روم /پیرس ،28/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) موسمیاتی تبدیلی اب انسانوں کے لیے جان لیوا ثابت ہورہی ہے۔ اسکینڈینیویا سے لے کر الپس تک اس وقت پورا یورپ شدید اور جان لیوا ہیٹ ویو کی زد میں ہے۔ مشرق کی طرف بڑھ رہی اس ہیٹ ویو کی وجہ سے درجنوں لوگوں کی موت ہوچکی ہے اور درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، جس کی وجہ سے جرمنی، ڈنمارک اور جمہوریہ چیک میں گرمی کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
شدید گرمی سے پیدا ہونے والے صحت کے بحران کے پیش نظر پولینڈ، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔جبکہ ریل پٹریوں اور سڑکوں کو ہونے والے قنصان سے بچانے کے لیے جرمنی میں ریل خدمات جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ برلن میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد مقامی پولیس سڑکوں پر لوگوں کو راحت دینے کے لیے واٹر کینن(پانی کی بوچھاریں) کا استعمال کر رہی ہے۔ دریں اثنا سائنس دانوں نے اس جان لیوا ہیٹ ویو کی اصل وجہ انسانی ساختہ موسمیاتی تبدیلیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کی وجہ سے رات کے وقت کا درجہ حرارت 2 دہائی پہلے کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ گرم ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
جرمن میٹرولوجیکل سروس کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے موئکرن-ڈویٹز میں 41.5 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جس نے ساربروکن میں ایک دن پہلے 41.3 ڈگری سیلسیس کا ریکارڈ توڑ دیا۔ جمہوریہ چیک میں پراگ کے شمال میں 40.9 ڈگری اور ڈنمارک کے شہر آرہس میں 37 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو 1874 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
جمعے کے روز سلوواکیہ کی راجدھانی براٹیسلاوا میں تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی جب کہ سوئٹزرلینڈ میں بھی جون کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ جرمنی کی گرین پارٹی کی سابق پارلیمانی لیڈر اور وفاقی رکن پارلیمنٹ کیٹرنگ گوئرنگ ایکارٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ یہ گرمی کوئی خوشگوار موسم نہیں بلکہ صحت کا سنگین بحران ہے۔
ماحولیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کے ذریعہ کی گئی موسمیاتی تبدیلیوں کے بغیر ایسے سنگین حالات پیدا ہونا عملی طور پر ناممکن تھا۔ موسم کی اس خطرناک تبدیلی کی وجہ سے الپس کے پہاڑی علاقوں میں بھی رات کے وقت درجہ حرارت 25.4 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں جا رہا ہے جس سے گلیشیئروں کے وجود کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
اس شدید گرمی کے اثرات اب یورپ کے توانائی اور زراعت کے شعبوں پر واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ دریائے ڈینیوب کا پانی بہت گرم ہوجانے کی وجہ سے ہنگری کے پاکس نیوکلیئر پاور پلانٹ کو اپنے ایک ری ایکٹر کی پیداوار کم کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل سوئٹزرلینڈ کے بیزناؤ نیوکلیئر پاور اسٹیشن کو بھی دریائے آرے میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے اپنے ری ایکٹرز کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا۔ اٹلی کے سب سے اہم دریائے پو کے پانی کی سطح ڈرامائی طور پر گر گئی ہے جس کی وجہ سے کھارا پانی میدانی علاقوں میں داخل ہو کر مقامی زراعت اور ماحولیاتی نظام کو تباہ کر رہا ہے۔ فرانس میں گرمی کی اس جان لیوا لہر سے بچوں اور بوڑھوں سمیت درجنوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ 40 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت نے ریل کے سفر اور بجلی کی پیداوار میں خلل ڈالا ہے، جس سے بیرونی تقریبات کو ملتوی کرنا پڑا اور اسکول کی کلاسوں کو معطل کرنا پڑا ہے