بھٹکل 10/مئی (ایس او نیوز) کرناٹک میں برسراقتدار کانگریس حکومت کے تئیں مسلم طبقہ میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کے اظہار کے طور پر 16 مئی کو بنگلورو میں ایک عظیم الشان ’’کرناٹک مسلم کنونشن‘‘ منعقد کیا جارہا ہے، جس میں ریاست بھر کی مسلم تنظیمیں، جماعتیں، علماء تنظیمیں، فیڈریشنز اور مختلف اداروں کے ذمہ داران شریک ہوں گے۔ کنونشن میں ’’کانگریس حکومت نے کیا کہا؟ کیا کیا؟ اور آگے کیا؟‘‘ عنوان کے تحت ایک تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی جائے گی، جس میں حکومت کی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق اس رپورٹ میں کانگریس پارٹی کی جانب سے مسلمانوں سے کئے گئے دس اہم وعدوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان میں سے کتنے وعدے پورے ہوئے اور کتنے اب تک ادھورے ہیں۔ رپورٹ میں بالخصوص حجاب پر عائد پابندی کو ہٹانے، گاؤ کشی مخالف قانون کی منسوخی، ریزرویشن سے متعلق مسائل، نفرت انگیز تقاریر اور مسلم مخالف جرائم، بجٹ میں حصہ داری، سیاسی نمائندگی، وقف جائیدادوں کے معاملات، تبدیلیٔ مذہب مخالف قانون، تعلیمی وظائف اور گرانٹس جیسے حساس موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ کانگریس حکومت مسلمانوں کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کررہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کنونشن کو کرناٹک کی تقریباً تمام بڑی مسلم تنظیموں، اداروں، علماء تنظیموں، فیڈریشنز اور ’’کرناٹک راجیہ مسلم اوکوٹا‘‘ (KRMO) کی حمایت حاصل ہے۔ ریاست کے ہر ضلع سے مختلف مسلم جماعتوں، انجمنوں اور اداروں کے ذمہ داران کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم کوششیں جاری ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ 16 مئی 2026 بروز ہفتہ بنگلورو کے ٹاؤن ہال میں منعقد ہونے والے اس کنونشن میں بھٹکل سے بھی بڑی تعداد میں ذمہ داران شریک ہوں گے۔ اس سلسلے میں بھٹکل میں عنقریب ایک اہم مشاورتی اجلاس طلب کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، جس میں شرکت اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ حال ہی میں بنگلورو کے شیواجی نگر میں واقع اے جے انٹرنیشنل ہوٹل میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلم تنظیموں کے قائدین، سینئر علماء، جماعتی ذمہ داران، وکلاء، سبکدوش سرکاری افسران، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور کرناٹک راجیہ مسلم اوکوٹا کی ایڈہاک کمیٹی کے ارکان سمیت 75 سے زائد مندوبین نے شرکت کی تھی۔ اجلاس میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی جانب سے تیار کردہ تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں کانگریس حکومت کی تین سالہ کارکردگی، مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی صورتحال، سیاسی نمائندگی میں مبینہ امتیازی سلوک اور مسلم برادری کے موجودہ مطالبات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
اجلاس میں شرکاء نے رپورٹ میں شامل مختلف نکات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے متعدد تجاویز اور سفارشات بھی پیش کیں۔ خاص طور پر حجاب پابندی کو برقرار رکھنے، گاؤ کشی مخالف قانون کو منسوخ نہ کرنے اور دیگر وعدوں پر عمل نہ ہونے پر شدید ناراضگی ظاہر کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اگر حکومت اور کانگریس پارٹی کا یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو مسلم برادری کو اپنے سیاسی متبادل کھلے رکھنے پڑسکتے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ رپورٹ کو 16 مئی کے عظیم الشان عوامی کنونشن میں باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا، جس کے بعد اسے وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ، وزراء اور اراکین اسمبلی کو بھی پیش کیا جائے گا۔ تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کے ہر ضلع سے عوام اور ذمہ داران کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ حکومت اور کانگریس پارٹی کو ایک واضح پیغام دیا جاسکے۔
ذرائع کے مطابق ’’کرناٹک مسلم کنونشن‘‘ میں کسی بھی سیاستدان کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔