نئی دہلی ، 29/ جون (ایس ا ونیوز /ایجنسی)ایودھیا کے رام مندر عطیہ چوری معاملے میں اہم انکشاف ہوا ہے۔ دراصل چوری کا معاملہ منظرعام پر آنے کے بعد ٹرسٹ کے کچھ عہدیداروں نے دہلی میں بیٹھے اعلیٰ افسران اور عہدیداران کو اس کی اطلاع دی تھی۔ وہیں سے ہدایت ملی کہ معاملے کو کسی طرح رفع دفع کرو۔ تب یہ سبھی عہدیدار خود جانچ افسر بن کر مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کرنے لگے اور رقم کی برآمدگی بھی کرنے لگے۔ جب معاملہ میڈیا میں پہنچا تو سبھی حیران رہ گئے۔ بدنامی اور شدید تنقید کے بعد پہلے ایس آئی ٹی جانچ کی سفارش کی گئی اور آخر میں مقدمہ درج کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق عطیات کی چوری 6 جون کو سامنے آئی تھی۔ ٹرسٹ اور مندر انتظامیہ سے وابستہ لوگوں نے ہی یہ کھیل پکڑا تھا۔ چونکہ رقم بڑی تھی اور ملی بھگت بھی گنتی کرنے والوں سے لے کر بڑے لوگوں کی تھی اس لیے فوری طور پر کوئی کارروائی کرنے کا فیصلہ نہیں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں سامنے آنے والے کچھ حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ ایک عہدیدار نے ٹرسٹ کے دیگر عہدیداروں اور دہلی کے افسران افسران کو اس معاملے سے آگاہ کیا۔ خبر سنتے ہی ہر کوئی ششدر رہ گیا۔ اس لیے طے ہوا کہ اس کو کسی طرح سے رفع دفع کیا جائے۔ کیونکہ اگر معاملہ باہر آیا تو بدنامی ہوگی۔ اس لیے وہیں سے پورے معاملے کو مینیج کرنے کا کھیل شروع ہوگیا تھا لیکن یہ سب کچھ کام نہیں آیا۔ آخر کار راز فاش ہو ہی گیا۔
’امر اجالا‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرسٹ کے ہی کچھ عہدیداروں کو معلوم تھا کہ عطیہ چوری کا داغ ان پر بھی لگے گا کیونکہ اس سے متعلق حقائق بھی ان کے پاس تھے، اس لیے وہ بھی چاہتے تھے کہ کسی طرح سے معاملہ ختم ہو جائے۔ جب اوپر سے ہدایات ملیں تو مزید پختہ طریقے سے یہ سبھی چوری پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ ان میں انیل مشرا اور گوپال راؤ اہم تھے۔ چمپت رائے پورے معاملے کو مینیج کر رہے تھے۔
’امر اجالا‘ کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب چوری کا پردہ فاش ہوگیا تو ٹرسٹ کے عہدیدار یہ جانچ کر رہے تھے کہ میڈیا تک خبر کس نے پہنچائی۔ ان کے اپنے ہی کئی ملازمین اور افسران پر شک تھا۔ وہ چوری کرنے والوں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کے بجائے واردات کی اطلاع مندر احاطے کے باہر کیسے پہنچی، اس پر پورا زور لگائے ہوئے تھے۔