نئی دہلی ، 7/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے کے معاملے پر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ ششی تھرور اس وقت برلن میں ہیں اور انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کے ساتھ ہوئی ہاتھا پائی سے وہ پریشان ہیں۔ تھرور نے منگل (6 اکتوبر) کی دیر رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نئی دہلی سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی تصاویر دیکھ کر خوف زدہ ہوں، جن میں انہیں زبردستی پکڑ کر حراست میں لے جایا جا رہا ہے۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں ششی تھرور مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایسے وقت میں جب 13 کروڑ ووٹرس کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کی وجہ سے ہندوستانی جمہوریت شدید متاثر ہو رہی ہے، احتجاج کرنا ہر اس شہری کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہے جس کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا ردعمل شرمناک ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں ںے لکھا کہ ’’ 4 ماہ قبل برلن میں ہونے والی ایک کانفرنس سے کیے گئے وعدے کی وجہ سے میں صرف دور رہ کر اپنی یکجہتی کا اظہار کر سکتا ہوں۔ لیکن میرا دل یہاں ہے۔ انصاف کی جیت ہوگی!!‘‘
قابل ذکر ہے کہ انڈیا اتحاد نے منگل کو گیانیش کمار کے خلاف مارچ نکالا تھا۔ اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب روانہ ہوئے، لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی جب الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب نہیں جا سکے تو آکاش وانی بھون میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ وہ یہاں کئی گھنٹے بیٹھے رہے۔ اس کے بعد پولیس انہیں حراست میں لے کر کنگز وے کیمپ واقع نیو پولیس لائن لے گئی۔ راہل اور پرینکا کے ساتھ دیگر اراکین پارلیمنٹ کو بھی دیر رات حراست میں لیا گیا تھا۔ حالانکہ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔