی جہاں دیکھو وہاں پانی اور کیچڑ کی وجہ سے ہائی وے کی جو درگت بنی ہے اس صورتحال سے پریشان عوام نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کو کوس رہے ہیں کہ آخر انہوں نے تعمیراتی کام شروع ہی کیوں کیا ہے ۔
اس علاقے کے رہنے والے جئے رام شانبھاگ نے بتایا کہ اگر رات کو ہماری نظر نہ پڑی ہوتی تو ہمارے آنگن میں رکھی ہوئی کار پانی میں ڈوب گئی ہوتی ۔ ہم نے چونکہ اسے فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا تو وہاں جمع ہونے والے پانی میں کار ڈوبنے سے بچ گئی ۔ لیکن بڑی مقدار میں گھر کے سامنے پانی جمع ہونے کی وجہ سے ہمارے لئے گھر سے باہر نکلنا ممکن نہیں ہوا ۔ ہم تین چار گھروں کے مکین جیسے اپنے ہی گھر میں قید ہو کر رہنے کی نوبت آ گئی ہے ۔ افسران کو چاہیے کہ فوری کارروائی کرتے ہوئے ہمارے گھروں کے آگے جمنے والے پانی کی نکاسی کے لئے ضروری انتظام کریں ۔
اسی طرح سٹیزن فورم کے کنوینر ستیش کمار نے بتایا کہ ہم نے اس سے قبل کئی مرتبہ تنبیہ کی تھی ۔ اگر برسات کا موسم شروع ہونے سے پہلے ہی پانی کی نکاسی کے لئے نالے تعمیر کیے جاتے آج یہ مشکل صورتحال کھڑی نہیں ہوتی ۔ ڈرینیج اور پینے کے پانی کے پائپ منتقل کیے بغیر اور برساتی پانی کی نکاسی کے لئے نالے تعمیر کیے بغیر غیر سائنٹفک طریقے سے ہائی وے کو اونچا کرکے تعمیر کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ آفت کھڑی ہوگئی ہے ۔ پچھلے کچھ دنوں سے سڑک پر ٹریفک بہت زیادہ بڑھ جانے پر پاس والی خالی جگہ سے موٹر گاڑیاں دوڑ رہی تھیں ۔ لیکن آج برسات کے بعد اس خالی جگہ پر بھی اتنا پانی جمع ہوگیا کہ وہاں سے پیدل گزرنا تو دور کی بات گاڑیاں چلانا بھی ممکن نہیں رہا ۔
انہوں نے کہا کہ سٹیزن فورم کی طرف سے جو تنبیہ کی گئی تھی اسے نظر انداز کرنے کا یہ نتیجہ سامنے آیا ہے ۔